چوتھی قسط:
پھر میں نے کہا، یار بات یہ ہے، اصل جھگڑا یہ ہے، ساری باتیں تمہاری ٹھیک ہوں گی، ہمارے پاس اتھارٹی کوئی نہیں ہے، اصل بات یہ ہے۔ عدالت کہتی ہے نا کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے، اس کیس کی سماعت ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم خدانخواستہ یہ کرنا بھی چاہیں، خدا نہ کرے کہ ہم کرنا چاہیں، بالفرض کہہ رہا ہوں، اگر ہم کرنا چاہیں تب بھی نہیں کر سکتے، یار ہمارے پاس اتھارٹی نہیں ہے۔ اُن کے پاس ہوگی، جیسے عدی بن حاتم نے کہا تھا، اُن کے پاس ہوگی اتھارٹی، میں نہیں بحث کرتا اس پہ۔ ہمارے پاس اتھارٹی نہیں ہے۔ کسی کے پاس کوئی اتھارٹی ہے جو نصِ صریح اور نصِ قطعی میں ترمیم کر سکے؟ نصوصِ ظنیہ کی تعبیر میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، میں اس طرف نہیں جا رہا لیکن نصِ قطعی اور نصِ صریح ہو تو کسی کے پاس کوئی اتھارٹی ہے کہ وہ ردوبدل کر سکے؟ ہمارے پاس اتھارٹی نہیں ہے یار، ہم مجبور ہیں، ہم خدانخواستہ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے اور کریں گے بھی تو چلے گی نہیں۔ ہمارا ڈھانچہ بالکل مختلف ہے، ہم نہیں کر سکتے، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔
ہمارے ہاں کی صورتحال تو یہ ہے کہ جائز ناجائز، حلال حرام میں اگر کسی کو اتھارٹی ہوتی تو اللہ کے سوا کس کو ہوتی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے کہہ رہے ہیں ”لم تحرم ما احل اللہ لک”۔ اگلے جملے کا ترجمہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے ”تبتغی مرضات ازواجک”۔ پڑھتے تو ہیں یہ، لیکن ترجمہ، میں تو ڈر جاتا ہوں ترجمہ کرتے ہوئے۔ ”لم تحرم ما احل اللہ لک” (التحریم ) جناب ہم نے حلال کیا ہے، آپ کیسے حرام کر رہے ہیں؟
تو میں نے اس سے کہا کہ میرے بھائی! ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے سرے سے۔ اگر بات اجتہاد کے دائرے کی ہے، یا استنباط کے، استدلال کے، چلو، ایک فقیہ ہے، دوسرا فقیہ ہے، اس کی رائے، وہاں اگر ہم کہیں کچھ گڑبڑ کر لیں تو کر لیں، کبھی کبھی کر بھی لیتے ہیں، لیکن اُس دائرے میں، جو اجتہادی دائرہ ہے۔ نصوصِ صریحہ اور نصوصِ قطعیہ اجتہادی دائرے کی نہیں ہیں۔ یہ بات میری ذہن میں آئی ہے؟ ایک اجتہاد کا تصور یہ ہے جس کا ہم سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ جناب کچھ کرو۔ فلاں چیز میں یوں کر دو، فلاں چیز میں یوں کر دو۔
ابھی چند مہینے پہلے ہمارے صدر محترم نے یہ فرمایا تھا کہ علماء کوئی راستہ نکالیں سود کے بارے میں، بعض صورتیں کریں کچھ، کوئی راستہ نکالیں۔ کہتے علماء سے ہی ہیں۔ کہتے کس سے ہیں؟ علماء سے۔ تجویز پیش کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے بڑی سخت بات کہہ دی۔ میں نے کہا یار، اُس نے فتویٰ پوچھا ہے، فتویٰ دیا نہیں ہے، مستفتی ہے، مستفتی پر فتوے مت لگایا کرو، فتویٰ پوچھا ہے اس نے۔ لیکن بہرحال میں ذوق بتا رہا ہوں۔ میں نے کہا یار، مستفتی ہے وہ، مفتی نہیں ہے۔ مفتی ہو تو میں بھی فتویٰ لگا دوں۔ مستفتی نہیں ہے، وہ کیا ہے؟ مستفتی ہے، اور مستفتی پر فتویٰ نہیں لگانا چاہیے، وہ تو فتویٰ پوچھے گا بیچارہ۔ خیر، ایک ذہن یہ ہے، جس کی بنیاد پر ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ علماء کے پاس کوئی اتھارٹی ہے، پاپائے روم کی طرح، احبار اور رہبان کی طرح۔ یہ بھی کچھ کر سکتے ہیں، کرنا چاہیں۔ کر نہیں رہے۔ اس لیے وہ سارا غصہ ہم پر نکلتا ہے کہ یہ جامد ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں، ہلتے نہیں ہیں، بات سنتے نہیں ہیں، بات مانتے نہیں ہیں۔
