واشنگٹن: امریکہ کی فضائیہ نے 488 ملین ڈالر کے ایک معاہدے کے تحت نارتھروپ گرومن سسٹمز کارپوریشن کو ایف-16 ریڈار نظاموں کے لیے انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے جو اس کے غیر ملکی فوجی فروخت پروگرام کے تحت ہے اور اس میں پاکستان بھی مستفید ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ مقررہ قیمت اور غیر معینہ فراہمی، غیر معینہ مقدار پر مبنی معاہدہ ایف-16 سسٹم پروگرام آفس کے غیر ملکی فوجی فروخت پروگرام کے ساتھ ساتھ فضائیہ اور بحریہ کی ضروریات کو بھی پورا کرے گا۔
اس معاہدے میں اے پی جی-66 اور اے پی جی-68 ریڈار نظاموں کے لیے انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت شامل ہے، اس پر کام میری لینڈ کے علاقے لنٹھیکم ہائٹس میں کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ 31 مارچ 2036 تک مکمل ہو جائے گا۔
یہ معاہدہ متعدد ممالک کو غیر ملکی فوجی فروخت کے تحت خدمات فراہم کرنے سے متعلق ہے، جن میں بحرین، بیلجیئم، چلی، ڈنمارک، مصر، یونان، انڈونیشیا، عراق، اسرائیل، اردن، کوریا، مراکش، نیدرلینڈز، ناروے، عمان، پاکستان، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، تھائی لینڈ اور ترکی شامل ہیں۔
امریکی فضائیہ کے مطابق یہ معاہدہ واحد ذریعے کی بنیاد پر دیا گیا، مالی سال 2026 کے لیے فضائیہ اور بحریہ کے غیر مختص شدہ فنڈز میں سے 2,644,922 ڈالر کی رقم معاہدے کے وقت مختص کی گئی ہے۔
یوٹاہ میں واقع ہل ایئر فورس بیس کے ایئر فورس لائف سائیکل مینجمنٹ سینٹر کو اس معاہدے کا مجاز ادارہ مقرر کیا گیا ہے اور یہ معاہدہ 27 اپریل 2026 کو دیا گیا۔
یہ پیش رفت اس کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے جب امریکہ نے دسمبر 2025 میں پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے بیڑے کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کی جدید ٹیکنالوجی اور معاونتی خدمات کی فروخت کی منظوری دی تھی۔

