امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک ایران میں فتح حاصل کر چکا ہے، تاہم وہ بڑے مارجن سے جیتنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عسکری اور معاشی طور پر اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ اسے بحالی کے لیے 20 سال لگیں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق “نیوز میکس” کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ محض عسکری کامیابیاں کافی نہیں، بلکہ تہران سے اس بات کی ضمانت لینا ضروری ہے کہ وہ کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایرانی معیشت کی تباہی کا سہرا امریکی بحری محاصرے کے سر باندھا۔
مدير برنامج الدراسات الإيرانية في مركز الدراسات الإقليمية نبيل العتوم: واشنطن تلوح بضرب أسلحة دفاعية وصلت إلى إيران من الصين وروسيا ومحاولة الحرس الثوري الإيراني استغلال الهدنة لاستخراج الصواريخ وفتح الأبواب المتعلقة بالمدن الصاروخية pic.twitter.com/XNgN77TbEU
— العربية (@AlArabiya) May 1, 2026
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا (چینل 12) کے مطابق تل ابیب ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے خاتمے کی صورت میں امریکا اسرائیل کو ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملے کی اجازت دے سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاتز نے جلد دوبارہ کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔ ادھر وزیر خارجہ جدعون ساعر نے ان دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے بلکہ ان کے قول کے مطابق ایرانی نظام خود ایک بڑا خطرہ ہے۔
دریں اثنا امریکی ویب سائٹ AXIOS کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈ کوپر اور چیف آف اسٹاف نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئے ممکنہ فوجی منصوبوں پر 45 منٹ تک تفصیلی بریفنگ دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں مزید سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

