اسرائیل دنیا کا سب سے بڑا اناج چور نکلا

رپورٹ: علی ہلال
فلسطینی اراضی پر قابض یہودی ریاست اسرائیل کے بارے ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق اسرائیل گندم کے بحری جہازوں کی چوری کی ”وسیع تاریخ“ رکھتا ہے۔ اسرائیل ہی کے ایک یہودی مورخ نے بھی اپنی رپورٹ میں اسے شامل کیا ہے۔اسرائیلی حکومت ماضی میں ایسے یہودی قزاقوں کو انعامات دے چکی ہے جو گندم کے جہازوں کو سمندر سے چوری کرچکے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے منگل کے روز اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایسے اناج کی کھیپ وصول کررہا ہے جو اُن کے بقول روس نے یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے ”چوری“ کیا ہے۔ زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ’مقبوضہ یوکرینی زمینوں سے چوری شدہ اناج کی خریداری کسی صورت قانونی عمل نہیں ہوسکتی۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک اور جہاز جو اس نوعیت کا اناج لے کر آیا ہے، اسرائیلی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے اور اپنی کھیپ اتارنے کی تیاری کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی حکام اس بات سے لاعلم نہیں ہو سکتے کہ کون سے جہاز ان کی بندرگاہوں پر آ رہے ہیں اور ان میں کیا سامان موجود ہے‘۔ یوکرینی صدر کے مطابق ان کا ملک ایسے افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو اس مبینہ”غیر قانونی تجارت“ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین یورپی یونین پر دباو ڈالے گا کہ وہ بھی اس معاملے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔زیلینسکی نے دعویٰ کیا کہ روس منظم انداز میں یوکرین کے عارضی طور پر مقبوضہ علاقوں سے اناج قبضے میں لے کر اسے برآمد کر رہا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرے۔
ادھر یوکرین کے وزیر خارجہ اندریہ سیبیگا نے بتایا کہ ان کی وزارت نے یوکرین میں تعینات اسرائیلی سفیر میخائل برودسکی کو طلب کیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایسے اناج کی درآمد کی اجازت دینا ”غیرقانونی تجارت“ کے مترادف ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اپنے یوکرینی ہم منصب کو بتایا کہ کیف نے اناج کی ”چوری“ کے دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک قانون کی پاسداری کرنے والا ملک ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ یوکرین کا موقف ہے کہ 2022ء کی جنگ کے بعد روس جن چار یوکرینی علاقوں اور 2014ء میں الحاق کیے گئے جزیرہ کریمیا کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، وہاں پیدا ہونے والا تمام اناج دراصل ’چوری شدہ‘ ہے۔ اس سے قبل ایک یوکرینی سفارتی ذریعے نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی جہاز ’پانورمیٹس‘ اتوار کے روز حیفا بندرگاہ پہنچا جس میں مبینہ طور پر یوکرینی اناج موجود تھا۔ اسرائیلی اخبار ہارٹس کی ایک تحقیق میں بھی کہا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل نے متعدد روسی جہازوں سے آنے والے یوکرینی اناج کی کھیپ وصول کی ہے اور بعض خریداروں نے اعتراف کیا کہ یہ اناج اسرائیل میں فروخت کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ یوکرین دنیا کے بڑے اناج پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز میں شائع ایک مضمون میں اسرائیلی کالم نگار جدعون لیوی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایسا گندم خریدنے کا معاملہ جسے اخبار کے مطابق روس نے یوکرین سے لُوٹا، دراصل ایک وسیع تر سیاسی اور اخلاقی رویے کی عکاسی کرتا ہے جس پر اسرائیل عمل پیرا ہے۔اپنے مضمون کے آغاز میں لیوی نے سوال اٹھایا کہ اسرائیل کیسے بارہا تاریخ، انصاف اور انسانیت کے غلط پہلو پر کھڑا نظر آتا ہے۔ مضمون میں مصنف نے اسرائیلی تاریخ کے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا جس میں 1969ءمیں فرانس کی بندرگاہ شیربورگ سے پانچ میزائل بردار کشتیاں حاصل کی گئیں۔ ان کے مطابق اس واقعے کو اسرائیل میں ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ اس کے قانونی اور اخلاقی پہلوو¿ں پر کم ہی سوال اٹھایا گیا۔ لیوی کے مطابق حالیہ گندم کے معاملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں قومی مفاد کے نام پر ہر اقدام کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیرخارجہ کے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصل الزام کا جواب دینے کے بجائے یوکرین پر تاخیر سے احتجاج کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ مزیدبرآں، مضمون میں اس بات پر بھی تنقید کی گئی کہ اسرائیل اپنے ناقدین پر اکثر ’یہود دشمنی‘ کا الزام عائد کرتا ہے جس سے بحث کو متاثر کیا جاتا ہے۔ مصنف نے اس طرز عمل کو ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیا۔
لیوی نے اسرائیل کی خارجہ پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ بعض سخت بین الاقوامی معاہدوں جیسے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے نظام اور اسلحہ سے متعلق معاہدوں میں شمولیت سے گریز کرتا رہا ہے۔مضمون کے اختتام پر مصنف نے اس واقعے کو ایک علیحدہ تنازعہ کے بجائے ایک بڑے سیاسی و نفسیاتی رجحان کا حصہ قرار دیا جس کے تحت اسرائیل خود کو عالمی احتساب سے بالاتر سمجھتا ہے اور بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرتا ہے۔