دوسرا نقطہ نظر۔ وہ زیادہ اس وقت ہمارے جھگڑے کی بنیاد ہے۔ پاپائے روم کی اس اتھارٹی کو، یہ ہزارہا سال سے چلی آ رہی ہے، اب بھی ہے، کیتھولک دائرے میں اب بھی ہے؛ اس اتھارٹی کے خلاف بغاوت ہوئی تھی آج سے تین چار سو سال پہلے۔ اور بغاوت کی تھی کس نے؟ مارٹن لوتھر نے۔ مارٹن لوتھر کا نام سنا ہے؟ پادری تھا۔ اس نے کہا، ہم پاپائے روم کی اتھارٹی نہیں مانتے کہ بائبل کی جو چاہے تشریح کر دیں، ہم نہیں مانتے۔ یہ پروٹسٹنٹ کی بنیاد ہے۔ پروٹسٹ احتجاج کو کہتے ہیں۔ پروٹسٹ کس کو کہتے ہیں؟ احتجاج کو۔ پاپائے روم کی اس اتھارٹی کے خلاف بغاوت تھی یہ۔ پاپائے روم کی اس اتھارٹی کے خلاف کہ وہ واحد اتھارٹی ہے بائبل کی تشریح کی، اس کے خلاف بغاوت تھی۔ پادری تھا وہ بھی، مارٹن لوتھر۔ اس نے کہا، نہیں، ہم اتھارٹی نہیں مانتے۔
اچھا، یہ اتھارٹی نہیں ہے، تو اتھارٹی ہے کون پھر؟ کوئی نہ کوئی اتھارٹی تو ہو گی نا، کھلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کوئی نہ کوئی اتھارٹی تعبیر کی ہو گی یا نہیں ہو گی؟ میں اس کی مثال دیتا ہوں چھوٹی سی۔ پاکستان کا دستور ہے۔ پاکستان کے دستور کی تشریح کی اتھارٹی کون ہے؟ سپریم کورٹ۔ یہ طے ہے۔ پاکستان کے دستور کی کسی شق میں مفہوم طے کرنے میں اگر اختلاف ہوگا تو فیصلہ کون کرے گا؟ سپریم کورٹ اور سپریم کورٹ جو تشریح کر دے وہ کیا ہو گا؟ کسی بھی تعبیر و تشریح میں کوئی نہ کوئی اتھارٹی تو ہوتی ہے۔
سوال یہ ہوا کہ اگر پاپائے روم اتھارٹی نہیں ہے، چرچ اتھارٹی نہیں ہے، تو اتھارٹی کون ہے؟ مارٹن لوتھر نے یہ کہا کہ کوئی اتھارٹی نہیں ہے، کامن سینس پہ فیصلے کرو۔ جو مجھے سمجھ آتی ہے، میں کروں گا۔ جو آپ کو سمجھ آتی ہے، آپ کریں گے۔ اجتماعی عقل سے۔ اس کو کامن سینس کہتے ہیں، عقلِ عام۔ کامن سینس سے، اس وقت کے معاشرے کی اجتماعی سوچ سے جو رائے طے پائے گی، وہ بائبل کی تشریح ہو گی۔ اس کو کہتے ہیں کامن سینس سے تشریح کرنا۔ شریعت کے احکام، شریعت کے قوانین، اُن کا تعین، پاپائے روم کے کرنے سے نہیں ہو گی۔ کس کے کرنے سے ہو گی؟ کامن سینس سے۔ اس پر ایک نیا فرقہ وجود میں آ گیا۔ پروٹسٹنٹ یہی ہیں۔ کیتھولک کے بعد دوسرا بڑا فرقہ یہ ہے۔ یورپ اکثر پروٹسٹنٹ ہیں۔ امریکا، کینیڈا کیتھولک ہیں۔ یورپ اکثر کیا ہے؟ پروٹسنٹ ہے۔ برطانیہ وغیرہ سب، پروٹسٹنٹ ہیں سارے کہ بائبل کی تشریح عقلِ عام پر ہو گی۔
اب اگلی بات سنیے۔ عقلِ عام، عقلِ مشترک پر بائبل کی تشریح ہو گی، تو عقلِ مشترک کا فیصلہ کون کرے گا؟ یہ پھر ووٹ سے ہو گا۔ عقلِ عام کیا کہہ رہی ہے؟ عقلِ مشترک کا فیصلہ کیا ہے؟ سوسائٹی کی اجتماعی عقل کا فیصلہ کیا ہے؟ اس کا فیصلہ کیسے ہوگا پھر؟ ووٹ ہی ذریعہ ہے نا۔ اس لیے یہ بات طے پائی کہ عوام کے منتخب نمائندے، پارلیمنٹ، یہ مکمل طور پر خودمختار ہیں، جو تعبیر کریں، جو تشریح کریں، جو تشکیل کریں، جو معنی بیان کریں، پارلیمنٹ حرفِ آخر ہے۔ جس طرح عوامی معاملات میں تعبیر اور تشریح میں حرفِ آخر پارلیمنٹ ہے، اس لیے مذہبی معاملات میں بھی تعین کی اتھارٹی کس کو ہے؟ پارلیمنٹ کو۔
ہمارے ہاں یہ مسئلہ بھی چل رہا ہے، اور بڑے زور و شور سے، بڑی گہرائی سے۔ آپ حضرات کے سامنے بات ہو گی، نہیں تو ہونی چاہیے کہ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نفاذِ شریعت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اتھارٹی کا جھگڑا ہے۔ قرآن و سنت تو مان لیتے ہیں، کوئی بھی انکار نہیں کرتا، لیکن قرآن و سنت کی تعبیر میں اتھارٹی کون ہیں؟ ایک مستقل مکتبِ فکر ہے، میرے تو مکالمے ہوتے رہتے ہیں ان سے، مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔ (جاری ہے)

