کزن کے گھر سے واپسی پر رات کے سائے گہرے ہوچکے تھے۔ سڑکوں پر ٹریفک کم اور ہوا میں خنکی معمولی سی بڑھ گئی تھی۔ گھڑی کی سوئیاں بارہ کے قریب پہنچ رہی تھیں کہ اچانک ہمارے میاں محترم صاحب کو یاد آیا کہ بائک میں پیٹرول تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ رفتار کچھ تیز کی اور جی سیون اسلام آباد کی روشن شاہراہ سے گزرتے ہوئے ایک پیٹرول پمپ کی طرف رخ کیا۔
دُور ہی سے شور کی ایک مدھم سی لہر سنائی دی جو قریب آتے آتے ایک ہنگامے میں بدل گئی۔ لوگ جمع تھے، گاڑیوں کی لمبی قطاریں، ہارن کی آوازیں اور درمیان میں بحث و تکرار۔ معلوم ہوا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا ہے اور لوگ پرانی قیمت پر پیٹرول حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ”جلدی کرو، پمپ بند ہونے والا ہے!“…. ”یہ مالکان جان بوجھ کر دیر کر رہے ہیں، نئی قیمت لگنے دیں گے پھر کھولیں گے!“ یہ اور اس سے ملتی جلی آوازیں سماعت سے ٹکرائیں۔ فضا میں بے چینی گھل چکی تھی۔ ہر شخص اپنے فائدے کی فکر میں تھا۔ کچھ لوگ گاڑیوں سے اُتر کر آگے بڑھنے کی کوشش کررہے تھے، کچھ بحث میں الجھے ہوئے تھے۔ ہم بھی اس بھیڑ میں شامل ہو گئے۔ کئی منٹ کی دھکم پیل کے بعد بمشکل ایک لیٹر پیٹرول مل سکا۔ اس مختصر سی ”کامیابی“ میں بھی عجیب سی تھکن شامل تھی، جیسے کسی بڑی جنگ سے لوٹے ہوں….!!
یہ بھی پڑھیں: مدارس میں تعلیم کا آغاز اور نئے اساتذہ!
گھر کی طرف واپسی پر سڑکیں خاموش تھیں مگر میرے ذہن میں شور باقی تھا۔ رات گئے جب موبائل دیکھا تو یونیورسٹی کی سہیلیوں کے اسٹیٹس، واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر ایک ہی موضوع چھایا ہوا تھا: مہنگائی، شکایات، طنز اور مایوسی…. ”پیٹرول بم گرا دیا‘، ”اب کیا ہوگا؟”، ”حکومت نے عوام کا جینا حرام کردیا“۔ ہر طرف یہی جملے تھے۔ میں بھی سوچ رہی تھی کہ واقعی پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا مطلب ہے ہر چیز مہنگی ہونا، سفر مشکل ہونا، روزمرہ زندگی کا مزید بوجھ بن جانا۔ یہ ایک حقیقت تھی جس سے انکار ممکن نہ تھا…. مگر انہی خیالات کے درمیان ایک اور سوال ذہن میں اُبھرنے لگا۔ سوچنے لگی کہ بچپن سے آج تک ہم نے کتنی ہی آزمائشیں دیکھیں؛ کبھی مہنگائی، کبھی بے روزگاری، کبھی قدرتی آفات، کبھی معاشرتی بے سکونی۔ ہر بار ہم نے وجہ باہر تلاش کی اور حکومت، نظام، حالات کا رونا رویا۔ لیکن کیا کبھی ہم نے خود کو بھی دیکھا؟ کیا ہماری زندگیوں میں کوئی کمی نہیں؟ کیا ہم نے اپنے رویوں، اپنے اعمال، اپنی ترجیحات کا جائزہ لیا….؟
مزید پڑھیں: بارش کی بوندیں اور خیالات کا وہ نورانی سفر
حقیقت یہ ہے کہ ان مصائب و مشکلات کے اخلاقی اور روحانی اسباب بھی ہوتے ہیں۔ جب معاشرے میں دیانت کم ہوجائے، وعدہ خلافی عام ہوجائے، حقوق العباد پامال ہوں اور ہم چھوٹے مفادات کے لیے اُصول قربان کرنے لگیں تو اس کے اثرات بھی اجتماعی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ حکومتوں کی نااہلیاں اپنی جگہ مگر یہ مصائب دراصل ہمارے اعمالِ بد کا عکس ہیں اور یہی بداعمالیاں رفتہ رفتہ مشکلات اور آزمائشوں کی صورت میں ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ مصائب و مشکلات کو صرف بیرونی عوامل سے جوڑ دینا آسان ہے، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ گناہ انسان کی زندگی میں بے برکتی اور آزمائشوں کا سبب بنتے ہیں۔ جب انسان اپنے رب سے دور ہوتا ہے تو سکون چھن جاتا ہے اور مسائل بڑھتے محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے میں سب سے اہم راستہ رجوع الیٰ اللہ کا ہے۔ اگر ہم اپنے اندر سچائی، امانت، صبر اور شکر پیدا کریں، اپنی کوتاہیوں پر توبہ کریں اور دل سے اللہ کی طرف پلٹ آئیں تو حالات کا بوجھ بھی ہلکا ہونے لگتا ہے۔
آپ ذرا خود سے پوچھیے کہ اِن سب حالات کے باوجود، کہ کچھ عرصہ قبل کورونا کی وبا، سیلاب، زلزلے اور باربار کی جنگیں، ہم کس قدر اللہ کی طرف لوٹے….؟ ہماری نمازوں میں کتنا خشوع پیدا ہوا، تلاوتِ قرآن کا کتنا اہتمام بڑھا، گناہوں سے کتنی حقیقی دوری نصیب ہوئی اور کس حد تک ہم نے سچے دل سے توبہ کرکے ربِّ کریم سے معافیاں مانگیں….؟ اگر ہر شخص اپنے دل کی عدالت میں یہ سوال رکھے تو اکثر جواب خاموشی اور نفی میں ہی ملے گا۔ آج اصل ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم اپنے دِلوں کو ایمان، تقویٰ اور رجوع الیٰ اللہ کی روشنی سے آباد کریں، کیونکہ جب فرد اپنے باطن کو سنوارتا ہے تو معاشرہ بھی بدلنے لگتا ہے۔ یہ آزمائشیں شاید ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے آتی ہیں، تاکہ ہم اپنی غفلتوں کا جائزہ لیں اور اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ جب نیتیں خالص ہوں، کردار مہکنے لگیں اور انسان گناہوں سے توبہ کرکے اللہ کی دہلیز پر جھک جائیں تو مصائب بھی رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں اور یہی رجوع الیٰ اللہ زندگی میں حقیقی اُمید، سکون اور بہتری کی مضبوط بنیاد بن جاتا ہے۔ مصائب و مشکلات کے اِس دور میں بارگارہِ ایزدی میں التجا ہے کہ اللہ ربُّ العزت ہمازی زبانوں کو اپنے ذکرِ مبارک اور دِلوں کو سکون سے بھر دیں۔ آمین! (اقصیٰ مریم)

