خیبر پختونخوا،چیک پوسٹ،جیل پر حملے،آپریشن میں15خوارج ہلاک

راولپنڈی/ڈی آئی خان:سیکورٹی فورسز نے 13 اور 14 جنوری کو خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور کرم میں دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے13خوارج کو ہلاک کر دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن کے دوران فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 خوارج مارے گئے۔ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع کرم میں کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 5 خوارج کو مؤثر کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کسی بھی ممکنہ طور پر موجود بھارتی سرپرست یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔

قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ”عزمِ استحکام” کے تحت پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھیں گے، ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکورٹی فورسز ہر قیمت پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکورٹی فورسز کی پذیرائی کی اور کہاکہ عزم استحکام کے وژن کے تحت سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے، ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پْرعزم ہیں۔

ادھرڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا حملہ ناکام،پولیس نے بروقت و موثرجوابی کارروائی کرتے ہوئے 2 دہشت گرد ہلاک کردیے ۔

پولیس کے مطابق ڈی آئی خان کی درابن روڈ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے پولیس چیک پوسٹ پرحملہ کیا جس پر پولیس نے بھرپور جواب دیا۔پولیس نے بتایا کہ اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا۔

دوسری جانب بنوں سینٹرل جیل کے گیٹ پر دہشت گردوں کی جانب سے دستی بم حملہ کیا گیا۔پولیس کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ دہشت گرد فرار ہوگئے۔