ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے ”پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کر سکتا ہے، جسے چند روز قبل معطل کر دیا گیا تھا۔
عرب میڈٖیا کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ روز وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت کہا:میرے خیال میں پروجیکٹ فریڈم اچھا ہے لیکن میرے خیال میں ہمارے پاس یہ کام کرنے کے دوسرے طریقے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر ایران کا ردعمل سنجیدہ نہ ہوا تو ”پروجیکٹ فریڈم ”دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے، تاہم اس بار کچھ ”اضافوں” کے ساتھ شروع ہو گا۔
.@POTUS on Project Freedom: “We’ll go a different route if everything doesn’t get signed up, buttoned up… We may go back to Project Freedom if things don’t happen — but it’ll be Project Freedom Plus, meaning Project Freedom plus other things.” pic.twitter.com/QpKc78vo6p
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 8, 2026
ٹرمپ نے کہا:یہ پروجیکٹ فریڈم پلس ہوگا، یعنی پروجیکٹ فریڈم کے ساتھ مزید کچھ اقدامات بھی شامل ہوں گے۔تاہم امریکی صدر نے ان اضافی اقدامات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ یاد رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو امریکا دوبارہ ایران پر حملوں کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں ٹیکس کی وصولی، ایران نے بحری اتھارٹی قائم کرلی
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے گزشتہ جمعرات کی شب جنوبی ایران میں کئی مقامات پر حملے کیے جبکہ جمعہ کے روز اُن ایرانی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جو ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب سینٹکام نے گزشتہ اتوار آبنائے ہرمز میں ”پروجیکٹ فریڈم” آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرنا تھا۔
مزید پڑھیں:
عالمی بحری تنظیم کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کم از کم 10 ملاح ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 30 سے زائد جہاز ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ادھر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق اس وقت تقریباً 1600 تجارتی جہاز، جن پر 22 ہزار سے زائد ملاح اور ٹیکنیکل عملہ موجود ہے، سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

