آپریشن سندور دوم کی بازگشت، امکانات اور خدشات

ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان کی سرحدوں سے پاکستان کے شہری علاقوں پر گولہ باری اور سرحدی محافظین پر حملوں اور دراندازی کے مختلف واقعات پے درپے پیش آئے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ افغانسان کی طالبان رجیم ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی سوچ میں ہے۔ اس قیاس کی تائید القاعدہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے اعلان سے بھی ہوتی ہے۔
دوسری جانب بھارتی افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت اور سرحدوں پر مشقوں سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت اور افغانستان ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف کسی مشترکہ اقدام کی فکر میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی قیادت آپریشن سندور دوم کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ بھارت فضائی قوت آزمانے کی بجائے بحری حربوں پر انحصار کرنا چاہتا ہے جبکہ زمینی حملہ اس کے علاوہ کیا جائے گا۔ تاحال بھارت کی جانب سے فوجی مشقوں کے علاوہ کسی اشتعال انگیزی کا ارتکاب نہیں کیا گیا۔ یہ مشقیں بھارتی پنجاب سے لے کر لداخ اور دفاعی لحاظ سے دیگر اہم مقامات میں کی جا سکتی ہیں۔ بھارت سے زیادہ بھارتی ایجنٹ پاکستان مخالف مہم جوئی کے سلسلے میں سرگرمی دکھا رہے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی قوت مضبوط، مستحکم اور مستعد ہے اور ملک کی سرحدوں پر موجود جوان ہمہ وقت اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تیار ہیں اور پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کو منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 

