پاکستان کو کمزور کرنا عالم اسلام کے ساتھ غداری

افغان طالبان کی طورخم اور تیراہ میں پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ، پاکستانی سیکورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرکے خاموش کرا دیا۔ وزیراعظم کے ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی نے کہا کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور علاقائی سا لمیت کے دفاع کیلئے پرعزم ہے۔ دوسری طرف کوہاٹ میں پولیس موبائل پر فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 5 اہلکار اور دو شہری شہید ہوگئے۔ دریں اثناء گزشتہ روزکرک میںخوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا کے زخمیوں کو زندہ جلادیاتھا۔آگ میں جلا کر شہید کیے جانے والے فیڈرل کانسٹیبلری کے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے مقامی تھے۔

طورخم اور تیراہ کے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور اس کے جواب میں پاکستانی فورسز کی کارروائی ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ افغانستان وقت کے ساتھ پاکستان کیلئے شدید دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ وزیرِاعظم کے ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی کا یہ بیان کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا، اس بدلتی ہوئی حکمتِ عملی کا عکاس ہے جس کے تحت پاکستان اب محض احتجاج اور سفارتی بیانات تک محدود رہنے کو تیار نہیں اور افغان عبوری حکومت اور دنیا کو بتا کر ہی سرحد پار کارروائیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ صورتحال اس قدر گمبھیر ہوچکی ہے کہ معاملہ صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہا۔ کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ، جس میں ڈی ایس پی سمیت پانچ اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے اور کرک میں زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس کو نذرِ آتش کرنے جیسے سفاکانہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے تئیں پاکستان کا موقف بے دلیل نہیں ہے۔ یہ امر واضح ہے کہ دہشت گردی کی ایسی منظم لہر محض وقتی یا مقامی نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ منظم، مربوط اور سرحد پار سہولت کاری کا ہی نتیجہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں پے درپے حملے اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش اس امر کی غماز ہیں کہ پاکستان کی داخلی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام کو منصوبہ بندی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان دشمن عناصر کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے۔ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں اب کوئی خفیہ راز نہیں رہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ طالبان حکومت کی لاعلمی میں ہو رہا ہے؟ یا خاموش رضامندی اور سہولت کاری کا نتیجہ ہے؟ اگر لاعلمی والی بات ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طالبان ملک سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں اور اگر حکومتی سرپرستی میں یہ سب ہو رہا ہے تو اس کیلئے افغانستان کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ دوحہ معاہدے کے بعد جب طالبان دوبارہ کابل میں برسرِاقتدار آئے تو پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر ان کی حمایت کی بلکہ ان کی حکومت کی عالمی سطح پر مشروعیت کیلئے بھی کوششیں کیں۔ پاکستان نے انہیں پلیٹ فارم فراہم کیا، دنیا سے روابط کے دروازے کھولنے میں سہولت دی اور ہر ممکن تعاون کیا۔ توقع یہ تھی کہ نئی افغان حکومت اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، جیسا کہ بین الاقوامی وعدوں میں بھی شامل تھا، مگر جلد ہی یہ امیدیں خاک میں مل گئیں اور سرحد پار دراندازی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ابتدا میں پاکستان نے صبر و تحمل سے کام لیا۔ سفارتی وفود بھیجے، عسکری اور انٹیلی جنس سطح پر رابطے کیے، برادر مسلم ممالک کو بیچ میں ڈالا، مگر افسوس ان تمام کوششوں کے باوجود افغان رجیم ”زمین جنبد، زمان جنبد، نہ جنبد گل محمد” ہی ثابت ہوئی اور ہو رہی ہے۔ امن کی کوششوں کے باوجود در اندازی رکی، نہ دہشت گردی کے مراکز ختم ہوئے، نہ ہی پاکستان کے تحفظات کا ازالہ ہوا۔ یہ صورتحال نہ صرف سنگین بلکہ افسوسناک بھی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمِ اسلام مجموعی طور پر سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ فلسطین سے لے کر ایران تک مسلمانوں کو درپیش مسائل اتحاد و اتفاق کا تقاضا کرتے ہیں، نہ کہ باہمی محاذ آرائی کا، مگر بدقسمتی سے افغان رجیم کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔

پاکستان اپنی فوجی صلاحیت، ایٹمی قوت اور سفارتی اہمیت کے باعث عالمِ اسلام میں ایک کلیدی مقام رکھتا ہے۔ ایسے میں افغانستان سے پاکستان کو کمزور اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش عالم اسلام کی پشت پر چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ بہرکیف اگر افغانستان کی سرزمین سے حملے جاری رہیں، سرحدی چوکیاں نشانہ بنتی رہیں اور داخلی سلامتی کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہے تو پاکستان کے پاس سخت ردعمل کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پاکستان کی پالیسی کو جارحیت قرار دینا درست نہیں۔ یہ ایک دفاعی اقدام ہے جس کا مقصد افغانستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ حملہ آور دہشت گردوں کا خاتمہ ہے۔ افغان حکومت نہ انہیں روکتی ہے اور نہ ہی ان کیخلاف کارروائی کرتی ہے، تو ایسے میں خود کارروائی کرنا پاکستان کی مجبوری ہوگی۔ افغانستان کو اگر اس پر اعتراض ہے تو اسے اس مسئلے کا حل بھی نکالنا چاہیے۔

اس تمام صورتحال میں سات ارب ڈالر مالیت کے اس جدید اور خطرناک ترین امریکی اسلحہ کاکردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو امریکا نے انخلا کے دوران افغانستان میں چھوڑا۔ انہی امریکی ہتھیاروں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کو تقویت دی ہوئی ہے، جس سے آئے دن پاکستان کے فوجی افسران، اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو اس امریکی اسلحے کا معاملہ بھی عالمی فورمز پر اٹھانا ہوگا۔ ساتھ ہی طالبان حکومت کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔ اگر وہ واقعی ایک ذمہ دار ریاست بننے کی خواہاں ہے تو اسے اپنی سرزمین پاکستان یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔ مبہم بیانات اس مسئلے کا حل نہیں۔ عملی اقدامات، دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس کارروائی اور سرحدی نظم و ضبط کی سختی ہی مسائل کا حل ہے۔ حکومت پاکستان کو بھی اس معاملے میں اپنی حکمتِ عملی منظم کرنا ہوگی۔ دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کے ساتھ سفارتی محاذ پر سرگرمی، برادر مسلم ممالک اور علاقائی طاقتوں کو اعتماد میں لینا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ صرف جوابی کارروائی سے معاملات سلجھنے والے نہیں۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ یہ بحران مزید گمبھیر صورت اختیار کر لے گا۔