اسلام آباد/کراچی/لاہور:صاحبِ نسبت بزرگ عالمِ دین مولانا پیر سید مختار الدین شاہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔اتوار کے دن پمز ہسپتال اسلام آباد میں مرحوم کا بڑا آپریشن ہوا تھاجس میں لیور اور گردوں کی صفائی ہوئی تھی،آپریشن کے بعد آئی سی یو میں تھے جہاں گزشتہ شب وہ جانبر نہ ہوسکے۔
حضرت اکابرِ اسلاف کا روشن نمونہ اور عالمِ اسلام کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔ آپ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، سنتِ نبوی ۖ کے فروغ، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے لیے وقف رہی۔
علم و عمل کا حسین امتزاج، اخلاص و تقویٰ اور امت کا درد آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے، جن سے خواص و عوام یکساں طور پر مستفید ہوتے رہے۔ کئی کتب کے مصنف اور علمی اور روحانی شخصیت تھے۔
حضرت مولانا مفتی سید مختار الدین شاہ جامعہ زکریا دارالامان کربوغہ شریف (ضلع ہنگو)میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست کی حیثیت سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
مفتی صاحب کی پیدائش1950ء میں کربوغہ شریف ہنگومیں ہوئی۔تعلیم دارالعلوم کراچی سے حاصل کی، تخصص شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی سے کیا۔بیعت و خلافت مولانا محمد زکریا کاندہلوی رحمہ اللہ سے کی، جو چشتیہ سلسلہ کے عظیم شیخ تھے۔
1982ء میں مولانا زکریا کاندہلوی رحمہ اللہ سے خلافت ملی۔ انہوں نے طویل عرصہ اس خلافت کو راز رکھا پھر مولانا عزیز الرحمن ہزاروی رحمہ اللہ نے ظاہر کیا۔ مفتی صاحب مولانا زکریا رحمہ اللہ کے آخری چند ایک خلفا میں سے تھے۔
اب پاکستان میں مولانا زکریا رحمہ اللہ کے دو خلفاء موجود ہیں۔ مولانا احسان الحق رائیونڈ اور مفتی شاہد امین کراچی۔ جامعہ زکریا دارالعلوم کربوغہ شریف (دارالایمان و التقویٰ)کے شیخ الحدیث اور دینی تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی تھے۔
کربوغہ شریف میں ان کا روحانی مرکز ہے، جہاں دنیا بھر سے لوگ تزکیہ و اصلاح کے لیے آتے ہیں۔ ان کا مقصد مسلمانوں کی خواب غفلت سے بیداری، امت میں اتحاد و اتفاق کا فروغ،مثالی اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اغیار کی غلامی سے نجات دلانا تھا۔
ان کی نماز جنازہ آج دوپہر 2:00 بجے،مرکز الایمان، کربوغہ شریف، ضلع ہنگو، خیبر پختونخوا میں ادا کی جائے گی۔
دریں اثناء مہتمم جامعة الرشید مفتی عبدالرحیم،وفاق المدارس العربیہ کے قائدین صدر وفاق مولانا مفتی محمد تقی عثمانی،سینئر نائب صدر مولانا انوار الحق اور ناظم اعلیٰ وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری،جامعہ اشرفیہ لاہور کے سرپرست و صدر مولانا حافظ فضل الرحیم، مہتمم مولانا قاری ارشد عبید،مولانا محمد یوسف خان،حافظ اسعد عبید،مولانا زبیرحسن،مولانا مجیب الرحمن۔
انٹر نیشنل ختم نبوت مو ومنٹ ورلڈ کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ ،مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج ،نائب امیرمولانا عبدالرؤف مکی ، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، مولانا زاہد محمود قاسمی،معاون خصوصی امیر مرکزیہ مولانا محمد بن سعید ، مرکزی ترجمان مولانا مجیب الرحمن۔
،مولانا قاری محمد طیب عباسی ، مولانا محمدامداد اللہ قاسمی، مولانا قاری شبیر احمد عثمانی ،مولانا قاری محمدرفیق وجھوی ،مولانا افتخاراللہ شاکر،مولانا غلام یاسین صدیقی اورجامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے مہتمم ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم ودیگر نے مولانا مفتی مختار الدین شاہ کی رحلت کو امت مسلمہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے ان کے لواحقین و پسماندگان سے مسنون تعزیت کا اظہار کیا۔
علماء کرام کا کہنا تھا کہ مولانا مفتی مختار الدین شاہ اپنی ذات میں انجمن تھے،انہوں نے مختصر مدت میں خلق خدا کی اصلاح و ارشاد کا گرانقدر کام کیا۔حضرت مولانا سید مختار الدین شاہ کی وفات سے ملک ایک جید عالم دین اور نامور علمی و اصلاحی شخصیت سے محروم ہوگیا ۔
ان کی ملک و ملت کے لیے گراں قدر خدمات تھیں ان کی دینی، علمی اور روحانی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔علماء کرام نے اپیل کی کہ ملک بھر کے دینی مدارس کے منتظمین اور مساجد و مدارس کے ذمہ داران مفتی مختار الدین شاہ رحمہ اللہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائوں کا اہتمام کریں۔