ایران کو عسکری و معاشی طور پر کمزور کردیا، بحالی کیلئے 20 سال لگیں گے، ٹرمپ

بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور دوم کے نام سے کسی مہم جوئی کو خار ج از قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ اس کی منطقی وجوہات بہرحال موجود ہیں۔ گزشتہ مئی میں معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی، زمینی اور فضائی جنگ میں بھارت کی تاریخی ہزیمت اور بین الاقوامی سطح پر اس کی سبکی کے اثرات آج بھی عالمی میڈیا پر دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے آپریشن سندور کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے گیارہ بھارتی جہازوں کے گرنے کی اطلاع دی ہے۔ بھارتی جہازوں کی بار بار تباہی کا ذکر نہ صرف بھارت کی بدنامی، بے عزتی اور تذلیل ہے بلکہ اس میں تحقیر کے ساتھ ساتھ طعنے کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ بھارت جوکہ معرکہ¿ حق سے پہلے علاقائی سطح پر خطے کے معاملات کا ضامن بننے کی کوشش میں تھا، پاکستان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد عالمی سطح پر اپنی حیثیت کھو بیٹھا کیوں کہ دفاعی کمزوری ثابت ہو جانے کے بعد کسی ریاست کے لیے اپنے ہی تزویراتی مفادات کا تحفظ مشکل ہو جاتا ہے کجا کہ وہ بین الاقوامی امور میں کسی کلیدی کردار کے قابل سمجھی جا سکے۔ کمزور دفاعی طاقت کے ساتھ معاشی مفادات کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے کیوں کہ ایسی ریاست کے متعلق بین الاقوامی سرمایہ کاری کی حفاظت اور معاہدوں کی پاس داری جیسے اہم معاملات میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔
بھارت کی داخلی صورت حال بھی بدامنی، تشدد، خواتین کے استحصال اور اقلیتوں پر مظالم کی وجہ سے قابلِ اطمینان نہیں ہے۔ منی پور اور دیگر ریاستو ں میں علیحدگی پسند تحریکوں کی مقبولیت سے بھی بھارت کی ساکھ بگڑ چکی ہے۔ ایسے میں بھارت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ کسی بھی طرح آپریشن سندور کی ناکامی کا داغ دھوکر خود کو ایک بالاتر طاقت کی حیثیت سے منوا لے تاکہ فوجی برتری کی دھاک بٹھا کر وہ معاشی اور دیگر تزویراتی مفادات کو محفوظ کر سکے۔ ہر چندکہ معرکہ حق میں پاکستان کی فضائی قوت نے بھارت کو دھول چٹا دی تھی اور اس کے بعد زمینی حملوں نے اس کے رہے سہے اوسان خطا کر دیے تھے لہٰذا بھارت کسی بھی مہم جوئی سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنے پر مجبور ہوگا تاہم یہ امر بھی مدنظر رکھنے کے قابل ہے کہ دشمن کو کبھی کمزور خیال نہیں کرنا چاہیے۔ بھارتی قیادت جس حد تک فریب، مکاری اور دھوکہ دہی سے کام لینے کی عادی ہے، اس کے پیشِ نظر دشمن کے کسی بھی پہلو کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ یہ امر واضح ہے کہ بھارت اس وقت افغانستان کے راستے سے ہم پر حملہ آور ہے لیکن وہ دھوکے اور فریب کا کوئی اور جال بھی پھینک سکتا ہے جیسا کہ مشرقی پاکستان کی تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے۔ یہ امر بھی خار ج از امکان نہیں کہ بھارت محض فوجی مشقوں کے ذریعے ہی اپنی دفاعی قوت کا اظہار کر کے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا چاہتا ہو لیکن وہ پاکستان کو بہرحال کسی نہ کسی صورت زک پہنچانے سے باز نہیں آئے گا جیسا کہ افغانستان میں فتنہ خوارج اور فتنہ ہند کی سرپرستی اور القاعدہ کی دھمکیوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ایک برس میں جو عالمی سطح پر جو مقام حاصل کر لیا ہے، وہ بھارت کے نزدیک کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔ بھارتی قیادت علاقائی امن کی بجائے پاکستان کو نیچا دکھا کر ہی اپنی عالمی پوزیشن کو بحال کرنا چاہتی ہے جس کے لیے وہ افغانستان ہی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورت حال کو بھی اپنے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ بدقسمتی سے چند مسلم ممالک اس مخصوص صورت حال میں بھارت اور اسرائیل کی صف میں کھڑے ہیں تاکہ پاکستان کو گوادر، سی پیک اور دیگر اقتصادی مواقع سے استفادہ کرنے سے روک سکیں۔ پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے اقتصادی مواقع کو ضائع کرنا بھارت کے تزویراتی ماہرین کے نزدیک ایک اہم ہدف ہو سکتا ہے جس کے لیے وہ آپریشن سندوم دوم یا اس کی آڑ میں کوئی بھی سازش رچا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 

طالبان رژیم کی انوکھی واردات، خوارج کی سہولت کاری چھپانے کیلئے پاکستانی سفارتکار کی طلبی

پاکستان نے اپنے تزویراتی مقاصد اور علاقائی امن کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی تاہم بعض قوتوں کی مداخلت کی وجہ سے یہ کاوش پوری طرح کامیاب نہ ہوئی۔ اب پاکستان پر ایک مرتبہ پھر جنگ مسلط کرنے کی ماحول پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ امن اور سلامتی کے لیے کی گئی کوششوں کو مکمل طورپر سبوتاژ کیا جا سکے۔ یہ امکان ہرگز بعید نہیں کہ اس مرتبہ بھارت کی پشت پر اسرائیل موجود ہو اور دنیا میں شر، فساد اور فتنہ پھیلانے والے صہیونی دہشت گرد آپریشن سندور دوم کو اپنی کامیابی سمجھ کر اس میں حصہ لے رہے ہوں۔ حالات جو بھی ہوں، اس وقت قوم کو اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے۔ افواج پاکستان نہ صر ف اپنے ملک بلکہ حرمین شریفین کی بھی محافظ ہیں اور اس کردار پر اسرائیل اور بھارت کے ساتھ ساتھ بعض مذہبی گروہ بھی شدید ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کو سب ہی سے چوکنا رہنا ہوگا۔