حماس غزہ کی حکمرانی سے دستبردار، اختیارات ٹیکنو کریٹ اتھارٹی کے سپرد

غزہ/لندن/واشنگٹن: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنو کریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

تنظیم نے غزہ کے تمام اداروں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مکمل اختیارات آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کو منتقل کردیں۔حازم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے کا فیصلہ حتمی اور غیر مبہم ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی اتھارٹی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے، اختیارات کی یہ منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔

ٹرمپ کے منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق واضح نکات شامل ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان اس سے قبل بھی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی۔

یہ اتفاق 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی اجلاس میں طے پایا تھا۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شدید سردی کے باعث بچوں اور بزرگوں کی شہادتوں کا تسلسل، بمباری سے تباہ اور نشانہ بنائے گئے گھروں کا منہدم ہونا اور بیماریوں کا پھیلاؤ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ غزہ کی پٹی اب بھی بدترین اجتماعی نسل کشی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔

قاسم نے کہا کہ یہ نہایت افسوس ناک امر ہے کہ عالمی نظام مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہا ہے اور بار بار کی اپیلوں کے باوجود غزہ کی پٹی میں ہمارے عوام کو امداد فراہم کرنے میں ناکام ہے جب کہ قابض صہیونی محاصرہ بدستور اس محصور خطے پر مسلط ہے۔

انہوں نے عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئے، غزہ کے عوام کو امداد فراہم کرے اور صہیونی محاصرہ توڑنے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ صہیونی دائیں بازو کی حکومت کو غزہ کی پٹی میں ہمارے عوام کی نسل کشی جاری رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔

دوسری جانب جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی قبضہ مہم جاری ہے، غزہ میں بمباری سے بچ جانے والی 2500 عمارتیں گرادی گئیں۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق دو ماہ سے زائد عرصہ قبل جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں کئی عمارتوں اور انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔

غزہ میں بیشتر عمارتیں اسرائیل کے زیرِ قبضہ یلو لائن میں تھیں جنہیں مکمل طور پر گرا دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے دوران عمارتوں کو مسمار کرنا اسرائیل کا ایجنڈا ہے۔

ادھرغزہ میں حکومتی میڈیا دفتر نے شدید سردی کی نئی لہر کے ساتھ غزہ کی پٹی میں انسانی المیے کے مزید سنگین ہونے سے خبردار کیا ہے۔ دفتر نے تصدیق کی ہے کہ موسم سرما کے آغاز سے اب تک سردی کے باعث شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے جن میں تمام کے تمام بچے شامل ہیں۔

یہ المیہ قابض اسرائیل کے مسلسل محاصرے، وسیع پیمانے پر تباہی اور محفوظ رہائش کی بنیادی سہولیات کے فقدان کے سائے میں پیش آ رہا ہے۔دفتر نے منگل کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ غزہ پر قابض اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے لے کر منگل 13 جنوری 2026ء تک سردی اور گھروں کے منہدم ہونے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 24 تک جا پہنچی ہے۔

یہ تمام شہداء جبری پناہ گزین کیمپوں میں مقیم بے گھر افراد تھے جن میں 21 بچے شامل ہیں۔بیان میں بتایا گیا کہ شدید آندھیوں اور موسمی دباؤ کے باعث گذشتہ دو دنوں کے دوران تقریباً 7 ہزار خیمے بہہ گئے جس سے ہزاروں بے گھر خاندانوں کی اذیت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

حکومتی میڈیا دفتر نے وضاحت کی کہ یہ اعداد و شمار انسانی سانحے کی شدت میں خطرناک اضافے کا واضح اشارہ ہیں، کیونکہ حرارت کے ذرائع تقریباً ناپید ہیں، محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں اور کمبلوں اور سردیوں کے ملبوسات کی شدید قلت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد کی مطلوبہ مقدار میں ترسیل پر عائد پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔دفتر نے یاد دلایا کہ وہ اس سے قبل بھی موسمی دباؤ اور شدید سردی کی لہروں کے سنگین نتائج سے خبردار کر چکا ہے اور نشاندہی کی تھی کہ یہ حالات بچوں، مریضوں اور بزرگوں کی زندگیوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن رہے ہیں۔

