نمازِ فجر اور ذکر و اَذکار کے بعد جب میں طلوعِ شمس کی نرم آہٹوں کی منتظر بالکونی تک آئی تو خنکی کا ایک لطیف احساس میرے وجود سے ٹکرا کر جیسے روح کے دریچوں تک کو کھول گیا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں یوں لمس کررہی تھیں گویا کسی شفقت بھرے ہاتھ نے تھکے دل کو سہلا دیا ہو۔ میں آہستہ آہستہ ٹیرس کے کونے تک آئی، گرِل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ یکایک بارش کی چھما چھم پھوار نے میرا اِستقبال کیا۔ اِسلام آباد میں رخصت ہوتے موسمِ بہار کی یہ بوندیں جیسے آسمان کی طرف سے نازل ہونے والی خاموش دعائیں تھیں، جو دل کی وادیوں میں اُترتی چلی جارہی تھیں۔
اِسی لمحے خیال کی ایک روشن کرن مجھے کہیں اور لے گئی…. یوں محسوس ہوا جیسے میں مدینة الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پُرنور گلیوں میں ہوں؛ برہنہ پا…. دھیرے دھیرے…. ادب کے قدموں سے چلتی، سرجھکائے، دل کو سنبھالے ہر گلی میں سکون کا بسیرا تھا اور ہر موڑ پر محبت کی مہک بکھری ہوئی تھی۔ میں کبھی ان تنگ کوچوں میں داخل ہوتی جہاں دیواریں صدیوں کی عقیدت اپنے اندر سموئے کھڑی تھیں، کبھی کسی کشادہ صحن کے کنارے رُک کر اپنے دل کی دھڑکنوں کو سنتی جو دُرودِ پاک کی لَے میں ڈھلتی محسوس ہوتیں۔ ہوا میں عجب سی لطافت تھی، جیسے ہر جھونکا سلام بن کر گزرتا ہو۔ دُور کہیں سے مسجد نبوی کی اذان کی مدھم سی صدا اُبھرتی اور میں اپنی نم آنکھیں بے اختیار بند کرلیتی…. یوں لگتا جیسے یہ آواز میرا بلاوا ہو!
کبھی محسوس ہوتا کہ میں سبز گنبد کی سمت بڑھ رہی ہوں، دل کی دھڑکن قدموں سے آگے دوڑ رہی ہے، سانسیں بوجھل ہورہی ہیں اور آنکھیں اشکبار۔ کبھی میں اُن راستوں میں ٹھہر جاتی جہاں سے گزر کر عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آرزوں کو زمین پر بکھیر دیا تھا۔ مجھے لگتا جیسے اس خاک میں ان کے سجدوں کی حرارت اب بھی باقی ہے۔ کہیں خاموشی میں دُرود کی سرگوشیاں تھیں، کہیں زائرین کی دھیمی دھیمی قدموں کی چاپ، کہیں عقیدت سے جھکے ہوئے سر، کہیں نم آنکھوں میں چھپی ہوئی صدائیں۔ میں ایک گلی سے دوسری گلی میں جاتی، پھر پلٹ کر اُسی راہ پر آتی، جیسے دل اس نورانی فضا کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو۔ ہر موڑ پر مجھے یوں لگتا کہ ابھی کسی در سے ’مرحبا یازائر‘ کی صدا آئے گی اور میں اشکوں میں ڈوب جاوں گی۔ کبھی میں تصور میں مسجدِنبوی کے صحن کے کنارے بیٹھ جاتی، سنگِ مرمر کی ٹھنڈک کو اپنے وجود میں اُترتا محسوس کرتی، کبھی دیوار سے ٹیک لگا کر دل کے اضطراب کو سکون میں بدلتے دیکھتی۔ ہر قدم پر طمانیت تھی، ہر سانس میں محبت کا سُرور۔ میرا دل کبھی روضہ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور میں جھک جاتا، کبھی گلیوں کی خاک کو آنکھوں سے لگانے کو بے تاب ہو اُٹھتا۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موجیں میرے اندر ابھرتی رہیں اور میں کبھی ایک گلی میں، کبھی دوسری گلی میں خود کو کھوتی اور پاتی رہی۔ وہاں نہ کوئی اضطراب تھا نہ بے چینی…. بس سکون تھا، سُرور تھا اور ایک ایسی خاموشی جو ذکرِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز تھی، جیسے روح نے اپنی اصل پناہ گاہ پا لی ہو۔
پھر بارش کا ایک زوردار قطرہ میری ناک پر پڑا تو خیالوں کا وہ نورانی سفر تھم گیا….!! ذہن کو حاضر کیا تو دیکھا کہ میں شہرِاقتدار میں اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑی ہوں۔ بارش اب بھی برس رہی تھی، مگر دل میں مدینہ کی وہی خوشبو باقی تھی۔ میں مسکرا دی کہ شاید یہ بوندیں بھی اسی شہرِمقدس کی طرف سے بھیجا ہوا ایک پیغام تھیں، جو دل کو پھر سے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھیگا گئیں اور میں دیر تک اسی بھیگی ہوئی کیفیت میں کھڑی رہی۔ فداک ابی و اُمی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (اقصیٰ مریم۔اسلام آباد )

