سوڈان کی خونریز خانہ جنگی چوتھے سال میں داخل

رپورٹ: علی ہلال
اِس وقت جب دنیا روس یوکرائن ، غزہ اور امریکا ایران جنگ پر توجہ مرکوز کئے ہوئی ہے ایسے میں افریقہ کے مشرق میں بحر احمر کے کنارے واقع اہم عرب اسلامی ملک سوڈان میں جاری خانہ جنگی چوتھے برس میں داخل ہوگئی ہے۔ جنگ کی تباہ کاریاں ، نقل مکانی اور بھوک وپیاس اپنی جگہ لیکن اس جنگ کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ عالمی و علاقائی منظر نامے پر اب تک صلح یا جنگ بندی کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آرہا ہے۔ ایسی کوئی کوشش یونہی رہی جس سے سوڈانی عوام کے دلوں میں امید کی کرن پیدا ہو۔
15 اپریل 2026ء کوسوڈان میں جاری جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو گئی ہے جہاں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔ اس تین سالہ تنازع نے ملک کو شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے جس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ افراد جاںبحق جبکہ 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ 2 کروڑ سے زیادہ افراد کو طبی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 2 کروڑ 10 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ انہیں کھیتوں، بازاروں یا پانی لاتے وقت جنسی تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کی سربراہی میں چلنے والے گھرانوں کو خوراک کی قلت کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق اپریل 2023ء سے اکتوبر 2025ء کے درمیان 1800 سے زائد ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر واقعات کا الزام ریپڈ سپورٹ فورسز پر عائد کیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک صحت کے مراکز پر 200 سے زائد حملے ہو چکے ہیں جن میں 1800 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ملک کے تقریباً 37 فیصد طبی مراکز بند ہوچکے ہیں جس سے لاکھوں افراد بنیادی علاج سے محروم ہیں۔

