یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم پہلی بار جامعة الرشید آئے تھے۔ جمعہ اور ہفتہ کے دن ہفت روزہ ضرب مومن کا کام عروج پر ہوتا اور دفتر میں چہل پہل ہوتی۔ استاذ محترم مفتی ابولبابہ شاہ منصور نے ہمیں بھی حکم دیا کہ اخبار فائنل ہونے کے دن دفتر آجایا کریں اور کام سیکھا کریں۔ یہاں جن شخصیات سے ملاقات ہوتی، ان میں بھائی ارشد خرم صاحب سرفہرست تھے۔ طویل سفر کر کے آتے، مگر وقت سے پہلے دفتر پہنچتے۔ اپنے قلم اور دوات بڑی نفاست کے ساتھ ایک جگہ رکھتے۔ خطاطی کے لیے مخصوص کاغذ پر سرخیاں لکھنا شروع کر دیتے۔ عہدے، رتبے، تجربے اور عمر ہر طرح سے ان کا حق تھا کہ وہ دوسروں کے بعد دفتر آئیں، لیکن وہ سب سے پہلے تشریف لاتے۔ نستعلیق شخصیت کے مالک تھے، جو ایک بار ملتا تو یاد رکھتا۔ میل جول، رکھ رکھاو اور حفظ مراتب کا خیال رکھتے۔ حالات حاضرہ پر تبصرے کا خاص ذوق رکھتے تھے اور بے لاگ تبصرے پر کامل عبور تھا۔ یار باش تھے، جس سے تعلق ہوتا تو نبھاتے تھے۔ خوش نویس تھے اور خطاطی میں کئی نئے خط ایجاد کر رکھے تھے۔ آپ کے قلم سے لکھا ہر لفظ اپنے اندر چھپے معنی کا عکاس ہوتا تھا۔
انہوں نے خطاطی کا ایک طویل دور دیکھا۔ روزنامہ سے سفر شروع کیا۔ ملتان کے باسی تھے اور استاد راشد سیال مرحوم کے دوست۔ ملتان کے اخبار روزنامہ آفتاب سے کام شروع کیا۔ اس کے بعد کراچی کے روزنامہ جسارت اور ہفت روزہ تکبیر سے وابستہ ہوئے۔ پھر ہفت روزہ ضرب مومن شروع ہوا تو یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ روزنامہ اسلام شروع ہوا تو اس کی سرخیوں کے لیے بھی آپ کی خدمات لی گئیں۔ بچوں کا اسلام، خواتین کا اسلام اور پھر ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس تک کا ایک ایک صفحہ آپ کی ہنرمندی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ میں نے کئی بار عرض کیا کہ خرم صاحب آپ نے جن نئے خطوط کی بنیاد رکھی ہے، ان کو سافٹ ویئر کی شکل دیدیں، ایک بار کتابت کرنا پڑے گی اور پھر آسانی سے کام ہوگا لیکن کسی پروفیشنل کا ساتھ میسر نہیں آیا۔ عمر بھر دینی اداروں سے ہی جڑے رہے۔ پاکستان کے دینی لٹریچر پر آپ کی گہری چھاپ ہے، شاید کوئی دوسرا آرٹ ایڈیٹر ایسا ہو۔
آزاد منش تھے، ہمہ قسم مصلحت سے بالاتر، بے باک اور بے لاگ۔ یا اپنا گریباں چاک، یا دامن یزاں چاک۔ کاٹ دار جملے کہتے، فسوں خیز اشعار پسند کرتے۔ ان کی اہلیہ کا انتقال اچانک ہوا، عمر بھر کا ساتھ چھوٹنے کا روگ خرم صاحب کو بھی لگ گیا۔ تنہائی سے دل گھبرایا تو دوسری شادی کرلی، وہ بھی کامیاب نہ ہوئی تو کراچی سے دل اچاٹ ہوگیا اور واپس ملتان جا بسے۔ کراچی میں بیٹی سے ملنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اپنے نواسے کو جامعة الرشید میں داخل کروانے پر بہت خوش تھے۔ ان دنوں تسلسل سے رابطہ بھی رہا۔ ملتان جانے کے بعد وٹس ایپ پر رابطہ رہتا۔ میسجز بھیجتے اور حالات حاضرہ کے مطابق اپنی پسندیدہ شاعری بھی۔ آپ کے بھیجے کچھ شعر اس وقت بھی وٹس ایپ میسجز میں محفوظ ہیں
اس طرف سے گرتے تھے قافلے بہاروں کے
آج تک سلگتے ہیں زخم راہ گزاروں کے
آج پلکوں کے منڈیروں پر بہت رونق ہے
دیکھ سکتے ہو تو اشکوں کا چراغاں دیکھو
ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس کا آغاز جنوری 2013ء سے ہوا، روز اول سے اب تک آپ ہی اس میگزین کے آرٹ ایڈیٹر تھے۔ میگزین کے دوسرے صفحے پر لکھا ان کا نام 13سال بعد بدل جائے گا۔ یہی زندگی کی حقیقت ہے۔ یہاں کوئی ناگزیر نہیں۔ رہے نام اللہ کا۔
ملتان میں امن و امان کی بہتر صورتحال پر بہت خوش تھے۔ کہتے تھے یہاں کا ماحول بہت اچھا ہے اور کراچی کے لوگ۔ ملتان میں مگر دو حادثات سے گزرے۔ پہلے ایک حادثے میں ہاتھ فریکچر ہوگیا، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا۔ مگر الحمدللہ ریکوری ہوگئی۔ وہی بشاشت، زندہ دلی اور چہک مہک عود کر آئی۔ برادرم واجد علی چراغ سے جب ملاقات ہوتی تو خرم صاحب کا ذکر خیر بھی چل نکلتا۔ اندازہ نہیں تھا کہ یوں اچانک رخصت ہو جائیں گے۔ کل دفتر آنا ہوا تو بھائی صلاح الدین نے میسج بھیجا کہ ارشد خرم صاحب کا انتقال ہوگیا۔ یقین نہیں آیا۔ ان کے نمبر پر کال کی تو بند تھا، دوسرے نمبر پر کال کی تو ان کے بھتیجے نے فون اٹھایا۔ اس نے تصدیق کی کہ رات ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور صبح خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ کامل مغفرت فرمائے۔ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آخرت کی ساری منزلیں آسان فرمائے اور ان کی دینی خدمات قبول فرمائے۔ تحریک ختم نبوت کے ہفت روزہ ختم نبوت سے سالہا سال پرانا تعلق تھا، کہتے تھے: مجھے بزرگوں نے کہا ہے کہ اسی رشتے سے آپ کی بخشش ہوگی۔ میں اسی لیے ہفت روزہ ختم نبوت سے اپنے تعلق کو نبھا رہا ہوں۔ اللہ ان کی اُمیدوں کو پورا فرمائے۔ ختم نبوت سے تعلق کی بدولت کامل مغفرت فرمائے۔ قارئین سے بھی ایصال ثواب کی درخواست ہے۔

