آسان خدمت مراکز

کہانی کا آغاز آذربائیجان کے دارالحکومت ‘باکو’ سے ہوتا ہے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورۂ آذربائیجان کے موقع پر ایک ایسا مرکز دیکھا جہاں ریاست مسکراتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ نہ سفارش نہ لمبی قطاریں نہ عوام میں بے بسی کا احساس، بلکہ ہر شہری مطمئن تھا۔ اس منظر کی ایک خوشگوارجھلک گزشتہ دنوں اسلام آباد میں دکھائی دی۔ جب وزیراعظم نے پاکستان کے پہلے ‘آسان خدمت مرکز’ کا افتتاح کیا۔ یہاں ریاست کا چہرہ بالکل بدلا ہوا تھا کیونکہ اب تک پاکستان میں ریاست کا تعارف فائلوں، مہروں اور انتظار کے ساتھ فائلوں کو پہیہ لگانے، مہروں کو مال وزر میں تولنے اور طویل انتظار کے اعصاب شکن ایام کے ساتھ رہا ہے، پاکستان میں شہریوں کو اپنے معمولی کام کے لیے بھی 6سے 8دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ اور ان کے ماہ و سال کے قیمتی دن اسی میں ضائع ہوتے رہتے ہیں لیکن اب اس سینٹر میں نادرا، دفتر خارجہ، پولیس، ایف بی آر سمیت دیگر اداروں کی خدمات دستیاب ہوں گی۔ اس سینٹر کے عملے کو آذربائیجانی ماسٹر ٹرینر نے تربیت فراہم کی ہے۔ یہاں سی سی ٹی وی کی نگرانی میں ریاست پہلی بار شہری کے سامنے جواب دہ ہو رہی ہے۔

پورے پاکستان آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں فوری طور پر ایسے آسان خدمت مراکز قائم کرنے کی ضرورت بھی ہے اور حکومت ارادہ بھی رکھتی ہے لیکن جو بڑے شہر ہیں، وہاں آبادی کا لحاظ رکھتے ہوئے کئی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جو شہری اپنے کام کے سلسلے میں سرکاری دفاتر میں جاتے ہیں بخوبی آگاہ ہیں کہ بہت سے کام ایسے ہیں جو ایک یا دو گھنٹوں میں بھی نمٹ سکتے ہیں مگر جان بوجھ کر تاخیر، بدسلوکی، بداخلاقی اور دیگر وجوہات کے باعث یہی کام کئی دنوں یا ہفتوں میں ہوتے ہیں۔ اب یہ مراکز اپنے کام ایک ہی چھت پر بغیر کسی رشوت، سفارش کے مکمل کریں گے اور رشوت لینے والے کے پکڑے جاتے ہی اس کے خلاف سخت ترین فوری ایکشن لیا جائے گا کیونکہ جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ اگر اس طرح کی نگرانی بھی ہو اور سزا بھی سخت ترین ہو اور فوری سزا دینے کا نظام فعال ہو تو ایسی صورت میں اصل سکھ کا سانس غریب عوام ہی لیں گے اور یہی عمل ریاست اور عام فرد کے تعلق کو مضبوط بنائے گا کیونکہ اب یہ اینٹوں کی عمارت نہیں رہے گی بلکہ اس مرکز کی کوشش ہوگی کہ ریاست اور شہری کے درمیان کھوئے ہوئے اعتماد کو دوبارہ حاصل کیا جائے۔

پہلے ڈرائیونگ لائسنس بنوانا ہوتو وقت بھی ضائع، دفتروں کے چکر علیحدہ، گرمی سردی برداشت کرنا، لیکن اب ان مراکز میں آتے ہی جلد از جلد بائیو میٹرک بھی ہو جائے گا۔ جہاں پہلے آخری اشارہ رشوت کا ہوتا تھا، اب بغیر کسی رشوت کے کام یقینی ہوکر رہے گا۔ ڈومیسائل بنوانا ہو تو نہ جان پہچان کی ضرورت نہ سفارش نہ رشوت بلکہ ادھر مقررہ وقت پر موبائل پر میسج بھی آسکتا ہے کہ آپ کی درخواست منظور ہوگئی ہے۔ یہ اطلاع نہیں بلکہ شہری کو ایک پیغام ہے کہ اب وہ پہلے والے دن نہیں رہے۔ ریاست اس کے کاموں کے لیے فوری دستیاب ہے۔ بزرگ شہری جنہوں نے ریاست کو اپنے کاموں کو رشوت، فائلوں، دفتر کے چکروں کی رسم میں دیکھا تھا۔ بڑھاپے کے باوجود اس نے لائن میں گھنٹوں کھڑا ہونا سیکھ لیا تھا۔ لیکن اب وہ حیران ہوگا کہ ریاست نے پہلی بار اسے بوجھ نہیں سمجھا بلکہ اسے عزت دی۔ اب تو عملے میں سے کسی کے خواب وخیال میں یہ سوچ نہیں آسکتی کہ وہ رشوت لے۔

یہاں پر ایک بات جس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ممکن ہوتو بہت ہی اچھی بات ہے۔ ان آسان خدمت مراکز میں کام کرنے والے عملے کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔ ان کی کارکردگی پر ان کو انعام سے بھی نوازا جانا چاہیے اور ساتھ ان مراکز میں کام کرنے والے عملے کو ماہانہ کچھ اضافی رقم بھی دینے کی ضرورت ہے۔ یا ان کو خصوصی الاونس دیا جائے۔ عالمی تجربات کے مطابق فوری سزا کے نظام کے باعث کرپشن میں 30سے 50فیصد کمی ہوجاتی ہے لیکن سزا کے ساتھ جزا کا نظام بھی لاگو کرنا چاہیے کہ ان افراد کو خصوصی الاؤنس فراہم کیے جائیں کیونکہ یہ مراکز عوام اور ریاست کے درمیان ایک نئے تعلق کی ابتدا ہیں۔ سفارش کے بغیر جہاں کام ہو رہے ہوں۔ شہریوں کو لائن میں لگ کر کھڑا نہیں ہونا پڑتا۔ آذربائیجان کا ماڈل اب پاکستان میں آزمایا جا رہا ہے، البتہ پاکستان میں اس بات کے خدشات موجود ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے کرپشن اپنا کام دکھاتا رہے گا۔ اب جبکہ انسانی خدمات مراکز سے شہریوں نے اپنی امیدیں باندھ لی ہیں۔ خوشنما توقعات جوڑ لیے ہیں تو ریاست کو ان ملازمین کا بھی خصوصی خیال رکھنا پڑے گا تاکہ یہ نظام صاف وشفاف طریقے سے چلتا رہے اور جلد از جلد پورے ملک میں ایسے آسان خدمت مراکز قائم کردیے ہیں۔