کراچی، مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش14گھنٹے بعد برآمد

کراچی:شہرقائد کے علاقے نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش مل گئی ۔ریسکیو حکام کے مطابق بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد نالے سے ملی ہے جسے جائے وقوعہ سے ایک کلو میٹر دور نالے سے تلاش کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا۔واقعہ اتوار کی رات 11 بجے کے قریب پیش آیا تھا جس کے بعد چھیپا، ایدھی اور شہریوں نے نہ صرف اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں حصہ لیا بلکہ چندہ جمع کر کے کھدائی کے لیے مشینری بھی منگوائی گئی۔

ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم وہ ناکام رہے ۔بعد ازاں ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا، ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کی گئی۔

اس موقع پر موجود مشتعل افراد نے سڑک پر ٹائرجلا کر ٹریفک کو معطل کردیا۔مشتعل افراد نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور میڈیا ہائوسز کی گاڑیوں پر پتھرائو کر کے شیشے توڑدیے اور نمائندوں کو زدوکوب کیا۔ بچے کی والدہ اور دا دا نے بھی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔

بعد ازاں پیر کی صبح بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد نالے سے ملی جسے جائے وقوعہ سے ایک کلو میٹر دور نالے سے تلاش کیا گیا تھا ۔ بچے کی شناخت 3 سال کے ابراہیم ولد نبیل کے نام سے ہوئی۔

بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو رات ساڑھے 10 بجے کے قریب شاپنگ کیلئے آئے تھے، بیٹا پارکنگ ایریا میں بائیک کھڑی کرنے گیا تھا، بچہ والدہ کے ساتھ تھا والد کے پیچھے بھاگا، اسی دوران گٹر کا ڈھکن کھلاتھا بچہ اس گٹر میں گرگیا۔

انہوں نے کہا کہ بچہ میرے بیٹے کی اکلوتی اولاد ہے، بیٹا پرائیویٹ ملازم ہے، اتنی تکلیف میں ہوں کہ منہ سے الفاظ ادا نہیں ہورہے، متعلقہ اداروں کی جانب سے 3 ساڑھے 3 گھنٹے گزرجانے کے باوجود کسی کو مدد کیلئے نہیں بھیجا گیا لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مدد کی، ریسکیو کے کاموں سے مطمئن نہیں ہیں۔

دریں اثناء ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے کہاکہ بچہ مین ہول میں گرنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی تھیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے غلط بیانی کی، مشینری اور انتظامییہ موجودتھی، کچھ شرپسند عناصر نے سیاسی مقاصد کیلئے احتجاج کیا اور گاڑیوں کے شیشے توڑے۔

بچے کے والد نبیل نے کہا کہ ہم شاہ فیصل کے رہائشی ہیں اور میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ نیپا شاپنگ مال آیا تھا جب ہم نے شاپنگ کی تو باہر نکلے اور باہر آکر میرا بیٹا ہاتھ چھڑا کر بھاگا۔والد نے کہا کہ میری موٹر سائیکل گٹر کے مین ہول کے قریب پارک تھی جبکہ گٹر کے مین ہول پر ڈھکنا موجود نہیں تھا، انہوں نے بتایا کہ میری آنکھوں کے سامنے گٹر میں میرا بیٹا گرا ہے۔

ادھرترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید انے کہا ہے کہ گٹر میں بچہ گر نے کے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا۔سعدیہ جاوید نے بتایا کہ جس کی بھی غفلت ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

علاوہ ازیںسندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف قانون سازی کی جائے اور واقعے میں ملوث افراد کو نوکریوں اور عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ صوبائی اسمبلی اجلاس میں ارکان نے کہا کہ چاہے ڈکیتی میں قتل ہو یا گٹر میں ڈوب کر کسی کی ہلاکت، ہم میں سے ہر کوئی اس کا ذمہ دار ہے۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، کراچی میں تین سالہ بچے ابراہیم کی مین ہول میں گر کر ہلاکت کا دل خراش واقعہ ایوان میں موضوعِ بحث بن گیا۔ اپوزیشن لیڈر کو معاملے پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا۔

اجلاس کے دوران وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوس ناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں اس معاملے پر انتظامیہ سے گفتگو کی گئی ہے، اور جو بھی ذمہ دار ہوگا اسے سزا ملے گی۔

ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی افتخار عالم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں لوگ کب تک گٹر میں گر کر یا ڈمپر کی زد میں آ کر جان دیتے رہیں گے؟ اربوں روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر گٹر موت کے کنویں بنے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل کے ایم سی بلڈنگ میں سٹی کونسل اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان نے کے ایم سی بلڈنگ میں شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے میئرکراچی کے خلاف نعرے لگائے اور اپوزیشن جماعتوں نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ شہر میں پیش آنے والے ہر واقعے کی ذمہ داری میئر پر عائد ہوتی ہے، اس لیے مرتضیٰ وہاب فوری طور پر استعفا دیں۔

میئر کراچی مرتضی وہاب نے بچے کے مین ہول میں گر کر لاپتا ہونے کے معاملے پر کہا ہے کہ ٹائون چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے، کچھ کہوں گا تو لوگ ناراض ہوں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ نیپا کے قریب کمسن بچے کے گرنے کا مقام سیوریج لائن نہیں بلکہ برساتی نالہ تھا اور وہ اس سانحے پر اہلخانہ کے دکھ میں شریک ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو بدقسمتی سے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، حالانکہ ایسے موقع پر سیاست نہیں، مدد اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔میئر کراچی نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو حکم دیا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کھدائی کے دوران مشینری روکنے کا حکم کس نے دیا تھا اور اگر ایسا ثابت ہوا تو متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کور لگائے گئے، 55 فیصد یوسی چیئرمینز کو ڈھکن فراہم کیے گئے ہیں اور اب اس بات کی انکوائری ہوگی کہ انتہائی مصروف مقام پر مین ہول کھلا کیوں تھا اور یہ کتنے دن سے کھلا ہوا تھا۔