پولیس اہلکارکا بیٹے سمیت قتل،اغوا 3سرکاری اہلکاروں کی لاشیں برآمد

پشاور:خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار کا زخمی بیٹا بھی دوران علاج چل بسا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقاراحمد کے مطابق7 سالہ محمد طلحہ کو شدید زخمی حالت میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج جانبر نہ ہوسکا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شام علاقہ سلطان خیل میں نامعلوم دہشت گردوں نے حجرے کے سامنے موجود پولیس سپاہی سفیر خان اور ان کے 7 سالہ بیٹے پر فائرنگ کی تھی، فائرنگ سے دونوں باپ بیٹا شدید زخمی ہوگئے تھے۔

وقاراحمد نے مزید بتایا کہ دونوں زخمیوں کو فوری طورپراسپتال منتقل کیا تھا تاہم پہلے پولیس اہلکار سفیرخان اور پھر انکا بیٹا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، واقعے کا مقدمہ تھانہ لنڈی کوتل میں نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب بنوں سے اغوا ہونے والے تینوں سرکاری اہل کاروں کی لاشیں مل گئیں جو آپس میں سگے بھائی تھے۔ایس ایچ او کینٹ بنوں کے مطابق تھانہ کینٹ کی حدود میں نماز کے دوران تین بھائیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا، تینوں بھائی سوکڑی حسن خیل میں نماز کی ادائیگی کے لیے گئے تھے۔

بنوں پولیس کے مطابق تینوں بھائی سرکاری ملازمین ہیں۔ سعید اختر کمشنر آفس، امجد خان پولیس اور حضرت اللہ کمشنر اسکواڈ پولیس میں ملازم تھا۔پولیس حکام کے مطابق 10 سے 12 دہشت گردوں نے تینوں کو اغوا کرلیا تھا،ڈی آئی جی بنوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے، خارجی و داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں کر دی گئیں۔

سوکڑی کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے جبکہ شہید پولیس اہلکار بھائیوں کی نمازجنازہ ادا کردی گئی۔ نمازِجنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔آر پی او بنوں سجاد خان، ڈپٹی کمشنر فہیم اللہ سمیت اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

افسران نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی۔ آر پی او سجاد خان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔۔

ادھرابابیل اسکواڈ پر دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے4پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائنز باجوڑ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔باجوڑ پولیس کے مطابق 25 فروری کوابابیل اسکواڈ کی گشتی پارٹی پر دہشت گردوں نے گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کانسٹیبل یار زادہ، داد خان، عمران اور سراج شہید جبکہ ارشاد خان اور عزیز الرحمن زخمی ہو گئے۔

زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، نمازِ جنازہ میں کمانڈنٹ باجوڑ اسکائوٹس، ڈپٹی کمشنر، ایس پی انوسٹی گیشن، پولیس و سول افسران، عمائدین علاقہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