غزہ/تل ابیب/جنیوا:عبرانی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے اندر ان طریقوں پر غوروخوض جاری ہے جن کے ذریعے غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کے منصوبوں سے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ میں ایک بین الاقوامی سول انتظامیہ کے قیام کے تصورات پیش کیے جا رہے ہیں۔
تل ابیب ان بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ایک سنہری معاشی موقع قرار دے رہا ہے تاکہ اس وسیع تباہی سے فائدہ اٹھایا جا سکے جو اس نے اپنی حالیہ وحشیانہ جنگ کے ذریعے غزہ میں پھیلائی ہے۔
اخبار نے بتایا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیلی وزارتِ خزانہ کے حکام، قابض فوج کے افسران اور جنوبی قابض اسرائیل کے قصبے کریات غات میں قائم امریکی فوجی و سول رابطہ ڈائریکٹوریٹ کے نمائندوں کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
ان ملاقاتوں کا محور غزہ کی پٹی کے اندر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عمل درآمد کرنا تھا۔اخبار کے مطابق ان منصوبوں میں غزہ کے اطراف نئی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے جس کا مقصد معاشی منافع حاصل کرنا ہے۔
تعمیرِ نو میں حصہ لینے والے وہ ممالک جو قابض اسرائیل کے اندر کی سڑکیں استعمال کرنا چاہیں گے انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ اسرائیل کی اپنی سڑکوں کی ترقی میں بھی سرمایہ کاری کریں، جن میں شاہراہ نمبر 232 بھی شامل ہے جو غلافِ غزہ کے علاقے سے گزرتی ہے اور اسرائیلی حکومت نے اسے مرمت کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
ہارٹز نے واضح کیا کہ یہ سڑکیں مستقبل میں فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان نقل و حرکت یا فلسطینی مزدوروں کی قابض اسرائیل کے اندر آمد و رفت کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں اگرچہ فی الوقت ایسا کوئی انتظام موجود نہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے نفاذ کی توقع ہے۔
جہاں تعمیرِ نو میں شامل ممالک غزہ کو توانائی فراہم کرنے کے لیے مصر میں بجلی گھر بنانے یا غزہ کے اندر ایک بڑا پاور اسٹیشن قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں، وہیں قابض اسرائیل کا خیال ہے کہ دوسرا آپشن غزہ کا انتظام سنبھالنے والے اداروں کو خود مختاری دے سکتا ہے جس کا فائدہ حماس کو پہنچنے کا اسے خوف ہے۔
اخبار کے مطابق غزہ میں مچائی گئی بدترین سفاکیت اور تباہی کے باوجود قابض اسرائیل بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو بالخصوص بجلی کے شعبے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ وہ امداد دینے والے ممالک سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ عسقلان شہر میں واقع بجلی گھر کی توسیع میں سرمایہ کاری کریں جس کا براہِ راست فائدہ گرد و نواح کی اسرائیلی بستیوں اور شہروں کو بجلی کی فراہمی میں بہتری کی صورت میں ملے گا۔
امریکی فوج کے قائم کردہ کریات غات رابطہ مرکز میں 28 ممالک کے نمائندے شامل ہیں اور وہاں غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق چھ ورکنگ گروپس کام کر رہے ہیں۔ ان گروپس میں بین الاقوامی استحکام فورس، سیکورٹی فورس، انٹیلی جنس فورس، انسانی امداد کی اتھارٹی،سول ڈائریکٹوریٹ اور انجینئرنگ حکام شامل ہیں جبکہ ہر گروپ میں ایک اسرائیلی نمائندہ بھی موجود ہے۔
اخبار نے اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل نے ان کوششوں میں ترکیہ اور قطر کی شرکت نہ کرنے کی شرط رکھی ہے حالانکہ اسرائیلی فوج کے اندر یہ ادراک موجود ہے کہ تعمیرِ نو کے منصوبوں میں شامل ممالک کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہوگا۔
قابض فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت سے رفح شہر کے شمال مشرق میں ایک رہائشی بستی کے قیام کا کام شروع کرنے کی منظوری دی ہے جس میں غزہ کے تقریبا ً25 ہزار باشندوں کی گنجائش ہوگی۔
ادھراکتوبر2025ء میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود وقفے وقفے سے ہونے والے ان حملوں نے سیزفائر کو شدید دبائو میں ڈال دیا ہے۔ادھر رفح بارڈر کراسنگ پر آمد و رفت محدود رہی، جہاں مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اگرچہ انسانی امداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے تاہم سیزفائر معاہدے کے کئی اہم نکات جن میں غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے تاحال تعطل کا شکار ہیں جبکہ تازہ کارروائی میںاسرائیل نے غزہ پر فضائی اور توپ حملے کر کے 9 فلسطینیوں کوشہید کر دیا ہے۔
فلسطین سول ڈیفنس ایجنسی کے جاری کردہ بیان کے مطابق حملے اور فائرنگ میں شہید ہونے والوں میں3بچے بھی شامل ہیں۔حملوں میں کم از کم31فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔اسرائیلی افواج نے دعویٰٰ کیاہے کہ یہ حملے اس کے فوجیوں پر فائرنگ کئے جانے اور ایک اسرائیلی افسر کے زخمی ہونے کے بعد کئے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اس واقعے کو غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجیوں پر حملہ ”یلو لائن” کے نزدیک ہوا۔دوسری جانب غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے 10 اکتوبر2025 ء کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے سے اب تک 1520 مرتبہ خلاف ورزی کی ہے۔
