دنیا ایک بار پھر نئی سرد جنگ کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے مگر اس بار مقابلہ نظریات کا نہیں معیشت اور سمندری گزرگاہوں پر کنٹرول کا ہے۔ امریکا اور چین کے مابین جاری کشمکش اب کھلے میدانوں سے نکل کر ان تنگ آبی گزرگاہوں تک پہنچ چکی ہے جن سے عالمی معیشت کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ایک نئی قسم کی جنگ ہے۔ خاموش پیچیدہ اور انتہائی خطرناک۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو امریکا طویل عرصے تک دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت رہا۔ 19ویں صدی کے اختتام پر اس نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر عالمی معیشت کی قیادت سنبھالی دوسری عالمی جنگ کے بعد تو اس کی صنعتی برتری اس حد تک تھی کہ 1960ء کی دہائی میں دنیا کی کل صنعتی پیداوار کا تقریباً 36فیصد امریکا کے حصے میں آتا تھا مگر اب امریکا صنعتی اور معاشی زوال کی جانب رواں دواں ہے۔ اس وقت امریکا کا معاشی حجم 31ہزار 821ارب ڈالر ہے جبکہ چین کی اکانومی کا حجم 20ہزار 651ارب ڈالر۔ مذکورہ اعداد وشمار سے امریکا بظاہر چین سے آ گے دکھائی دیتا ہے مگر اصل مقابلہ سالانہ ترقی کا ہے جس میں چین امریکا سے آگے ہے۔ سالانہ ترقی کی شرح کے لحاظ سے صرف 2025ء میں چینی ترقی کی شرح پانچ فیصد رہی اور امریکا کی ترقی کی شرح 2.2فیصد۔ یعنی 2030ء تک چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن کر ابھرے گا۔ امریکا سمجھ چکا ہے کہ وہ اب معاشی میدان چین کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لیے اب ہدف یہ نہیں کہ چین سے آگے نکلا جائے بلکہ یہ ہے کہ چین کی رفتار کو سست کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جو طریقہ اپنایا جا رہا ہے وہ براہ راست جنگ نہیں بلکہ سپلائی لائنز کو نشانہ بنانا ہے یعنی ایسی حکمت عملی جس کے ذریعے چین کی معاشی شہ رگوں پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں حالیہ ہرمز کشیدگی سے واشنگٹن کے پالیسی سازوں کو ایک اہم سبق ملا ہے۔
جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تو دنیا کے تقریباً 20فیصد تیل کی ترسیل خطرے میں پڑ گئی۔ تیل کی قیمتیں فوری بڑھ گئیں اور عالمی منڈیاں ہل کر رہ گئیں۔ یہ واقعہ محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں تھا بلکہ امریکا کے لیے ایک لیبارٹری ثابت ہوا کہ جب امریکا نے دیکھا کہ کس طرح ایک تنگ سمندری راستے کو کنٹرول کر کے پوری عالمی معیشت کو یرغمال بنایا جاسکتا ہے اور یہ کہ کسی ملک کو شکست دینے کے لیے ہمیشہ جنگ ضروری نہیں بس اس کی سپلائی لائن کاٹ دو۔ لہٰذا یہی تصور اب چین کے خلاف ایک ممکنہ حکمت عملی کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ اگر ہرمز ایک تجربہ تھا تو آبنائے ملاکا اصل ہدف بنتی جارہی ہے۔ یہ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سمندری گزرگاہ بحرِہند کو جنوبی بحیرہ چین سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کی سب سے مصروف شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ چین کے لیے اس کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ اس کی 80فیصد سے زیادہ تیل کی درآمدات اور تقریباً 90فیصد سمندری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے اور یہی انحصار سٹرٹیجک حلقوں میں Malacca dilemma کہلاتا ہے جو چین کی کمزوری نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری سٹرٹیجک کھیل کو بے نقاب کرتی ہے۔ Malacca dilemma کی اصطلاح پہلی بار چین کے سابق صدر ہوجن تاؤ نے 2003ء میں متعارف کرائی تھی۔
