استاذ محترم حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب کے خلد آشیانی ہوجانے سے ہزاروں علماء و لاکھوں طلبہ یتیم ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
امتِ مسلمہ پر غموں اور دکھوں کا منحوس سلسلہ دراز ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک اللہ والے اٹھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے اختتام میں ملے پے درپے تین صدموں سے نہ سنبھلے تھے کہ نئے سال کے آغاز میں ایک اور ز خم مل گیا۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم اعلی حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب بھی انتقال فرما گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت الاستاذ کو غریقِ رحمت فرمائیں۔ آپ بھی دعا کے لئے لازمی ہاتھ اٹھا لیجئے گا۔
پاکستان کی دینی و علمی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوئے ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں، بلکہ ان کا نام بذاتِ خود ایک ادارے کی شناخت بن جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک قد آور شخصیت حضرت مولانا حافظ مفتی فضل الرحیم اشرفی صاحب کی تھی۔ وہ علم و عمل کا ایک ایسا حسین سنگم تھے، جنہیں دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ ان کی رحلت نے نہ صرف جامعہ اشرفیہ بلکہ پورے عالمِ اسلام کو سوگوار کر دیا ہے۔ معلومات کے مطابق مولانا فضل الرحیم اشرفی کی ولادت جنوری 1944ء میں ایک ایسے علمی گھرانے میں ہوئی جو علم و عمل کا مرکز و محور تھا۔ ان کے والدِ محترم حضرت مفتی محمد حسن امرتسری، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے وہ جلیل القدر خلیفہ تھے جنہوں نے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ کا بچپن اسی علمی ماحول میں گزرا، جہاں تربیت کا آغاز آپ کی والدہ ماجدہ نے کیا اور پھر آپ نے جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد میں باقاعدہ حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی۔ حضرت کا تعلیمی سفر نہایت شاندار رہا۔ آپ نے قرآن حضرت قاری خدا بخش صاحب سے اور پھر قاری عبدالمالک صاحب سے بھی پڑھا اور انہی سے روایت حفص کی سند حاصل کی۔
اس کے بعد درسِ نظامی کا آغاز ہوا، جہاں آپ کو حضرت مولانا رسول خان صاحب اور حضرت مولانا ادریس کاندھلوی جیسے جید اساتذہ سے حدیث پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ انتہائی قابل ترین طالب علم رہے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ 1962میں آپ نے سند فراغت حاصل کی تو امتحانات میں 500میں سے 502نمبرات حاصل کیے، لیکن علمی پیاس یہیں ختم نہیں ہوئی، انہوں نے بہاولپور یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہاں مفسرِ قرآن علامہ شمس الحق افغانی جیسے محقق سے فیض پایا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جامعہ اشرفیہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔ آپ کے پڑھانے کا انداز انتہائی مسحور اور متاثر کن تھا۔ آپ جب اپنے انداز میں عبارت پڑھتے تو درسِ بخاری کا لطف دوبالا ہو جاتا۔ مشکل سے مشکل مسئلے کو بھی نہایت سہل انداز میں سمجھانے کا ملکہ رکھتے تھے۔ مفتی صاحب کی شخصیت میں اللہ نے انتظامی صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری تھیں۔ وہ نہ صرف جامعہ اشرفیہ کے مہتمم تھے، بلکہ انہوں نے کئی اہم قومی و دینی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔
وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست، مجلسِ صیانة المسلمین کے صدر، قرآن بورڈ پنجاب کے چیئرمین اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ وہ رابطہ ادبِ اسلامی پاکستان کے صدر بھی رہے، جو ان کی علمی صلاحیت اور انتظامی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصروفیات کے پہاڑ کے باوجود انہوں نے قلم سے ناتہ نہیں توڑا۔ ان کی تصانیف میں خلفائے راشدین، تعلیماتِ احکامِ اسلام، جہاد، مسائل نماز، والدین کے حقوق، اسماء الحسنی اور فضائلِ رمضان جیسی گراں قدر کتب شامل ہیں۔ وہ اخبارات و جرائد میں بھی مسلسل لکھتے رہے تاکہ عوام الناس کی شرعی رہنمائی ہوتی رہے۔ علمی رسوخ کے ساتھ ساتھ آپ بھرپور روحانی سلسلہ بھی رکھتے تھے۔ آپ کا ابتدائی اصلاحی تعلق اپنے والد مفتی محمد حسن سے رہا، اور بعد ازاں آپ کو ڈاکٹر عبدالحئی عارفی اور ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب سے چاروں سلسلوں میں خلافت و اجازت حاصل ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد آپ کا اصلاحی تعلق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ حضرت مولانا صوفی سرور صاحب سے قائم رہا اس کے بعد زندگی کے آخری ایام تک ہم سبق دوست شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب سے یہ تعلق قائم رہا۔
اگر مفتی صاحب کی زندگی کا خلاصہ بیان کیا جائے، تو وہ تواضع، عاجزی اور سادگی کا نمونہ تھے۔ ہر طالب علم کے ساتھ ان کا سلوک اتنا محبت بھرا ہوتا تھا کہ ہر کوئی خود کو ان کے سب سے قریب سمجھتا۔ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت ان کا معمولِ خاص تھا۔ آج مفتی فضل الرحیم اشرفی صاحب جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کی علمی خدمات، ان کے قائم کردہ تعلیمی منصوبے اور ان کے ہزاروں شاگرد صدقہ جاریہ کے طور پر ان کا نام ہمیشہ روشن رکھیں گے۔ اصل بات یہی ہوتی ہے کہ جانے والے کے جاری کردہ اداروں، منصوبوں اور کاموں کو مزید آگے پھیلایا جائے۔ مریدین، متعلقین اور شاگردوں کے کرنے کا دوسرا بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر قرآن پڑھ کر ایصال ثواب کریں۔ صدقہ خیرات کا اہتمام کریں۔
مجھے یاد ہے 2018ء میں جب میں اپنی فیملی کے ساتھ لاہور گیا تو حضرت استاذ محترم نے اپنے گھر ہماری پر تکلف دعوت کی۔ بچوں کو لاہور کی مشہور قلفی بھی کھلائی۔ بچہ پارٹی بہت خوش ہوئی۔ ہمیں اور ہماری فیملی کو خوب تحائف سے بھی نوازا۔ کھانے کے بعد قہوے کی ٹیبل پر نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا اپنے مرحومین کیلئے صدقہ خیرات کا بھی خوب اہتمام کیا کریں۔ ہم نے اس وقت یہ نصیحت پلے بندھ لی تھی۔ جب سے ہمارے والدین کی وفات ہوئی ہے الحمد للہ ہم روزانہ ہی یہ کام کرتے ہیں۔ آپ سے بھی یہی درخواست ہے کہ دنیا سے جانے والے اپنے پیاروں اور مرحومین کے لئے روزانہ کی بنیاد پر یہ کام لازمی کیا کریں۔ قرآن پڑھ کر، نوافل ادا کرکے، صدقہ کر کے دعائے مغفرت کی عادت ڈالیں۔ اگر یہ کام آپ کریں گے تو آپ کے دنیا سے جانے کے بعد آپ کی اولاد بھی ایسا ہی کرے گی، ان شاء اللہ!

