سوال یہ ہے کہ عالمی منظرنامے میں اتنی بے یقینی کیوں ہے؟ امریکی عزائم کے جواب میں عالمی طاقتیں براہ راست جواب دینے سے کیوں کترا رہی ہیں؟چین کو تائیوان ،روس کو یوکرین کے ذریعے ،پاکستان کو انڈیا کے ذریعے ،ایران کو اسرائیل کے ذریعے ،یمن کو عرب ممالک کے ذریعے بلیک میل کرنے والا کون ہے ؟ اقوام عالم امریکی سحر سے نکلنے کو کیوں تیار نہیں ؟ وینزویلا سے لیکر گرین لینڈ تک امریکی جارحیت کے خلاف سناٹا کیوں ہے ؟ کیا یہ ایک نورا کشتی ہے؟ یا یورپ سے لیکر گلوبل ساوتھ تک کسی کی ہمت ہی نہیں ہے کہ امریکی و اسرائیلی مفادات کے سامنے کھڑا ہوسکے؟ غزہ سے تہران تک ایک خوف اور پراکسی وار کی فضا ہے ، رجیم تبدیلی کا شور ہے، ایرانی مظاہروں کے ذریعے ایرانی حکمرانوں کو پیغام دیا گیا کہ وہ غزہ کے اگلے مراحلے سے دور رہیں ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر ملک کواس کے مسائل میں الجھاکر بلیک میل کیا جارہا ہے ، تاکہ ڈیل آف سینچری کو مکمل کیا جاسکے ۔ سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ یمن جنگ میں ملوث کرنے کی کوشش،پاکستان افغانستان سرحد پر جاری کشیدگی جس میں ایک بار پھر نامعلوم وقت تک سناٹا ہے۔
گرین لینڈ پر امریکی بیانات ، یورپ کا موقف تقسیم ہونا ، یوکرین پر واضح صورت حال سامنے نہیں آنا، ایرانی حکومت سے اسرائیلی خفیہ بات چیت کی بازگشت ، اور ایسے ماحول میں عالمی ادارے اقوام متحدہ کی غیر فعالیت سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ دنیا کے اکثر فیصلے امریکی صدر کررہے ہیں ، دوسری عالمی قوتیں ، چین روس کا کردار کم نظر آرہا ہے ،ایک بے یقینی کی فضا ہے ، امریکی صدر کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے ۔لیکن ایک بات پر ڈٹ کر کھڑا ہے اور وہ ہے اسرائیلی مفادات کا تحفظ اور اس کی راہ میں حائل روکاٹیں دور کرنا ۔
ترجمان وائٹ ہاوس کیرولائن لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق تمام آپشن بدستور کُھلے رکھے ہیں۔کیرولائن لیویٹ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے مظاہرین کی ہلاکتیں جاری رہنے پر ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں 800 افراد کی سزائے موت روکی گئی ہے، اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے۔ سلامتی کونسل میںامریکی مندوب مائیک والز نے کہا ہے کہ ایران خبردار رہے صدر ٹرمپ نے تمام آپشنز میز پر رکھے ہوئے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مائیک والز نے کہا کہ صدر ٹرمپ باتوں نہیں ایکشن والے شخص ہیں۔ ایران میں قتل عام رکنا چاہیے۔انہوں نے ایران پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا، کہا بہت ہوگیا۔ ایرانی حکومت کے مظالم ختم کرنا ہوں گے۔امریکی مندوب نے ایران کو مذہبی نظریات کے نام پر امریکا اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ اور دہشت گردی اسپانسر کرنے والا ملک قرار دیا، اور کہا کہ ایرانی رجیم کو صورتحال کا سزاوار قرار دیا جائے گا۔ اس کے جواب میںاقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ ہم کشیدگی چاہتے ہیں نہ تصادم، تاہم جارحیت کی گئی تو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر سعید ایروانی نے کہا کہ امریکا کا ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل اجلاس بلانا شرمناک ہے۔ایران نے 8 اور 10 جنوری کو داعش طرز کی دہشتگردی کا سامنا کیا تھا۔دوسری جانب امریکا نے ایران کی بارہ کمپنیوں اور گیارہ ایرانی نژاد پر نئی پابندیاں بھی لگادی ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا، یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سوال یہ ہے کہ عالمی نشریاتی جنگ کے مقاصد کیا ہیں؟ کیا غزہ کو مکمل خالی کرنے کے لئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے ، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایران فلسطین اور غزہ سے پیچھے ہٹ چکا ہے ، ایرانی حکمرانوں کو اپنے اقتدار اور ملک میں استحکام چاہیے۔ عرب ممالک کے بعد ایران بھی شاید اب چند بیانات کے ذریعے ہی غزہ کی بات نمٹائے گا،اور اسی سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی استحکام فورس کے ذریعے حماس کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ گریٹر اسرائیل کی راہ میں حائل روکاٹیں دور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اس صورتحال ایک اور اہم خبر سامنے آئی ہے ،ترکیہ کے وزیرخارجہ حاکان فیدان کا کہنا ہے کہ علاقائی ممالک کو سلامتی کے معاملے پر تعاون کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہئے’ پاکستان اور سعودی عرب سے سہ فریقی دفاعی معاہدے مذاکرات ہوئے ہیں’بات چیت جاری ہے لیکن ابھی تک کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے’خطے میں بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور بھروسے کی ضرورت ہے’ اگر متعلقہ ممالک ایک دوسرے پر بھروسہ کریں تو علاقائی مسائل حل ہو سکتے ہیں’ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہئیں’ایران میں معاشی بے چینی کو غلط انداز میں بغاوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان ترکی اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے ، یہ دفاعی اتحاد اسلامی ممالک کو مضبوط کرسکتا ہے ،جس سے شاید پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی و اسرائیلی سازشوں سے بچ جائے گا ۔ کیا ریاض ،استنبول ،اور اسلام آباد کے اتحاد سے امت مسلمہ کو کوئی فائدہ ہوگا؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔

