مدارس میں تعلیم کا آغاز اور نئے اساتذہ!

(مضمون: خلیل الرحمن ربانی)
ملک بھر کے دینی مدارس میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی کئی فاضل و فاصلات، علماء و عالمات تدریس کے میدان میں قدم رکھیں گے۔
تدریس کی راہ میں رکھا جانے والا یہ قدم بظاہر معمولی سا محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ملازمت کا آغاز نہیں بلکہ ایک عظیم امانت کا قبول کرنا ہے۔ کیونکہ مدرسہ صرف علم دینے کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی کا کارخانہ ہے اور اُستاد اس کارخانے کا معمار ہوتا ہے۔پہلا سال نئے استاد کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب وہ اپنی شناخت بناتا ہے۔ ضروری ہے کہ نیا اُستاد و معلّم یا معلمہ غیرمعمولی محنت کو شعار بنائے۔اس لحاظ سے سبق کی تیاری سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے، یہ محض کتاب دیکھ لینے کا نام نہیں بلکہ موضوع کا بالاستیعاب مطالعہ، ہر سبق کو سمجھنا، اُس کے نکات کو واضح کرنا، مثالیں سوچنا اور طلبہ کی سطح کے مطابق اُسے آسان بنانا اصل محنت ہے۔ تجربہ و مشاہدہ ہے کہ جو اُستاد پہلے سال محنت کرتا ہے بعد کے سال اُس کے لیے آسان ہوجاتے ہیں اور جو ابتدا میں غفلت کرے وہ ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔
٭….طلبہ سے ہم آہنگی بھی تدریس کا اہم ستون ہے۔ اُستاد اگر صرف رعب سے کلاس کو سنبھالنا چاہے تو وقتی سکون تو مل سکتا ہے مگر دلوں میں جگہ نہیں بنتی۔ بہترین اُستاد وہ ہے جو وقار کے ساتھ شفقت کو بھی جمع کرے۔ طلبہ کے نام یاد رکھنا، اُن کی صلاحیتوں کو پہچاننا، کمزور طلبہ کو حوصلہ دینا اور ذہین طلبہ کی رہنمائی کرنا ، یہ سب وہ عوامل ہیں جو کلاس کو زندہ اور فعال بناتے ہیں۔
٭….نئے اُستاد کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مدرسہ صرف نصاب پڑھانے کا نام نہیں بلکہ ماحول سازی بھی ہے۔ طلبہ اُستاد کے الفاظ سے زیادہ اُس کے انداز کو دیکھتے ہیں۔ اس کی نماز کی پابندی، اس کا اخلاق، اس کا نرم لہجہ، اس کا وقت کی پابندی کرنا، یہ سب خاموش نصاب ہیں جو دلوں پر نقش ہوجاتے ہیں۔ اگر اُستاد خود دینی ماحول کا نمونہ بن جائے تو تربیت خودبخود ہونے لگتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارش کی بوندیں اور خیالات کا وہ نورانی سفر
٭…. طلبہ کے مزاج کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہر طالب علم ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی تیز فہم ہوتا ہے، کوئی بتدریج سمجھتا ہے، کوئی شرمیلا ہوتا ہے، کوئی زیادہ سوال کرنے والا۔ کامیاب اُستاد وہ ہے جو ان سب کو ساتھ لے کر چلے۔ سختی وہاں ہو جہاں ضرورت ہو مگر اس میں بھی خیرخواہی جھلکنی چاہیے۔ بڑے کہتے ہیں کہ نصیحت میں محبت ہو تو اثر کرتی ہے اور ’محض ڈانٹ‘ وقتی خاموشی تو دے دیتی ہے مگر دلوں میں فاصلے پیدا کردیتی ہے اور اس سب کے ساتھ سب سے اہم چیز …. اللہ سے مانگنا ہے۔ یہ دینی علوم ہیں، یہاں تدریس صرف ذہانت سے کامیاب نہیں ہوتی، اس میں برکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُستاد جب ہر صبح یہ دعا کرے کہ ”یااللہ! مجھے اپنے بندوں کی صحیح رہنمائی کی توفیق عطا فرما، میرے علم میں اخلاص دے اور میری زبان میں تاثیر دے“ تو اس کی باتوں میں نور پیدا ہوجاتا ہے۔
٭…. نئے اُستاد کو چاہیے کہ وہ اپنے پہلے سال کو عبادت و خدمت سمجھ کر گزارے۔ ہر سبق ایک امانت ہے، ہر طالب علم ایک ذمہ داری ہے اور ہر دن ایک موقع ہے۔ اگر ابتدا اخلاص، محنت اور دعا کے ساتھ ہو جائے تو یہ سفر نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ یادگار بھی بن جاتا ہے۔
معزز اساتذہ کرام یاد رکھیے! آپ صرف کتاب نہیں پڑھا رہے، آپ نسل بنا رہے ہیں۔ آپ صرف سبق نہیں دے رہے، آپ مستقبل لکھ رہے ہیں۔ آپ وحی کے نورانی علم کے امین ہیں؛ وہ علم جو سینہ بسینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک منتقل ہوتا آیا ہے۔ اسی نسبت نے آپ کے منصب کو محض تدریس سے بلند کرکے امانتِ نبوت کی خدمت بنا دیا ہے۔ جب آپ درس دیتے ہیں تو دراصل صدیوں کی ایک مقدس روایت کو آگے بڑھاتے ہیں، اس لیے آپ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے اور آپ کی اہمیت بھی۔ آپ کے الفاظ میں صرف معلومات نہیں بلکہ ایک تسلسلِ ہدایت کی جھلک ہوتی ہے اور آپ کی محنت دراصل اُسی نور کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اِس لیے اس عظیم عمل کو مقدس فریضہ سمجھ کر ادا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو قبول فرمائے، آپ کے علم میں برکت دے، آپ کو اخلاص عطا فرمائے اور آپ کو اُن خوش نصیب اساتذہ میں شامل فرمائے جن کے شاگرد اُن کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں۔ آمین!