مافیاؤں کا راج

بدھ 24جون روزنامہ اسلام کی اس خبر پر حکام کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، سرخی یہ ہے ”توانائی بحران کی آڑ میں ایل پی جی مافیاز کا وار، عوام کی جیبوں سے 70ارب روپے نکال لیے” 309والی ایل پی جی 600روپے کلو سے بھی زائد دھڑلے سے فروخت، اوگرا نے قیمتیں مقرر کرکے عوام کو مافیاز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا، شہری پریشان۔

میرے خیال میں یہ رپورٹ ہی حکام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں توانائی کا بحران، صرف بجلی اور گیس کی قلت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مہنگائی صنعتی پیداوار، گھریلو بجٹ اور قومی سلامتی تک اثرانداز ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جب قدرتی گیس کی پیداوار بھی کم ہو رہی ہے اور عالمی منڈی میں گیس کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں سردیوں میں گیس کی طلب دگنی ہو جاتی ہے۔ ایسے صورت میں اگر اس وقت سرکاری نرخ 309روپے فی کلو لیکن سپلائی 600روپے فی کلو پر ہے، تو کیا ہوگا۔ اول سرکاری قیمت بھی بڑھے گی اور اس کے دگنے ریٹ کے حساب سے مافیاز کی سپلائی بھی جاری رہے گی۔ کہا جاتا ہے کہ مافیاز کی جانب سے افواہ پھیلائی جاتی ہے کہ جنگ کی کشیدگی کے باعث سپلائی رک گئی۔ ایران سے درآمدات میں تعطل پیدا ہوگیا ہے اور دیگر کئی باتوں کے باعث مارکیٹ کی ہیجانی کیفیت کو دیکھتے ہوئے مافیاز فوراً اپنا وار کر جاتے ہیں۔ جیسا کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 309روپے کی جگہ ایل پی جی 600میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس طرح 70ارب روپے بٹورے جا چکے ہیں۔ یہ مافیاز کی جیب میں چلے گئے ہیں۔ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ جب مارکیٹ میں قلت کی خبر پھیل جاتی ہے تو بعض بڑے بڑے ڈیلرز اور سپلائرز بڑی مقدار میں ایل پی جی ذخیرہ کرلیتے ہیں اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ افواہیں اس قسم کی پھیلا دی جاتی ہیں کہ درآمدات رک گئی ہیں جس طرح تیل کے بارے میں یہ افواہیں پھیلا دی گئیں تھی کہ تیل کی درآمدات رک گئی ہیں۔ حالانکہ ایران نے کبھی پاکستان کا ایک بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے نہیں روکا۔ اسی طرح قطر سے بھی گیس کی سپلائی آتی رہی۔ البتہ معمولی تاخیر ہوئی تھی۔ لیکن اس قسم کی افواہوں سے عوام میں خوف پھیل جاتا ہے اور وہ زیادہ خریداری شروع کر دیتے ہیں۔ قیمت مزید اوپر چلی جاتی ہے اور چونکہ عوام صارف کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوتا اور وہ مہنگا ترین ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اب تو امریکا ایران سمجھوتا ہوچکا ہے اور آبنائے ہر مز کھل چکی ہے،لھذا اب افواہیں پھیلانے کی گنجائش نہیں رہی ،تاہم مافیاز کو لگام دینا بہر حال ضروری ہے۔

