مفتی مختار الدین شاہ دارالایمان کربوغہ شریف میں سپرد خاک،رقت آمیز مناظر

خانقاہ کربو غہ شریف کے سجادہ نشین وشیخ الحدیث مفتی پیر مختار الدین شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ کی نماز جنازہ دارالایمان کربوغہ شریف میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،مفتی پیر مختار الدین شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ کو دارالایمان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ میں پنجاب اور سندھ سے بھی کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

مفتی پیر مختار الدین شاہ رحم اللہ علیہ 1950ء میں پیدا ہوئے،حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحم اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے، دارالعلوم کراچی سے بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ دارالعلوم اکبر مردان میں شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان مدنی شہید سے دورہ حدیث پڑھا ۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پیر مختار الدین شاہ مرحوم کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی پیر مختار الدین شاہ رحم اللہ امت مسلمہ کا ایک قیمتی اثاثہ تھے، جن کے انتقال سے آج امت ایک عظیم سرمایہ ایمان و تقوی سے محروم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کربوغہ جیسے پسماندہ علاقے میں ایمان، اخلاص اور تقوی کی شمع روشن کی، جس کی روشنی سے امتِ مسلمہ نے بھرپور استفادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم سے میرے دوستانہ اور برادرانہ مراسم رہے، اور وہ شعائرِ اسلام پر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنے والے بزرگ تھے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں حضرت مولانا حافظ محمد ناصر الدین خان خاکوانی، مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، مولانا عزیز الرحمان جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ایک مشترکہ بیان میں پیر طریقت مفتی سید مختار الدین شاہ کربوغہ شریف کی وفات پر قلبی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف برک العصر، شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی کے اجل خلفا میں سے تھے۔

ان کی ساری زندگی مسلمانان عالم کی اصلاح میں گززی۔ ہزارہا لوگوںنے ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے گناہوں سے توبہ کی اور آئندہ کے لئے اپنی زندگیوں کو اللہ پاک کی یاد ذکر و اذکار میں گزارنے کا عہد کیا۔ رہنماؤں نے حضرت مرحوم کی مغفرت، پسماندگان، خلفا و خدام کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