لاہور:ملک بھر میں کئی ادویات کی قیمتوں میں10سے100فیصد سے زائد تک کا اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے جبکہ عام شہریوں خاص طورپر دائمی مریضوں کیلئے علاج جاری رکھنا دشوارہوچکاہے ۔
رپورٹس کے مطابق اینٹی بائیوٹکس، پین کلرز، شوگر و بلڈ پریشر، معدے ، السر، بواسیر، الرجی، جلدی امراض اور کھانسی سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد ادویات مہنگی ہو چکی ہیں۔ بواسیر کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی کریم ٹرونولین کی قیمت 85 روپے سے بڑھ کر 290 روپے تک پہنچ گئی ہے ۔
دماغی امراض کی دوا ڈپریکیپ کی قیمت 900 روپے سے بڑھا کر 999 روپے کر دی گئی جبکہ طاقت کی دوا سینگوبیان 300 سے بڑھ کر 330 روپے میں فروخت ہو رہی ہے ۔ اسی طرح اینٹی بائیوٹک دوا نوویڈیٹ کی قیمت 430 سے بڑھ کر 445 روپے اور سیفکس ڈی بی کی قیمت 410 سے بڑھا کر 530 روپے کر دی گئی ہے ۔
معدے کی دوا اینٹامیزول سیرپ 135 سے بڑھ کر 150 روپے جبکہ آنکھوں کے قطرے میتھاکلور 87 سے بڑھ کر 102 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ بی وی ڈوکس کی قیمت بھی 500 سے بڑھا کر 600 روپے کر دی گئی ہے۔
سٹروسوڈا، ٹایوور، سربیکس زی، لائسومائٹ لوشن، میٹس، ڈپریکیپ، کیریسیف، سیفکس، ازیٹما، ایسی فائل اور گیٹرل سمیت متعدد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا ہے ۔ماہرین کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوامی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔
دوسری جانب کرونک مریضوں کیلئے علاج جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جو کسی بڑے صحت کے بحران کو جنم دے سکتا ہے ۔ صدر ڈرگ لائر فورم نور مہر نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے ، قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے ۔

