بھارت کی عسکری سرگرمیاں اور پاکستان کا دوٹوک عزم

اطلاعات کے مطابق پاک، بھارت سرحدوں پر بھارتی افواج کے اجتماع میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خبروں کے مطابق بھارتی افواج مسلسل بھاری اسلحہ سرحدوں پر منتقل کر رہی ہے۔ بھارت نے روس سے جدید ترین میزائل حاصل کر لیے ہیں جبکہ نیا ڈیفنس سسٹم بھی نصب کرنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ یہ تمام اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ بھارت آپریشن سندور کی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے بری طرح بے چین ہے اور اس کی انتہا پسند قیادت ہر قیمت پر بھارتی افواج کا حوصلہ آزمانا چاہتی ہے۔
دوسری جانب افواج پاکستان بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد بشیر چودھری نے پاک فضائیہ اور پاک نیوی کے افسران کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معرکہ حق میں بھارت کی شکست کو ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے خود سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست فاش دی اور ہمہ گیر جنگ میں مکمل طورپر ناکامی سے دوچار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان پر اس وقت بھی جنگ مسلط ہے جس کی پشت پر بھارت ہے اوروہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کی مدد سے پاکستان میں مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے۔ پاک افواج کے ترجمان کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی ایک پیغام میں واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کیا تو ہمارا جواب گزشتہ برس کی مانند محدود نہیں ہوگا۔ پاکستان اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے کسی نتیجہ تک پہنچے گا۔ جنگ بھارت شروع کرے گا لیکن اس کے اختتام کا فیصلہ پھر پاکستان کی صواب دید پر مشتمل ہوگا۔
ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے دیے گئے پیغامات سے واضح ہے کہ پاکستان کو جنگ کا کوئی خوف لاحق نہیں اور وہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ پاکستان کا حوصلہ بہت بلند ہے جو کہ کسی بھی جنگ میں کامیابی کے لیے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی کا ایک سال گزر چکا ہے۔ اس معرکے کی خاص بات یہ ہے کہ ایک برس گزر جانے کے باوجود اس کا تسلسل جاری ہے۔ بھارت ابھی تک اس جنگ میں شکست کی شرمندگی کو مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اپنے چہرے پر لگے شکست کے داغ سے نجات حاصل نہیں کر پا رہا۔ یہ جنگ بھارت نے اس خوش فہمی میں مبتلا ہوکر چھیڑی تھی کہ وہ پاکستان پر اپنی بالادستی دنیا پر ثابت کر دے گا۔ اس جنگ کے لیے بھارت نے پہلگام میں لوگوں کو خود قتل کروایا اور اس کے بعد بھارت نے پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے آپریشن سندور کے نام سے ڈرامہ رچایا جو اسی کے گلے پڑ گیا۔ معرکہ حق میں پاکستان کی افواج نے رب العزت کے فضل و کرم کے بعد اپنے بہادر جوانوں کی ہمت اور عوام کی بھرپور حمایت سے ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی جس نے خطے میں طاقت کا توازن ہی تبدیل کر دیا۔ قبل ازیں بھارت کو زعم تھا کہ وہ خطے کا اہم ترین ملک ہے اور تنازعات سمیت علاقائی معاملات سے جڑے ہر عالمی مسئلے میں وہی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے منی سپر پاور ہونے کا غرور خاک میں ملا دیا۔
بھارت اس وقت انتہا پسند برہمن جتھوں کے نرغے میں ہے۔ بنگال میں دھاندلی کے ذریعے اقتدار پر جبری قبضے نے واضح کر دیا ہے کہ انتہا پسند اور دہشت گرد جماعت آر ایس ایس اپنے سیاسی ونگ یعنی بی جے پی کے ذریعے پورے بھارتی معاشرے کو یرغما ل بنا کر ہندوتُوا کے نظریات پر عمل میں لانا چاہتی ہے۔ یہ سچائی اب واضح ہوچکی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی قیادت توسیع پسندانہ عزائم کے تحت ”اکھنڈ بھارت“ کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ”اکھنڈ بھارت“ برہمن سامراج اور انتہا پسند عناصرکا خواب ہے جس کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے اب بھارت کی مجموعی فوجی قوت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھارتی افواج میں مذہبی انتہا پسندی کے پھیلاو کی وجہ سے جوہری قوت کی حامل بھارتی ریاست اس وقت دنیا کے امن کے لیے حقیقی معنوں میں خطرہ بن چکی ہے کیوں کہ ان کے انتہا پسند نظریات کے اثرات بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے قتلِ عام، نسل کشی اور ہجوم کے تشدد کے واقعات کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔
بھارت میں انتہا پسند نظریات کی مقبولیت دراصل پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ گزشتہ برس کی ناکامی اور شکست کی ذلت کے باوجود مودی کی حکومت اپنی سپاہ کی صلاحیت اور حوصلہ آزمائی کی جرات کیوں کر سکتی ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے گزشتہ ایک سال میں جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے، جنگ، اشتعال، نفرت، مذہبی تعصب اور فتنہ و فساد پھیلانے اورمسلم کُش سوچ اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں صرف کیا ہے۔ پروپیگنڈے کے بل پر جنگ کے نتائج کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب بھارتی قیادت ایک مرتبہ پھر جنگ کا ماحول پیدا کرکے اپنا دبدبہ دکھانے اور اپنے حامیوں کی مزید بے وقوف بنانے کی فکر میں ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی حقیقت ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے عالمی قد کاٹھ اور اثرو نفوذ میں اضافہ ہوا ہے۔یہ وہ امر ہے جو بھارت کو ہضم نہیں ہورہا اور وہ انگاروں پر لوٹ پوٹ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بھارتی قیادت دراصل خطے میں ہونے والی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ بھارتی انتہاپسند قیادت کو اس پر بھی تشویش ہوگی کہ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں گوادر پورٹ اور دیگر اقتصادی راہ داریوں کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تجارتی شراکت میں منسلک ہو رہے ہیں۔ بھارتی قیادت ظاہر ہے کہ یہ کامیابیاں برداشت نہیں کر سکتی، اس لیے پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت عین قرین قیاس ہے لیکن یوںمحسوس ہوتا ہے کہ کسی بڑی جارحیت کے ارتکاب سے قبل بھارت افغانستان میں موجود اپنے دوستوں اور ایجنٹوں سے کوئی کام لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ امید ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ پر مامور ادارے، افواج پاکستان اور تما م قومی حلقے مل جل کر بھارت کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔ پاکستانی قیادت خطے میں امن کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مصالحت کے لیے پاکستانی کوششوں کی دنیا بھر میں تحسین کی جا رہی ہے۔ امن کے لیے پاکستان کے پر عزم کردار نے بھارتی پروپیگنڈے کے غبارے ہوا نکال دی ہے۔ بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں ناکام رہا ہے۔ اب وہ فریب کی نئی راہیں تلاش کر رہا ہے۔