اس میں اوگرا کا اہم کردار ہے، جو مافیاز کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی رکھتی ہے، حکومت کو چاہیے فوری طور پر ایسا قانون لے کر آئے جو عوام کی فلاح وبہبود اور ملکی معیشت کے لیے ہو کہ اس طرح کے ذخیرہ اندوزوں اور مافیاز کو اتنا بھاری جرمانہ کردیا جائے کہ اب ان کے لیے ذخیرہ کرنا نفع بخش نہیں بلکہ انتہائی نقصان کا باعث بن جائے گا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کوئی اور کام دھندہ کرلیا جائے اور ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی سے توبہ کرلی جائے۔ پاکستان کی حکومت اتنی زیادہ کمزوری کا مظاہرہ کرتی ہے کہ ملک میں پھیلے ہر طرح کے مافیاز کو لگام دینے میں ناکام ہے اور عوام کا بجٹ کا ہی دھڑن تختہ نہیں ہوتا بلکہ معیشت کا بھی ہوتا ہے۔ جب افراطِ زر اچانک بڑھنا شروع ہو تو حکومت کہتی ہے کہ عالمی منڈی کے اثرات ہیں، ان بیرونی اثرات پر الزام دھرنے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں، ہر شے کے پیچھے مافیاز، ذخیرہ اندوز، افواہ سازی، قانون کی دھجیاں اڑانے کا کلچر اور بہت سی باتیں موجود ہیں، جن کی اصلاح کرلی جائے تو ایسی صورت میں ملک سے تو مہنگائی پُھر سے اڑ جائے۔

اب آپ ملاحظہ فرمائیں۔ کبھی خبر آتی ہے، گندم کے ذخائر چھپا دیے گئے۔ قلت پیدا ۔تین سال قبل ایک مرحلے پر آٹے کی قیمت 170روپے فی کلو تک جا پہنچی تھی۔ بعد میں گزشتہ سال 110روپے فی کلو تھی۔ اب 150روپے فی کلو ہے۔ کیا اس مرتبہ گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی تھی؟ بالکل نہیں۔ پھر بھی پاکستانی عوام کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کافی حد تک کمی ہوچکی ہے مگر اشیاء صرف کی مہنگائی ہے کہ اسی جگہ ہے جہاں تیل کی قیمت چار سو روپے لٹر ہونے پر پہنچی تھی۔ وجہ یہی ہے کہ ملک میں مافیائوں کا راج ہے۔گوشت کی قیمت آئے روز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ چینی کی لاکھوں بوریاں ذخیرہ اندوز ادھر ادھر کر دیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں چینی کہاں ہے؟ اور حکام بھی کہتے ہیں صحیح بات یہ ہے کہ ہم نے تو پوری چھان بین کرلی ہے، چینی کہیں ملی ہی نہیں۔ کچھ عرصہ قبل کی بات ہے پنجاب میں ایک سفر کے دوران ایک محلے سے گزر رہے تھے کہ ایک ساتھی نے بتایا کہ حکام کہتے ہیں ملک میں چینی کی زبردست کمی ہے لہٰذا چینی درآمد کا فوری اعلان کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا اس حویلی میں ہزاروں بوریاں چینی کی موجود ہیں۔

موجودہ حکومت میں تو ہر شے کی قیمت بڑھتے ہی اس قسم کے کاریگروں سے ہوشیار رہنا پڑے گا۔ جو کبھی آٹے کی قلت، کبھی چینی، کبھی گھی، کبھی کھاد، کبھی ادویات، کبھی ایل پی جی سلنڈرز اور مختلف اشیاء کا بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرلیتے ہیں اور عوام کی جیبوں سے اربوں روپے بآسانی اپنی جیبوں میں منتقل کرلیتے ہیں اور یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل اس لیے ہے کہ قانون نرم ہے۔ شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔ اگر ایک شخص کے گودام سے ہزاروں بوریاں پکڑی جاتی ہیں تو فوری طور پر سارا مال ضبط اور اسی کی بلیک مارکیٹ ریٹ کے مطابق ،جیسے ایل پی جی جس کے ریٹ سرکاری ریٹ 309روپے فی کلو ہے اور 600روپے فی کلو دستیاب ہے، لہٰذا 600روپے کے حساب سے ان پر جرمانہ کیا جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔ جب وہ اپنی ساری جائیداد فروخت کرکے بھی جان نہ چھڑا سکے گا تو پھر مجبوراً ایسے افراد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توبہ کرلیں گے۔ اس طرح معاشرہ ان جیسے لوگوں کی ان معیشت آزار، عوام بیزار اور اللہ تعالیٰ کا گناہ گار ہونے والی حرکتوں سے عوام جیسے ہی آزاد ہوکر مطمئن ہو جائیں گے، مہنگائی میں فوری طور پر کمی واقع ہو جائے گی۔