بھارت میں انتخابات کا موسم ہے اور اس بار مغربی بنگال سے آنے والی خبریں محض ہار جیت کا قصہ نہیں، بلکہ ایک ایسی انسانی اور سیاسی المیہ کی داستان سنا رہی ہیں جس نے بھارت کی نام نہاد سیکولر جمہوریت کا پول کھول دیا ہے۔ اس کے اندر موجود تضادات پوری طرح آشکار ہوگئے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے، جب ہم ایک دوست کے ساتھ بیٹھے علاقائی سیاست پر گفتگو کر رہے تھے، تو بات مغربی بنگال، انڈیا کے حالیہ الیکشن کی طرف نکل گئی۔ یہ صاحب خود کو سیکولر کہلانا پسند کرتے ہیں اور اس طرح کے اینٹی انڈیا نہیں جیسا کہ پاکستان میں عمومی سوچ ہے۔ وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ سیاست اپنی جگہ لیکن جو کچھ اس بار بنگال میں ہو رہا ہے، وہ تو انسانی حقوق کی کھلی پامالی ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کچھ اور ہے۔
میں نے سوچا کہ کیوں نہ آج اسی موضوع پر کچھ بات کی جائے، کیونکہ جو کچھ ہمارے پڑوس میں ہو رہا ہے، اس کے اثرات سے ہم بھی بے خبر نہیں رہ سکتے۔ مغربی بنگال کی سیاست ہمیشہ سے ہنگامہ خیز رہی ہے، لیکن 2026کا یہ انتخاب اپنی نوعیت کا انوکھا اور تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ممتا بنرجی پندرہ سال سے یہاں کی چیف منسٹر چلی آ رہی ہیں۔ وہ ایک ایسی لیڈر ہیں جنہوں نے زمین سے اٹھ کر سیاست کی اور ”ما، ماٹی، مانش” یعنی ماں، مٹی اور انسان کا نعرہ لگا کر دہائیوں سے یہاں جمی بائیں بازو کی سیاست کا خاتمہ کیا۔ لیکن اس بار ان کا مقابلہ محض ایک سیاسی جماعت سے نہیں، بلکہ اس ”ہندوتوا” نظریے سے ہے جو بھارت کے طول و عرض میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے۔ آپ ذرا اس صورتحال کا تصور کریں کہ ایک شخص کئی دہائیوں سے ایک جگہ رہ رہا ہو، اس کے باپ دادا کی قبریں وہیں ہوں، اس نے وہیں کے اسکولوں میں تعلیم پائی ہو اور وہ ہر الیکشن میں ووٹ ڈالتا رہا ہو، لیکن اچانک ایک صبح اسے پتہ چلے کہ اس کا نام ووٹر لسٹ سے غائب کر دیا گیا ہے۔ یہ صرف ووٹ نہ ڈالنے کی بات نہیں بلکہ دراصل اس کی اپنی شناخت ہی ختم ہوگئی۔ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا مقصد یہ ہوا کہ وہ مشکوک ہے اور اس کی بھارتی شہریت ہی خطرے میں پڑ گئی۔
مغربی بنگال میں اس بار ایک محتاط اندازے کے مطابق کئی ملین ووٹروں کے نام خارج کئے گئے، بعض جگہوں پر تو نوے لاکھ سے بھی زیادہ بتائے گئے ہیں، ان میں پینتس چالیس فیصد مسلمان ووٹر ہیں جبکہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں لگتا ہے باقاعدہ ٹارگٹ کر کے ہزاروں لاکھوں مسلم ووٹروں کو بیک جنبش قلم ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ مرشدآباد میں چار لاکھ پچپن ہزار نام کاٹے گئے، مالدہ میں دو لاکھ انتالیس ہزاراور پھر مرشد آباد کے حلقے ”جنگی پور” کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھا، لیکن راتوں رات اسے ہندو اکثریتی بنا دیا گیا۔ کیسے؟ الیکشن کمیشن نے ایک سے زیادہ کمزور، لنگڑے لولے عذر بنا کر ہزاروں ووٹروں کے نام لسٹ سے خارج کر دیے۔ صرف جنگی پور میں 36ہزار سے زائد نام کاٹے گئے، جن میں سے 32ہزار سے زائد صرف مسلمان تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو ہندو مسلم تناسب کل تک 46اور 54کا تھا، وہ بدل کر 52اور 48پر آ گیا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا الٹ پھیر نہیں یہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے جس کا مقصد ایک پوری کمیونٹی کو سیاسی طور پر بے دخل کرنا ہے۔
ریاست بھر میں اب تک کئی ملین مسلم ووٹروں کے نام خارج کئے گئے ہیں۔ بی جے پی کی قیادت اسے ”بنگلہ دیشی دراندازوں”کی صفائی قرار دے کر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مہم کی آڑ میں ان محبِ وطن ہندوستانی مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو نسلوں سے اس مٹی کا حصہ ہیں۔ یہ بی جے پی کا وہ انتہا پسندانہ ہندوتوا ایجنڈا ہے جس کا مقصد بھارت کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے جہاں اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ جائیں۔ مودی جی اور ان کے ساتھیوں نے جس طرح نفرت کی سیاست کو ہوا دی ہے، اس نے عام مسلمان کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ کبھی ہجوم کے ہاتھوں قتل (موب لنچنگ)، کبھی حجاب کا مسئلہ اور کبھی اذان پر پابندی۔ بھارت میں مسلمان آج ایک ایسے خوف کے سائے میں جی رہا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی بہت اہم ہے، اور وہ ہے مسلمانوں کا ردِعمل۔ جب آپ کسی کو دیوار سے لگا دیتے ہیں، تو اس کے پاس واپس پلٹ کر شدید ردعمل دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ مغربی بنگال کے مسلم اکثریتی علاقوں میں اس بار جو ریکارڈ ٹرن آٹ دیکھنے میں آیا ہے، وہ دراصل ایک خاموش احتجاج ہے، ایک احتجاجی نعرہ، ایک غصیلی چیخ ہے جو بیلٹ پیپر کے ذریعے نکلی ہے۔ مرشد آباد، مالدہ اور بیربھوم میں ووٹنگ کا تناسب 98فیصد تک پہنچ جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ایسا کسی فیئر الیکشن میں شاید پہلی بار ہوا ہو۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان اب سمجھ چکا ہے کہ اگر وہ آج گھر سے نہ نکلا تو کل اس کے پاس گھر ہی نہیں بچے گا۔ وہ بوڑھے جو چل نہیں سکتے تھے، وہ خواتین جو پردے میں تھیں، سب نے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا تاکہ اپنی موجودگی کا احساس دلائیں اور ان قوتوں کو بتائیں کہ تم ہمارا نام لسٹ سے تو نکال سکتے ہو، لیکن ہماری ہستی کو مٹا نہیں سکتے۔
ویسٹ بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے لیے بھی یہ الیکشن زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ پندرہ سالہ اقتدار کے بعد حکومت مخالف لہرہونا ایک فطری امر ہے، لیکن ان کی ”لکشمی بھنڈار”جیسی فلاحی اسکیموں نے انہیں غریب طبقے اور خواتین میں آج بھی مقبول رکھا ہوا ہے۔ ان کی کامیابی کا راز محض سیاسی چالاکی نہیں، بلکہ ایک مضبوط گراس روٹ کنکشن ہے۔ انہوں نے خود کو بنگال کی بیٹی کے طور پر پیش کیا، اور اس شناخت کو برقرار رکھا۔
ممتا بنرجی کے ناقدین بھی کم نہیں۔ کرپشن کے الزامات، سیاسی تشدد، اور انتظامی کمزوریاں، یہ سب ان کے دامن سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ آج بھی بی جے پی کے مقابلے میں سب سے مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہندوتوا کے بیانیے کا مقابلہ بنگالی شناخت سے کیا۔ یعنی مذہبی تقسیم کے مقابلے میں ثقافتی وحدت۔ کانگریس کا اس بار ممتا بنرجی کے خلاف اپنے طور پر تنہا الیکشن لڑنا ایک ایسا فیکٹر ہے جو بی جے پی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ بی جے پی نے اس الیکشن میں اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ نریندر مودی کی متعدد ریلیاں، جارحانہ تقاریر، اور مسلسل ایک ہی بیانیہ دراندازی، قومی سلامتی، ترقی، یہ سب ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ بی جے پی جانتی ہے کہ ویسٹ بنگال میں کامیابی اسے مشرقی بھارت میں ایک مضبوط بنیاد دے سکتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ کامیابی کسی بھی قیمت پر حاصل کی جائے گی؟اگر ووٹر لسٹوں سے نام نکالنا، خوف کی فضا پیدا کرنا، اور مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانا اس حکمت عملی کا حصہ ہے، تو پھر یہ صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں رہتا، بلکہ جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بن جاتا ہے، جمہوریت اور سیکولرازم کے ساتھ ایک بھیانک، بھونڈا مذاق۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ انتخابات بھارت کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ کیا بھارت ایک ایسا ملک رہے گا جہاں تمام مذاہب کے لوگ برابری کی بنیاد پر رہ سکیں، یا وہ ایک ایسی ”ہندو راشٹرا”کی طرف بڑھ جائے گا جہاں اقلیتوں کو صرف زندہ رہنے کا حق ہوگا، شہری ہونے کا نہیں؟ مغربی بنگال میں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹوں سے نکالنا دراصل اسی بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ آج بھارت میں انصاف مفقود نظر آتا ہے۔ مودی سرکار کی نفرت انگیز پالیسیوں نے سماج میں جو زہر گھولا ہے، اس نے انسانی رشتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ بنگال کا مسلمان آج صرف ایک ووٹ نہیں دے رہا، وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ مسلمان ووٹرز نے جس طرح ریکارڈ ٹرن آٹ کے ذریعے جواب دیا، وہ محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے۔ ایک خاموش، مگر طاقتور پیغام۔ یہ خاموشی ٹوٹ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارت کی سیاست اس آواز کو سنے گی، یا اسے مزید دبانے کی کوشش کرے گی۔ کیونکہ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ووٹ مزاحمت بن جائے، تو پھر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں رہتا۔ خدا کرے کہ انسانیت کی جیت ہو اور کسی کا حق اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے نہ چھینا جائے۔

