میانمار سے بے دخل کئے گئے 22 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو سعودی عرب کے کہنے پر بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے بنگلہ دیشی پاسپورٹ جاری کردیئے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حوالے سے بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد کا کہنا تھا کہ جو لوگ بنگلہ دیش سے قانونی طریقے سے سعودی عرب روزگار کے لیے گئے ہیں، انہیں ہم نے پاسپورٹ دیا ہے تاکہ وہ وہاں بہتر طریقے سے رہ سکیں۔
دوسری جانب سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اب بھی بنگلہ دیش سے گئے 69 ہزار روہنگیا پناہ گزین ان کے یہاں بغیر پاسپورٹ کے مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش میں سعودی عرب کے سفیر نے ان سب کے لیے فوری طور پر پاسپورٹ کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مملکت میں تقریباً ایک لاکھ روہنگیا شہری بنگلہ دیش کے ذریعے گئے تھے۔ بغیر پاسپورٹ ان سب کی نگرانی سعودی عرب کے لیے آسان نہیں ہے۔
مملکت کی خواہش ہے کہ ان سب کے پاس قانونی دستاویزات ہوں تاکہ انہیں پورے ملک میں آسانی سے ٹریس کیا جا سکے اور وہ بھی بہتر طریقے سے کام کر سکیں۔
مملکت کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر ابھی بنگلہ دیش انہیں پاسپورٹ نہیں دیتا تو مستقبل میں انہیں واپس بھیجنا مشکل ہو سکتا ہے۔

