خبر ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 159عوامی نمائندگان کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان نمائندگان میں 9سینیٹرز (فوزیہ ارشد، عبید شیر علی، مراد سعید، نورالحق قادری وغیرہ)، 32اراکین قومی اسمبلی (مصدق ملک وفاقی وزیر، خالد مقبول صدیقی، سردار اختر مینگل، سیّد عبدالقادر گیلانی، موسیٰ گیلانی، سائرہ افضل تارڑ وغیرہ)، 33اراکین سندھ اسمبلی (اویس قادر شاہ سپیکر اسمبلی، قائم علی شاہ سابق وزیر اعلیٰ وغیرہ) 50اراکین پنجاب اسمبلی رانا سکندر حیات صوبائی وزیرِ تعلیم، عدنان ڈوگر، وقار احمد چیمہ وغیرہ)، 28اراکین خیبر پختون خوا اسمبلی اور 7ارکان بلوچستان اسمبلی شامل ہیں۔ (فہرست میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا نام بھی ہے تاہم جماعت اسلامی نے اس پر وضاحت جاری کی ہے کہ امیر جماعت نے انتخابی نتائج کے اعلان کے وقت ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ فارم 47کے تحت دی جانے والی نشست قبول نہیں کرتے)
ملک میں قانون کی بالادستی، ٹیکس کلچر اور شفاف طرزِ حکمرانی کی باتیں برسوں سے کی جا رہی ہیں مگر عملی تصویر کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔ تازہ انکشاف کے مطابق قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 159اراکین نے بروقت انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے کے باعث اپنی رکنیت معطل کرا لی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ معطل ہونے والوں میں وفاقی اور صوبائی وزراء بھی شامل ہیں۔ یہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق، سیاسی اخلاقیات اور عوامی اعتماد پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔
پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے اراکین محض قانون ساز نہیں ہوتے، وہ قوم کے لیے رول ماڈل سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے طرزِ عمل سے عوام قانون کا احترام یا انحراف سیکھتے ہیں۔ اگر یہی رول ماڈلز قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہیں تو پھر عام شہری اور تاجر سے قانون پسندی کی توقع کس منہ سے کی جا سکتی ہے؟ عوام کو آئے دن ایف بی آر کے نوٹس، جرمانوں اور گرفت کی وعیدیں سنائی جاتی ہیں۔ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے نام پر خوف کی فضا قائم کی جاتی ہے مگر یہاں تو واقعی چراغ تلے اندھیرا والی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
یہ تاثر خطرناک ہے کہ قانون کمزور پر پورا اور طاقتور پر نرم ہو جاتا ہے۔ ایک عام شہری اگر گوشوارہ جمع نہ کروائے تو نان فائلر، جرمانہ، اکاؤنٹ فریز اور تذلیل اس کا مقدر بنتی ہے مگر جب بات اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتی ہے تو معاملہ محض ”معطلی” تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ سیاسی، اخلاقی اور قانونی سطح پر یہ ایک سنگین کوتاہی ہے۔ اگر کوئی سنجیدگی سے سوچے تو غیر ذمہ داری کے باعث اسمبلی یا سینیٹ کی رکنیت معطل ہونا کسی بھی سیاست دان کے لیے محض ایک عارضی رکاوٹ نہیں بلکہ سیاسی کیریئر اور شخصیت پر داغ ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ منتخب نمائندہ قانون کی بنیادی شرط پوری کرنے میں ناکام رہا۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنا ذاتی ٹیکس معاملہ درست نہ رکھ سکا وہ قومی خزانے، قانون سازی اور عوامی مفاد کا امین کیسے ہو سکتا ہے؟
حیرت انگیز طور پر تاحال وزیرِ اعظم یا کسی وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے معطل ہونے والوں سے غیر ذمہ داری پر جواب طلبی کی کوئی سنجیدہ مثال سامنے نہیں آئی۔ نہ کوئی اخلاقی دباؤ، نہ کابینہ یا پارلیمانی پارٹی سطح پر احتساب۔ خاموشی خود بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ اگر یہی رویہ رہا تو پارلیمانی احتساب ایک نعرہ اور عملی سیاست ایک تضاد بن کر رہ جائے گی۔ اس کا قانونی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایف بی آر کے قوانین کے تحت گوشوارے جمع نہ کروانے پر جرمانے، اضافی ٹیکس اور دیگر سزائیں ممکن ہیں۔ اگر قانون واقعی حرکت میں آ گیا اور ان معطل اراکین پر سزائیں عائد ہوئیں تو پھر ایک بنیادی سوال کھڑا ہوگا کہ سزا یافتہ شخص کے پاس رکنیت برقرار رکھنے کا اخلاقی اور قانونی جواز کیا بچے گا؟
یہ معاملہ صرف افراد کا نہیں، نظام کی ساکھ کا ہے۔ ٹیکس کلچر زبردستی نہیں، مثال سے بنتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے لوگ قانون کی پابندی کو معمولی سمجھیں گے تو باہر کھڑا شہری اسے کیوں سنجیدہ لے گا؟ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا قانون سب کے لیے برابر ہے یا محض کمزور کے لیے۔
وقت آ گیا ہے کہمعطل اراکین کے نام اور تفصیلات شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ پارٹی قیادتیں اندرونی احتساب کریں۔ ٹیکس قوانین کا اطلاق بلا امتیاز ہو اور پارلیمنٹ خود اپنے وقار کی حفاظت کرے ورنہ یہ تاثر مزید پختہ ہو جائے گا کہ اس ملک میں قانون کتابوں میں اور طاقت ایوانوں میں بستی ہے۔ ایسی ریاست میں اعتماد نہیں، صرف بداعتمادی جنم لیتی ہے۔

