کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت نہم و دہم جماعت کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا جس میں 18 ٹانز کے 521 مراکز پر تقریبا 3 لاکھ 85 ہزار سے زائد طلبہ شریک ہوئے۔ میٹرک بورڈ کے امتحانات دو شفٹوں میں منعقد ہوئے، جس کے لیے سیکورٹی سخت جبکہ 51 ویجیلنس ٹیمیں نقل کی روک تھام کے لیے متحرک ہیں تاہم ڈائریکٹر سیکنڈری اسکولزنے مراکز کے قیام اور گنجائش سے زائد طلبہ بٹھانے کی ذمہ داری بورڈ پر عائد کی۔
دوسری جانب آل سندھ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے ناقص منصوبہ بندی، سافٹ ویئر مسائل اور آخری وقت میں مراکز کے تعین پر تحفظات کا اظہار کیا۔کئی امتحانی مراکز پر سہولیات کی کمی، پنکھوں کی خرابی، فرنیچر کی قلت اور لوڈشیڈنگ کی شکایات سامنے آئیں، کئی سینٹرز میں بچے زمین پر بیٹھ کر پرچہ دینے پر مجبور ہوئے جس سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مقامات پر نقل کے واقعات اور سیکورٹی خدشات بھی رپورٹ ہوئے۔
صبح کی شفٹ میں دسویں جماعت کا کمپیوٹر سائنس جبکہ دوپہر میں جنرل سائنس کا پرچہ لیا گیا۔ ہر پرچے کا دورانیہ تین گھنٹے رکھا گیا صبح کا وقت ساڑھے 9 بجے سے ساڑھے 12 بجے جبکہ دوپہر کی شفٹ ڈھائی سے ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی۔بورڈ انتظامیہ کی جانب سے امتحانی پرچوں کی ترسیل کے لیے 25 حب سینٹرز قائم کیے گئے اور سخت سیکورٹی کے تحت پرچے مراکز تک پہنچائے گئے، جبکہ نقل کی روک تھام کے لیے خصوصی 51 ویجیلنس ٹیمیں بھی تعینات کی گئیں اور امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
امتحانات کے پہلے روز ناظم آباد میں پائلٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں قائم امتحانی مرکز کا دورہ کرتے ہوئے چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سہو نے میڈیا سے گفتگو میں دعوی کیا کہ امتحانات پرامن ماحول میں جاری ہیں اور انتظامات تسلی بخش ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بورڈ کے مانیٹرنگ روم سے پرچوں کی ترسیل کی مسلسل نگرانی کی گئی اور 51 ویجیلنس ٹیمیں مختلف مراکز پر کام کر رہی ہیں۔ طالبات نے بھی امتحانی ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا اور پرچے کو روایتی سے مختلف مگر بہتر قرار دیا۔
تاہم چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی جانب سے مختلف وجوہات پیش کرنے کے باعث وہاں امتحانی مراکز کی تعداد کم رکھی گئی جبکہ کئی اسکولوں میں فرنیچر کی کمی بھی مسائل کا سبب بنی۔انہوں نے کہا بجلی اور پانی کی فراہمی بھی ہے تمام امتحانی مراکز میں سہولیات موجود ہیں۔ نقل کی روک تھام کے لیے واٹس ایپ گروپس پر بھی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے پرچے امتحانی مراکز منتقلی کے دوران بھی ہم ویڈیو کال پر نگرانی کرتے رہے ڈائریکٹر اسکولز نے جو امتحانی مراکز کی لسٹ دی ان کے مطابق امتحانی مرکز بنائے۔
آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے بھی امتحانی انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مراکز کا آخری وقت تک تعین، سافٹ ویئر کی خرابی، اور فارم جمع کرانے کے نظام میں مسائل نے لاکھوں طلبہ کو ذہنی دبا کا شکار کیا۔تنظیم کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ کسی بھی امتحانی مرکز پر امتحان دینے کی اجازت دینا بورڈ کی ناقص تیاری کا ثبوت ہے اور چھوٹے مراکز میں بڑی تعداد میں طلبہ کو بٹھانا درست نہیں ہے اس سے نقل آسانی سے کی جاسکتی ہے۔
امتحانات کے دوران مختلف مراکز پر سہولیات کی کمی سامنے آئی۔ ملیر کے ایک گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول میں کئی کلاسوں میں پنکھے موجود نہیں تھے جس کے باعث طلبہ شدید گرمی میں امتحان دینے پر مجبور رہے جبکہ بعض علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی شکایات بھی سامنے آئیں حالانکہ کے الیکٹرک سے لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
طلبہ نے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا تاہم کچھ امتحانی مراکز میں فرنیچر کی عدم دستیابی کے باعث طالبات نے شدید گرمی میں نیچے دریاں بچھا کر پرچہ کیا۔ پیپر دیتے ہوئے طالبات کو شدید مشکلات پیش آئیں ذہنی اذیت کا شکار ہوئیں۔

