ایران امریکا کشیدگی، ہمسایہ ممالک کردار ادا کریں

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی محض دو ممالک کا باہمی اختلاف نہیں بلکہ یہ ایک ایسی عالمی سیاسی کشمکش ہے جس کے اثرات پورے خطے بلکہ دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کشیدگی کی جڑیں 1979کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، جب ایران نے امریکی اثر و رسوخ کو مسترد کر کے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کی۔ اس کے بعد سے امریکا کی جانب سے پابندیاں، سیاسی دباؤ اور عسکری دھمکیاں اس تنازعے کا مستقل حصہ بن چکی ہیں، جبکہ ایران خطے میں اپنے دفاع اور اثر و رسوخ کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔

امریکا کا کردار اس تنازعے میں خاص طور پر تنقید کے قابل ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکا خود اپنے خطے میں امن و استحکام سے لطف اندوز ہو رہا ہے، جبکہ دنیا کے دیگر خطوں کو جنگوں اور تنازعات کی آگ میں جھونک رہا ہے۔ مشرقِ وسطی ہو یا جنوبی ایشیا، افریقہ ہو یا لاطینی امریکاامریکی مداخلت نے دنیا کے کئی خطوں کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ امریکا کے فوجی اڈے ہزاروں میل دور ایشیائی اور عرب ممالک میں قائم ہیں، اس کے بحری بیڑے مشرقی سمندروں میں گشت کرتے ہیں، مگر یہ سب کچھ اس کی سرزمین سے بہت دور ہوتا ہے۔ یوں جنگیں امریکا کے دروازے پر نہیں بلکہ دوسروں کے گھروں میں لڑی جاتی ہیں۔

اگر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو اس کا براہِ راست نقصان امریکا کو نہیں ہوگا۔ نہ اس کے شہر کھنڈرات میں بدلیں گے اور نہ اس کے عوام کو مہاجر بننا پڑے گا۔ اس کے برعکس ایران، اس کے ہمسایہ ممالک اور پورا خطہ اس آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، عالمی معیشت دباؤ میں آئے گی، سرحدی کشیدگی بڑھے گی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایشیائی ممالک، جو پہلے ہی معاشی اور سیکورٹی مسائل سے دوچار ہیں، ایک نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکا کے لیے جنگ اکثر ایک اسٹریٹجک کھیل ہوتی ہے، جبکہ متاثرہ خطوں کے لیے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ عراق، افغانستان اور شام اس کی واضح مثالیں ہیں، جہاں دہائیوں بعد بھی امن بحال نہیں ہو سکا اور پورے معاشرے بکھر کر رہ گئے۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی خطرہ موجود ہے کہ ایک نئی جنگ پورے مشرقِ وسطی اور اس سے ملحقہ علاقوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دے گی۔

اسی لیے اب یہ ذمہ داری ہمسایہ ممالک پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرنے کی بجائے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ ایران کے پڑوسی ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج اگر ایران نشانے پر ہے تو کل کوئی اور ملک بھی ہو سکتا ہے۔ اجتماعی سفارت کاری، علاقائی اتحاد اور مشترکہ موقف کے ذریعے امریکی اقدامات پر دباؤ ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جنگ کی بجائے مذاکرات، پابندیوں کی بجائے مکالمہ اور طاقت کی بجائے عقل و دانش کو فروغ دینا ہی اس پورے خطے اور دنیا کے بہتر مفاد میں ہے۔

آخرکار یہ حقیقت واضح ہے کہ ایران امریکا کشیدگی کا خمیازہ امریکا نہیں بلکہ خطے کے ممالک بھگتتے ہیں۔ اگر ہمسایہ ممالک نے بروقت متحد ہو کر کردار ادا نہ کیا تو یہ کشیدگی ایک ایسی جنگ میں بدل سکتی ہے جس کا ایندھن ایشیا کے عوام بنیں گے۔ امن کا تقاضا یہی ہے کہ خطے کے ممالک امریکی جنگی حکمتِ عملی کے خلاف یک زبان ہوں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ مشرق، وسط اور جنوب ایشیا کسی اور کی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ماضی میں ایسی ہر کشیدگی نے معاشی عدم استحکام، توانائی بحران، مہنگائی اور داخلی بدامنی کو جنم دیا ہے، جس کا سب سے بڑا بوجھ عام شہریوں پر پڑا۔ اگر علاقائی ریاستیں خاموش تماشائی بنی رہیں تو مستقبل میں ان کے لیے سیاسی خودمختاری اور معاشی سلامتی کا دفاع مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے اجتماعی سفارت کاری، علاقائی مکالمہ اور امن پر مبنی مشترکہ لائحہ عمل وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