بیان میں تنبیہ کی گئی کہ اگر فوری مداخلت نہ کی گئی تو شہداء کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔دریں اثناء غزہ شہر میں قابض اسرائیلی بمباری سے متاثرہ عمارتوں کے منہدم ہونے کے نتیجے میں چار فلسطینی شہری شہید ہو گئے جن میں دو خواتین اور ایک بچی شامل ہیں۔

یہ افسوسناک واقعہ غزہ شہر کے مغربی علاقے الشالیہات میں پیش آیا جہاں شدید ہواؤں کے باعث ایک شادی ہال زمین بوس ہو گیا جو بے گھر فلسطینیوں کے لیے عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔مقامی ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں 15 سالہ بچی ریماس بلال حمودہ 42 سالہ دعا منصور حمودہ اور 72 سالہ بزرگ محمد العبد حمودہ شامل ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

یہ حادثہ الشالیہات کے قریب واقع اورگنزا ہال کی عمارت کے ایک حصے کے گرنے سے پیش آیا جو قابض اسرائیل کی گذشتہ بمباری میں شدید طور پر متاثر ہو چکی تھی اور تیز ہواؤں اور بارشوں کا سامنا نہ کر سکی۔

اسی دوران 33 سالہ فلسطینی خاتون وفا شرر بھی شہید ہو گئیں جب غزہ شہر کے مغربی حصے میں شارع الثور کے اطراف قابض اسرائیل کی سابقہ بمباری سے متاثرہ ایک گھر کی دیوار شدید موسمی حالات کے باعث گر گئی جبکہ سیز فائر کے باوجود غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی جارحیت تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔

منگل کو قابض اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں پر توپ خانے اور فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ رہائشی گھروں کو بارود سے اڑانے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ یہ حملے گذشتہ برس دس اکتوبر سے نافذ سیز فائر معاہدے کی ایک اور کھلی خلاف ورزی ہیں۔

ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ قابض اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی غزہ میں واقع خان یونس شہر کے جنوب مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران قابض افواج کی بکتر بند گاڑیوں سے شدید فائرنگ کی گئی جبکہ جنگی طیارے علاقے کی فضاؤں میں منڈلاتے رہے۔

ذرائع کے مطابق قابض اسرائیل کے طیاروں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر فضائی حملہ کیا جبکہ رفح شہر کے مغربی علاقوں کو بار بار توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔مرکزی غزہ میں قابض اسرائیلی توپ خانے نے البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی۔

بلدیہ غزہ کے سربراہ یحییٰ السراج نے کہا ہے کہ ریسکیو اور ایمرجنسی کے عملے رات کے ابتدائی گھنٹوں سے ہی سیلابی ریلوں کے دباؤ اور تیز آندھی کے بعد پھیلنے والے کوڑے کرکٹ کے مقابلے میں عملاً بے بس ہو کر کام کر رہے ہیں۔

ایندھن، گاڑیوں اور آلات کی شدید قلت برقرار ہے، جب کہ غزہ کی بلدیات اپنے 85 فیصد سے زائد آلات پہلے ہی کھو چکی ہیں۔انہوں نے الجزیرہ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ بارش کے پانی کی نکاسی کے نالوں کی بندش اور نشیبی علاقوں میں پانی کے جمع ہونے نے ایمرجنسی ٹیموں کے کام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

بے گھر افراد کے لیے نصب خستہ حال خیمے سردی اور بارش سے کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کر پا رہے جس کے باعث ہزاروں خاندانوں کی تکالیف میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ میں طبی صورت حال بھی انتہائی تاریک ہوتی جا رہی ہے۔

ادویات کی قلت، طبی عملے اور ایندھن کی کمی کے باعث معمولی بیماریاں بھی مریضوں کی جان کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، ایسے میں بنیادی علاج اور ہنگامی طبی سہولیات تک میسر نہیں۔

ادھرعالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ٹیڈروس اَدھانوم گیبریئسس نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ ہزار پانچ سو سے زائد مریض اب بھی فوری طبی انخلا کے شدید محتاج ہیں۔ ان میں تقریباً چار ہزار معصوم بچے بھی شامل ہیں جو قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ اور محاصرے کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

اسی تناظر میں ٹیڈروس گیبریئسس نے دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ غزہ سے آنے والے مریضوں کے لیے اپنے دروازے کھولیں اور مغربی کنارے بالخصوص مشرقی القدس کی جانب طبی انخلا کے عمل کو دوبارہ بحال کریں تاکہ ان زخمی اور بیمار فلسطینیوں کو ضروری علاج میسر آ سکے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ ہفتے کے دوران غزہ کی پٹی سے اٹھارہ مریضوں اور ان کے چھتیس تیمارداروں کو اردن منتقل کرنے میں معاونت فراہم کی جہاں انہیں خصوصی طبی نگہداشت دی گئی۔

غزہ کے فلسطینی اسیران کے اہل خانہ نے شہر غزہ میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ اس احتجاج کا مقصد قابض اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے بیٹوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ان کے انجام سے متعلق حقائق جاننے کا مطالبہ تھا۔

دھرنے کے دوران اہل خانہ نے ریڈ کراس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسیران کی قسمت واضح کرے اور قابض اسرائیل کی جیلوں میں ان کے حالات سے آگاہ کرے کیونکہ اس پورے معاملے پر گہرا ابہام چھایا ہوا ہے۔

اسیران کے خاندان محدود ذرائع ابلاغ اور مستند سرکاری معلومات کی عدم دستیابی کے باعث مسلسل اضطراب کا شکار ہیں۔القدس گورنری نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی حکومت نے مقبوضہ القدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی ‘انروا’ کی عمارتوں سے بجلی اور پانی کاٹنے کے قانون پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔

گورنری نے ایک بیان میں بتایا کہ قابض اسرائیلی حکام نے باضابطہ نوٹس جاری کرنے کا آغاز کر دیا ہے تاکہ جلد از جلد اس فیصلے پر عمل کیا جا سکے۔ یہ ایک نیا اشتعال انگیز قدم ہے جس کا مقصد شہر کے اندر ‘انروا’ اور اس کے اہم اداروں کے وجود کو نشانہ بنانا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ نسلی امتیاز پر مبنی نسلی دیوار کے اندر واقع ‘انروا’ کی عمارتوں کو بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کے نوٹس اسرائیلی بجلی کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور ان پر پندرہ دن بعد عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

ادھرمغربی کنارے میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سربراہ زاہر جبارین نے قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے شہید کمانڈر انجینئر یحییٰ عیاش کی اہلیہ کی گرفتاری پر فخر جتانے اور فلسطینی خواتین کی مسلسل گرفتاریوں کو ایک نئی حماقت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اوچھی حرکتیں ایتمار بن گویر اور اس کے غنڈہ گروہوں کی قیادت میں انجام دی جا رہی ہیں اور یہ مظالم ام البراء کے عزم و حوصلے کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتے۔

زاہر جبارین نے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس طرح کا تکبرانہ رویہ انجینئر یحییٰ عیاش کی شبیہ کو بھی متاثر نہیں کر سکتا جنہوں نے اپنی جرات مندانہ کارروائیوں کے ذریعے قابض اسرائیل کو ذلت سے دوچار کیا اور دنیا کے سامنے اس کی نام نہاد ہیبت کو پاش پاش کر دیا۔

غزہ کے انسانی حقوق مرکز نے کہا ہے کہ اسے بیرون ملک مختلف ممالک میں مقیم ایسے فلسطینیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں جن کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے۔ ان شکایات میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی سفارت خانے اور سفارتی مشنز نام نہاد سیکورٹی پابندی کا بہانہ بنا کر ان کے پاسپورٹ جاری کرنے یا تجدید کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

مرکز نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیاکہ وہ ان اقدامات پر نظر ثانی کرے اور دنیا بھر میں موجود تمام فلسطینی شہریوں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے ان کی سرکاری دستاویزات کے حصول کے حق کو یقینی بنائے۔