ان مجرمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 559 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 1500 دیگر زخمی ہوئے ہیں جو کہ معاہدے کی شقوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی منظم پامالی ہے۔
میڈیا دفتر نے ایک پریس ریلیز میں واضح کیا کہ یہ خلاف ورزیاں گذشتہ 115 دنوں پر محیط ہیں جن میں فائرنگ کے 522 واقعات، رہائشی محلوں میں فوجی گاڑیوں کی 73 دراندازیاں، بمباری اور نشانہ بنانے کی 704 کارروائیاں اور مکانات و مختلف عمارات کو دھماکوں سے اڑانے کے 221 واقعات شامل ہیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ شہدا کی کل تعداد میں 99 فیصد عام شہری شامل ہیں جن میں 288 بچے، خواتین اور معمر افراد شامل ہیں جبکہ 268 مرد شہید ہوئے ہیں۔ اسی طرح 1500 زخمیوں میں سے 900 سے زائد بچے، خواتین اور عمر رسیدہ افراد ہیں جنہیں رہائشی محلوں کے اندر اور مقررہ حدود سے دور نشانہ بنایا گیا جس سے زخمی ہونے والے عام شہریوں کی شرح 99.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اسی تناظر میں میڈیا دفتر نے وضاحت کی کہ قابض افواج نے اسی مدت کے دوران 50 فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے ان تمام افراد کو رہائشی علاقوں سے اور طے شدہ لائنوں سے دور رہتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
انسانی صورتحال کے حوالے سے بیان میں بتایا گیا کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے امدادی، تجارتی اور ایندھن کے ٹرکوں کی تعداد 69 ہزار کے مطلوبہ ہدف کے مقابلے میں صرف 29,603 رہی، یعنی معاہدے پر عملدرآمد کی شرح صرف 43 فیصد رہی جبکہ ایندھن کے ٹرکوں کے داخلے کی شرح طے شدہ مقدار کے مقابلے میں محض 14 فیصد رہی۔
سرکاری میڈیا دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل نے انسانی پروٹوکول کی شقوں کی پاسداری نہیں کی جس میں پناہ گاہوں کا سامان، خیمے، پورٹیبل مکانات، ملبہ ہٹانے اور شہدا کے جسدِ خاکی نکالنے کے لیے بھاری مشینری، اور طبی سامان کی فراہمی شامل تھی۔
علاوہ ازیںوزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رہائی کے بعد 54 فلسطینیوں کی لاشیں اور انسانی جسمانی ٹکڑوں پر مشتمل درجنوں ڈبے غزہ منتقل کر دیے گئے ہیں۔ لاشوں کی یہ واپسی بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے طے پائی ہے۔
وزارتِ صحت نے جاری کردہ بیان میں کہاکہ 54 لاشوں اور 66 انسانی اعضاپر مشتمل ڈبے ریڈ کراس کی گاڑیوں میں الشفا میڈیکل کمپلیکس پہنچائے گئے ہیں۔طبی ٹیموں نے منظور شدہ طبی طریقہ کار کے مطابق فوراً عدلی طبی معائنے کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
بیان کے مطابق متعلقہ حکام اور خصوصی کمیٹیوں کے تعاون سے معائنہ اور دستاویزی ریکارڈ کا کام جاری ہے۔ معائنے اور دیگر کاروائیاں مکمل ہونے کے بعد خاندانوں کو مقررہ پروٹوکول کے مطابق لاشوں کی شناخت کی اجازت دی جائے گی۔
ادھراقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مبینہ دہشت گردی کے جرائم پر لازمی سزائے موت سے متعلق مجوزہ قانون واپس لے کیونکہ یہ انسانی حقِ حیات کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اقدام ہوگا۔
اقوامِ متحدہ کے ایک درجن سے زائد آزاد ماہرین نے جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ سال نومبر میں اس بل کی ابتدائی منظوری دی تھی جو انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے مطالبے پر پیش کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق لازمی سزائے موت عدالتی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ اس میں عدالت کو ملزم کے حالات، نیت اور دیگر رعایتی پہلوئوں پر غور کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔
فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور بحالی کے ذمہ دار عالمی ادارے ”انروا” نے خبردار کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو اس کی مکمل گنجائش کے ساتھ فعال نہ کرنا غزہ کی پٹی کی انسانی صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھے گا۔ ادارے کے مطابق مطلوبہ رفتار سے بہتری نہ آنے کا براہِ راست مطلب قیمتی انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع ہے۔
ادارے کے ترجمان جوناتھن فاولر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ طبی بنیادوں پر مریضوں کا انخلا اب بھی انتہائی محدود ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ میں داخل ہونے والی امداد کی مقدار ہولناک ضروریات کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔
فاولر نے اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ موجودہ حالات کے نتیجے میں غزہ کا نظامِ صحت مکمل طور پر تباہی اور انہدام کا شکار ہو چکا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں انروا کے قائم مقام ڈائریکٹر امور سام روز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ادارے کے تخمینے کے مطابق کم از کم 20 ہزار افراد ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر ہنگامی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ سام روز نے متنبہ کیا کہ علاج کے لیے مریضوں کے غزہ سے باہر جانے میں ہونے والی تاخیر ان کی اموات کے امکانات میں اضافے اور ان کی صحت کی مزید ابتری کا باعث بن رہی ہے۔

