غزہ میں نیا انسانی بحران،خوراک،ادویات ناپید،ایندھن کی عدم فراہمی پر ہسپتال بند

غزہ/تل ابیب / روم/بیروت:غزہ میں پچھلے اڑھائی ماہ سے جنگ بندی کے باوجود خوراک اور ادویات کے علاوہ ایندھن کی فراہمی بھی بلا روک ٹوک ممکن نہ ہونے کے باعث غزہ میں کام کرنے والے ایک جنرل ہسپتال نے ایندھن نہ ملنے کی وجہ سے اپنی خدمات کو معطل کردیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی عدم موجودگی میں ہسپتال کو چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس ہسپتال کی بندش سے بھی ایک نیا انسانی بحران پیدا ہوگا۔

توقع کی جا رہی تھی کہ 10 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ پر اسرائیلی بمباری رک جائے گی اور خوراک، ادویات اور ایندھن کی سپلائی کو بلا روک ٹوک اسرائیل اجازت دے دے گا لیکن تقریباً اڑھائی ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ امید پوری نہیں ہو سکی۔

ادھرشمالی غزہ کی بلدیات نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے پوری طرح سے اس علاقے کو ایک تباہ شدہ زون میں تبدیل کر دیا ہے کیونکہ اس نے بنیادی ضروریات جیسے پانی، ایندھن اور پرزے داخل کرنے پر پابندی جاری رکھی ہوئی ہے، نیز تعمیر نو کے لیے ضروری سامان کی آمد کو بھی روک دیا ہے جس سے انسانی و سروس بحران بے مثال حد تک بڑھ گیا ہے۔

بلدیات نے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے 150 کلومیٹر سے زائد اہم سڑکیں تباہ کر دی ہیں، تقریباً 70 پانی کے کنویں اور صفائی کے اسٹیشنز ناکارہ بنا دیے، بلدیات کے تمام جنریٹر تباہ کر دیے اور تقریباً 50 ہزار ڈونم زرعی زمین و فصلیں برباد کر دی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پانی کے کنوئوں اور سیوریج نیٹ ورک چلانے کے لیے ضروری ایندھن کی کمی، مرمت کے سامان اور پائپ لائنوں کی غیر موجودگی کے باعث ہزاروں ٹن کوڑا کرکٹ سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں جمع ہو گیا ہے جو ایک حقیقی صحت عامہ کے بحران اور بیماریوں کے پھیلائوکا خطرہ پیدا کرتا ہے۔

بلدیات نے کہا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے ضروری آلات اور مواد کی رسائی پر پابندی نے بلدیاتی عملے کی ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت تقریباً ختم کر دی ہے اور ہزاروں شہری بنیادی خدمات سے محروم ہیں۔

شمالی غزہ کی بلدیات نے عالمی برادری اور انسانی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ علاقے میں بقا کے ذرائع بچائے جائیں اور قابض اسرائیل پر دبائو ڈال کر ایندھن، پرزے، مرمت و تعمیر نو کے سامان کی آمد کی اجازت دی جائے تاکہ پانی اور سیوریج کے نظام کو دوبارہ فعال کیا جا سکے اور متاثرہ سڑکیں کھولی جا سکیں۔

اگرچہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت روزانہ 600 ٹرک امداد داخل ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، غیر سرکاری تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مطابق قابض اسرائیل کی حکومت اب بھی اس معاہدے کو متاثر کر رہی ہے اور صرف 100 سے 300 ٹرک داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے جو زیادہ تر محدود امدادی سامان لے کر آتے ہیں اور بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔

بلدیات نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے جاری رہنے سے شمالی غزہ مکمل بحران کے دہانے پر پہنچ جائے گا اور انسانی بحران ایک طویل مدتی آفت میں تبدیل ہو جائے گا۔

دوسری جانب فلسطینی مرکز برائے دفاعی اراضی اور مزاحمت آبادکاری نے جاری ایک رپورٹ میں قابض اسرائیلی حکومت کی ان کارروائیوں پر خبردار کیا ہے جو غیر قانونی آبادکاری مراکز اور چراگاہوں کو باقاعدہ آبادکاری میں تبدیل کرنے کی تیز رفتار کوشوں کی شکل میں جاری ہیں۔

اس کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کو ناکام بنانے کی سوچی سمجھی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور عالمی قانونی فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہے جس میں امریکا کی براہ راست سیاسی حمایت شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ قابض اسرائیلی کابینہ کی سیکورٹی وزارتی کمیٹی نے گذشتہ اتوار کو مغربی کنارے میں 19 نئی بستیوں کے قیام کی منظوری دی جسے بین الاقوامی قوانین اور روایات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا جبکہ وزیر مالیات بزلئیل سموٹریچ نے اسے ”تاریخی فیصلہ قرار دیا” جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے ہر امکان کو ناکام بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس منظوری کے بعد گزشتہ تین برسوں میں منظور شدہ بستیوں کی تعداد 69 تک پہنچ گئی ہے جو آبادکاری کی تیز رفتار توسیع کی مثال ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کابینہ کی منظوری سے نئی بستیاں مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں پھیلی ہوئی ہیں اور یہ بنیادی طور پر یا تو2005ء میں خالی کی گئی بستیوں، یاچراگاہیں اور آبادکاری مراکز یا موجودہ بستیوں کے حصے ہیں جنہیں سب کو آزاد بستیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں بجٹ، بنیادی ڈھانچے اور سرکاری مراعات دی گئی ہیں۔

