بوسنیا کے”قصاب” پر فالج کا حملہ، حالت بگڑ گئی

برسلز:دی ہیگ میں عمر قید کاٹنے والے بوسنیائی سرب جنگی مجرم راٹکو ملادچ کو فالج کادورہ پڑا ہے اور اس کی صحت کی حالت بگڑ گئی ہے۔ملادچ کے بیٹے ڈارکو ملادچ نے بوسنیائی سرب سرکاری ٹیلی ویژن کے لئے انٹرویو میں کہا ہے کہ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ایک ڈاکٹر نے انہیں ان کے والد کی صحت کے حوالے سے ابتدائی معلومات فراہم کی ہیں۔

ڈارکو ملادچ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر کے خیال میں یہ ایک ہلکا سا فالج تھا۔اس کے بعد میرے والد کو ایک سرکاری ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ڈارکو کے مطابق ان کے والد کی حالت روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا اور کہا ہے کہ ہم ابھی تک دی ہیگ سے طبی دستاویزات کے منتظر ہیں تاکہ سربیا کے ڈاکٹر ان کا معائنہ کر سکیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے 81 سالہ والد کو علاج کے لیے سربیا جانے کی اجازت دی جائے گی۔ملادچ 16 سال تک مفرور رہنے کے بعد 2011 میں سربیا سے گرفتار ہو گیا تھا۔ 1990 کی دہائی میں جنگ بوسنیا کے دوران مسلمان بوسنیائی باشندوں کے خلاف نسل کشی اور جنگی جرائم کے ارتکاب پر، 2017 میں سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل نے ملادچ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