حالیہ 3 سالہ تنازعے کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں

جنگ کے باعث 80 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ کئی اسکول تباہ ہو گئے یا انہیں پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کچھ علاقوں میں صرف 3 فیصد اسکول ہی کھلے ہیں جبکہ اساتذہ کو تنخواہیں نہ ملنے کے باعث نظام تعلیم تباہی کے دہانے پر ہے۔جنگ کے بعد بیروزگاری کی شرح 32 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ 50 لاکھ سے زائد افراد اپنا روزگار کھو چکے ہیں۔ ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور غیررسمی شعبہ دارالحکومت خرطوم کی معیشت کا بڑا حصہ بن چکا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان میں غربت کی شرح بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ جنگ سے پہلے یہ شرح 38 فیصد تھی۔ ہر چار میں سے ایک سوڈانی شہری شدید غربت میں زندگی گزار رہا ہے اور روزانہ دو ڈالر سے بھی کم آمدنی رکھتا ہے۔ سوڈان کی یہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کر رہی ہے بلکہ ملک کے سماجی، تعلیمی اور معاشی ڈھانچے کو بھی مکمل طور پر تباہ کر رہی ہے۔تین سالہ طویل جنگ کے بعد سوڈان کی موجودہ صورتحال میں کوئی مثبت تبدیلی دکھائی نہیں دیتی بلکہ تباہی کا دائرہ مزید وسیع اور بحران کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ تنازع کے اثرات روزمرہ زندگی کے ہر پہلو اور بقا کے بنیادی وسائل تک پھیل چکے ہیں۔ جنگ کے چوتھے سال میں داخل ہوتے ہوئے سوڈانی عوام کی امیدیں مدھم ہیں؛ایک طرف معمولی سی بھی کوشش سے جنگ رکنے یا اس کی شدت کم ہونے کی توقع اور دوسری جانب اس خدشے میں اضافہ کہ آنے والا وقت مزید سنگین اور تاریک ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کے آس پاس چھوٹی ایرانی کشتیاں بحری بیڑوں کیلئے خطرناک کیوں ہیں؟
سوڈان کا بحران عالمی برادری کی خاموشی کے سائے میں جاری ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران بین الاقوامی برادری زیادہ تر ایک تماشائی کے کردار میں نظر آئی، بجائے اس کے کہ وہ سنجیدگی سے اس بحران کو حل کرنے یا کسی ٹھوس پیش رفت کے لیے اقدامات کرتی۔ عالمی سطح پر ردعمل زیادہ تر مذمتی بیانات، سفارتی اپیلوں اور زبانی انتباہات تک محدود رہا جو زمینی حقائق پر کوئی نمایاں اثر ڈالنے میں ناکام رہے۔ صورتحال مزید پیچیدہ اُس وقت ہوئی جب سوڈانی حکومت کی جانب سے بعض قوتوں پر ملیشیا گروہوں کی حمایت اور سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے الزامات اور شواہد پیش کیے گئے مگر اس کے باوجود کوئی فیصلہ کن اقدام یا ان کرداروں کا سنجیدہ جائزہ سامنے نہ آ سکا۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ انہی متنازع قوتوں کو بعض ایسے فورمز اور کمیٹیوں میں شامل رکھا گیا ہے جو بظاہر جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال عالمی سطح پر سنجیدہ ارادے کی کمی یا پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
سیاسی بے حسی کے ساتھ ساتھ میڈیا کی توجہ میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ دیگر عالمی تنازعات خصوصاً غزہ کی جنگ اور ایران سے متعلق کشیدگی نے بین الاقوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی جس کے باعث سوڈان کا بحران پس منظر میں چلا گیا۔ یوں دنیا کی بدترین انسانی المیوں میں سے ایک ہونے کے باوجود سوڈانی عوام کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل رپورٹس سامنے آرہی ہیں تاہم یہ کوششیں عالمی ضمیر کو موثر انداز میں جھنجھوڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سوڈان کا بحران عالمی طاقتوں کے مفادات سے براہ راست نہیں جڑتا جس کے باعث انسانی ہمدردی کے مقابلے میں سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مایوسی کے اس ماحول کے باوجود کچھ حلقے بین الاقوامی کوششوں سے محدود پیش رفت کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سوڈان سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جو جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر اس بحران کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی ایک کوشش ہے۔یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی کوشش نہیں، اس سے قبل 2024ء میں پیرس اور 2025ءمیں لندن میں بھی اسی نوعیت کے اجلاس ہو چکے ہیں۔ تاہم بعض مبصرین کے مطابق برلن کانفرنس میں بین الاقوامی شرکت اور سیاسی دلچسپی نسبتاً زیادہ ہے جو اسے کسی حد تک موثر بنا سکتی ہے خصوصاً انسانی امداد اور سیاسی ترجیحات کے تعین کے حوالے سے۔
مزید پڑھیں:ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملہ کیسے ہوا؟ دیکھیے ویڈیو
کانفرنس میں عالمی و علاقائی تنظیموں، یورپی یونین، افریقی یونین، ”ایگاد“ اور عرب لیگ سمیت مختلف فریقوں کی شرکت متوقع ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مالی وسائل کو متحرک کرنا، امدادی سرگرمیوں کو بہتر بنانا اور شہریوں پر جنگ کے اثرات کو کم کرنا ہے۔تاہم اس کانفرنس سے وابستہ امیدوں کے ساتھ کئی خدشات بھی موجود ہیں خاص طور پر اس بات پر کہ بحران کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ناقدین کے مطابق جب تک مسلح گروہوں کو ملنے والی بیرونی مدد بند نہیں ہوتی اس نوعیت کی کانفرنسیں محض رسمی کارروائیاں ثابت ہوں گی۔ یوں سوڈان جنگ کے چوتھے سال میں بھی کسی واضح سیاسی حل، جامع حکمت عملی یا مسئلے کی بنیادی تشخیص کے بغیر داخل ہو چکا ہے جبکہ بحران بدستور گہرا ہوتا جارہا ہے۔