ادھر چاقو حملے میں2صہیونیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر جنین کے علاقے قباطیہ پر دھاوا بول دیا۔ گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں ہونے والے گاڑی چڑھانے اور چھرا گھونپنے کے واقعات میں دو اسرائیلی ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق حملوں کا سلسلہ بیسان شہر سے شروع ہوا جہاں ایک راہگیر کو گاڑی تلے کچلا گیا،بعد ازاں عین حارود کے علاقے میں ایک خاتون کو چھرا گھونپ کر ہلاک کیا گیا۔عفولہ میں شہریوں نے مشتبہ شخص کو قابو کرنے کی کوشش کی۔

سیکورٹی فورسز نے حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے ہسپتال منتقل کر دیا جس کی شناخت قباطیہ کے رہائشی کے طور پر کی گئی ہے۔واقعے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو قباطیہ میں فوری اور بھرپور آپریشن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔

علاوہ ازیں غزہ کے معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو وائٹ ہاؤس کے اس بااثر حلقے کی حمایت کھو چکے ہیں جسے ٹرمپ کا سخت گیر داخلی دائرہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کی پالیسیاں غزہ میں امن عمل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیس نے اعلیٰ سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کے قریبی معاونین، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدارتی مشیر جیرڈ کشنر، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شامل ہیں، نیتن یاہو کے طرزعمل سے شدید مایوس ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو جان بوجھ کر غزہ میں جنگ بندی اور امن عمل کو سست کر رہے ہیں۔رپورٹس میں کہا گیا کہ نیتن یاہو اب بیشتر امریکی اتحادیوں کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں اور اس وقت صرف صدر ٹرمپ ہی ذاتی سطح پر ان کی حمایت کر رہے ہیں تاہم ٹرمپ غزہ کے معاملے میں تیز پیش رفت چاہتے ہیں۔

اختلافات کا مرکز غزہ سے متعلق اسٹریٹجک فیصلے ہیں، جن میں مرحلہ وار غیر مسلح کرنے کے منصوبے اور فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام پر اختلاف شامل ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے بعض عہدیداروں نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں پر بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔

ادھر نیتن یاہو فلوریڈا میں ٹرمپ سے ملاقات کے ذریعے براہ راست صدر کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اطالوی پولیس نے بتایا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے لیے مبینہ طور پر لاکھوں یورو جمع کرنے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ملک سے باہر موجود دو مزید مشتبہ افراد کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔

پولیس کے بیان کے مطابق تحقیقات میں تین ایسی تنظیمیں سامنے آئی ہیں جو بظاہر فلسطینی شہریوں کی امداد کے لیے کام کر رہی تھیں تاہم درحقیقت انہیں حماس کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان تنظیموں کے ذریعے تقریباً 70 لاکھ یورو ایسے اداروں کو منتقل کیے گئے جو غزہ، فلسطینی علاقوں یا اسرائیل میں قائم تھے اور جن کا تعلق یا کنٹرول حماس سے بتایا گیا ہے۔

اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان تنظیموں کا سرکاری مقصد فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عطیات جمع کرنا تھا، مگر 71 فیصد سے زائد رقوم براہِ راست حماس یا اس سے منسلک اداروں کی مالی معاونت کے لیے مختص کی گئیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمع کی گئی کچھ رقم ایسے افراد کے اہلِ خانہ کو دی گئی جو دہشت گرد حملوں میں ملوث پائے گئے۔اطالوی وزیر داخلہ ماتیو پیانتیدوسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اس کارروائی نے ان سرگرمیوں سے پردہ اٹھا دیا ہے جو فلسطینی عوام کی مدد کے نام پر درحقیقت دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور ان میں شمولیت کو چھپا رہی تھیں۔

حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ نیٹ ورک سے جڑے تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ادھرصہیونی فورسز نے لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے امن دستے میں شامل فوجی اہلکار کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔

غیرملکی میڈیاکے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ لبنان میں تعینات اس کی عارضی امن فوج کی پوزیشنز پر اسرائیلی حملے میں ایک اہلکار زخمی ہوگیا ہے، اسرائیل کی جانب سے یہ حملہ ایک جارحانہ اقدام ہے۔اقوام متحدہ امن دستے کی جانب سے واقعے کی تفصیل میں بتایا گیا کہ بسترا گاؤں کے قریب فائرنگ کے ساتھ دستی بم دھماکا بھی ہوا ہے۔