این ایچ اے، ٹھیکوں اورجرمانوں کی مد میں28 ارب روپے کی بے قاعدگیاں

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ہائی ویز پر اوور لوڈ ٹرکوں سے 16 ارب روپے نہ لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔آڈٹ حکام کے مطابق کل 18 ہزار ٹرکوں پر اوور لوڈ کی مد 17 ارب کا جرمانہ لگایا گیا تاہم این ایچ اے نے 16 ارب روپے کی ریکوری نہیں کی جس سے خزانے کو نقصان ہوا۔سیکرٹری این ایچ اے نے بتایا کہ اس وقت سڑکوں پر ایکسل لوڈ کی چیکنگ 90 فیصد سے زیادہ ہے، آڈٹ حکام نے ایک مفروضے پر یہ جرمانے کا نمبر بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کل 236 ایکسل لوڈ چیکنگ سسٹم موجود ہیں، یہ اعداد و شمار نومبر 2023ء سے پہلے کے ہیں جب یہ سسٹم موجود ہی نہیں تھا۔انہوںنے کہاکہ اس وقت ہماری 78 فیصد ہائی ویز اور موٹرویز پر ایکسل لوڈ چیک کیا جارہا ہے، یہ سب ڈیٹا این ایچ اے کا ہے، ہمارا کچھ نہیں۔

ادھر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے شاہراہوں پر قائم ٹول پلازوں کے ٹھیکیداروں سے 12ارب روپے سے زائد وصول نہ کئے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جون 2026ء تک تمام وصولیاں کرنے کی ہدایت کی ہے،رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کہاکہ این ایچ اے میں کرپشن اور بے ضابطگیاں بہت زیادہ ہیں انکوائریاں ہوتی ہیں مگر کسی کو سزا نہیں دی جاتی ہے۔
قائمقام چیئرمین معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوااجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ آڈیٹر جنرل پاکستان سمیت سیکرٹری مواصلات اور ڈی جی پاکستان پوسٹ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں وزارت مواصلات کے مالی سال 2023/24کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ این ایچ اے نے تین سو تیرا کنٹریکٹرز سے 26ارب40کروڑ روپے سے زائد ٹال ٹیکس وصول نہیں کی ۔

اس موقع پر رکن کمیٹی سینٹڑ بلال احمد مندوخیل نے کہاکہ این ایل سی یا ایف ڈبلیو پیسے کیوں نہیں دے رہا ؟ کیا این ایل سی یا ایف ڈبلیو اس فورم کو اہمیت نہیں دیتا ہے جس پر این ایچ اے حکام نے بتایا کہ یہ کورونا کے دوران کا معاملہ ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ کورونا کو کافی سال ہوگئے آپ نے کچھ نہیں کیا ہے ۔رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے کہاکہ جو کنٹریکٹرز پیسے نہیں دیتے ان کا کنٹریکٹ ختم کیوں نہیں کرتے ہیں اگر آپ کنٹریکٹ ختم نہیں کریں گے تو یہی ہوتا رہے گا۔ رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کہاکہ کیا ان کنٹریکٹرز کو دوبارہ بھی کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اگلی میٹنگ میں ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کو بلائیں۔

اس موقع پر سیکرٹری مواصلات نے کہاکہ جون 2026ء تک یہ ریکوریز ہو جائیں گی۔ اجلاس میں آڈٹ حکا م نے بتایا کہ لواری ٹنل پراجیکٹ میں ٹھیکیدار کو لیٹ پے منٹ سرچارج کی مد میں 18کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کی ہے جس پر سیکرٹری مواصلات کے کمیٹی کو بتایا کہ یہ کوریا کی کمپنی کا پراجیکٹ تھا۔ اس موقع پر جی ایم این ایچ اے نے بتایا کہ ٹھیکیدار نے کام کیا اور ہم نے رقم ادا کرنی تھی جو لیٹ ہوئی کیونکہ پی سی ون کو ریوائز کیا گیا اس کو ریل ٹنل سے روڈ ٹنل میں تبدیل کیا گیا اور مزید تبدیلیاں بھی کی گئی۔