واشنگٹن :امریکی بحریہ کے سابق سپیشل فورسز(نیوی سیلز)کے اہلکار روبرت اونیل ، جو اسامہ بن لادن پر مہلک گولی چلانے کا دعویٰ کرتے ہیں نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں 15 سال قبل امریکا کی جانب سے کیے گئے خفیہ فوجی آپریشن کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
ایک انٹرویو میں رابرٹ اونیل نے کہا کہ سپیشل آپریشنز ٹیم کو مشن کی پہلی اطلاع اس پر عمل درآمد سے تین ہفتے قبل دی گئی تھی تاہم انہیں ہدف، ملک یا متوقع فوجی مدد کے حجم کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ منصوبے میں بن لادن کی رہائشی عمارت کے ہو بہو ماڈل پر سخت تربیت کے بعد تکنیکی طور پر تبدیل شدہ بلیک ہاک ہیلی کاپیٹروں کے ذریعے اہلکاروں کو اتارنے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔
تاہم تربیت کے دوران زیرِ بحث آنے والے بدترین منظرناموں میں سے ایک اس وقت حقیقت بن گیا جب ایک ہیلی کاپٹر احاطے کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس نے آپریشن کو اس کے ابتدائی لمحات ہی سے پیچیدہ بنا دیا۔رابرٹ اونیل نے بتایا کہ ٹیم کے ارکان اس امکان کے لیے تیار تھے کہ شاید وہ زندہ واپس نہ آئیں۔
انہوں نے کہا رات 12:30 بجے لینڈنگ کے بعد پورا آپریشن صرف نو منٹ میں مکمل ہو گیا۔ فورسز دھماکہ خیز مواد یا مسلح مزاحمت کی توقع کے ساتھ عمارت میں داخل ہوئیں۔ بن لادن کے بیٹے کے ساتھ جھڑپ کے بعد ٹیم کے ارکان اوپری منزل تک پہنچ گئے۔رابرٹ اونیل نے کہا کہ انہوں نے بن لادن کو فورا پہچان لیا اور اسالٹ رائفل سے سر میں تین گولیاں ماریں۔
انہوں نے تصدیق کی کہ بن لادن کی موت کا اعلان کوڈ ورڈ جیرونیمو کے ذریعے کیا گیا جس کے بعد ٹیم نے احاطے کے اندر سے کمپیوٹر اور انٹیلی جنس دستاویزات جمع کرنا شروع کیں۔ تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تاکہ وہ پاکستانی حکام کے ہاتھ نہ لگ سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن کا خطرناک ترین مرحلہ واپسی کا 90 منٹ کا فضائی سفر تھا جو پاکستانی حدود میں جنگی طیاروں کے ذریعے روکے جانے کے خوف میں گزرا۔
یہ خوف اس وقت تک رہا جب پائلٹ نے انہیں افغان فضائی حدود میں داخلے کی اطلاع دی اور اسے ٹیم کے ارکان نے اپنی نجات کا اصل لمحہ قرار دیا۔رابرٹ اونیل نے واحد ندامت کا اظہار اسامہ بن لادن کی موت کے بعد اسے سمندر برد کرنے پر کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس عمل نے اسے امریکیوں کے سامنے علامتی عوامی احتساب سے محروم کر دیا۔