امریکا اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ وہ صنعتی اور معاشی میدان میں چین کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے اب وہ خاموشی سے اس خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے اور امریکا اب ایک مکمل بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس کا حتمی ہدف چین کو سمندر میں گھیرنا ہے جس کے تحت امریکا کا انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی تعاون 2024-25ء کی مشترکہ فوجی مشقیں بالخصوص Garuda Shield جیسی مشقیں اہم ہیں۔ اس مقصد کے لیے خطے کے دیگر ممالک سے فضائی راستوں کی مانگ سمیت سکیورٹی روابط اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ملائیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ بحری نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن براہ راست قبضے کے بجائے ایک ایسا نیٹ ورک بنا رہا ہے جس کے ذریعے وہ اس اہم گزرگاہ پر اثرانداز ہوسکے۔ چین کے لیے یہ صورتحال واضح خطرہ ہے۔ بیجنگ کے لیے چار ہائی رسک زون میں آبنائے ہرمز، آبنائے ملاکا، آبنائے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین شامل ہیں۔ ایسا نہیں کہ چین اس سے بے خبر ہے اس نے بھی اس گھیراؤ یعنی Malacca dilemma کو توڑنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی ہے۔
بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت زمینی راستوں کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ سمندر پر انحصار کم کیا جاسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعے گوادر بندرگاہ کو سنکیانگ سے جوڑنے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو ملاکا کو بائی پاس کرنے کا ایک سٹرٹیجک متبادل ہے۔ میانمار کے راستے تیل اور گیس پائپ لائنز وسطی ایشیا کے ساتھ توانائی کے معاہدے روس کے ساتھ مل کر آرکٹک کے شمالی سمندری راستے پر کام اس بات کا اشارہ ہے کہ چین اس dilemma سے نکلنے کے لیے ہر ممکن راستہ تلاش کر رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بحری قوت کو بھی تیزی سے مضبوط بنارہا ہے اور جدید جنگی جہازوں اور میزائل سسٹمز کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کررہا ہے۔ اس کے پاس اب تین طیارہ بردار جہاز ہیں اور بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیرے پر فوجی اڈے قائم کر چکا ہے۔ یہ تمام صورتحال 19ویں صدی کی گریٹ گیم کی یاد دلاتی ہے جب برطانیہ اور روس وسطی ایشیا میں اثر ورسوخ کے لیے برسرِ پیکار تھے مگر آج کا کھیل مختلف ہے۔
اب میدان ہند بحرالکاہل ہے اور ہتھیار توپیں بندوقیں نہیں بلکہ بندرگاہیں سپلائی چینز اور تجارتی راستے ہیں۔ امریکا کی حکمت عملی کو بعض ماہرین گرے زون وار فیئر قرار دیتے ہیں یعنی ایسی کشمکش جو نہ مکمل جنگ ہے اور نہ مکمل امن۔ اس کے مقابلے میں چین اینٹی ایکسیس ایریا ڈینائل حکمت عملی پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد اپنے ساحلی علاقوں کو محفوظ بنانا اور حریف کی رسائی کو محدود کرنا ہے۔ نتیجتاً دنیا ایک بار پھر دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور اور پاکستان جیسے ممالک اس کشمکش کے مرکز میں آچکے ہیں۔ اگر آبنائے ملاکا میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف چین تک محدود نہیں رہیں گے پوری عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اشیا کی قلت اور مہنگائی کا طوفان دنیا بھر کو متاثر کرسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ آج ہرمز کل ملاکا صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ عالمی منظرنامہ ہے۔ امریکا کی بحری حکمت عملی اور چین کی اس کے خلاف جوابی کوششیں آنے والے دس برس کی عالمی سیاست کا رخ متعین کریں گی۔ یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں فتح صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت صبر اور جغرافیے کی بہتر سمجھ بوجھ سے حاصل ہو گی۔ اگر دنیا نے اس کشمکش کو متوازن نہ رکھا تو یہ نئی سرد جنگ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اب ملاکا اگلا امتحان ہے۔

