سابق وزیر داخلہ رانا ثناء خان نے کہا ہے کہ سی پیک میں نواز شریف آرمی سے بہت مدد حاصل کی ہے اور وہ آرمی کو ساتھ لے کر چلے ہیں، پہلے بھی جو نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اس میں اسٹیبلشمنٹ نے تجاوز کیا تھا اور کسی بھی ادارے کا سربراہ اگر ملک کیلئے کام کرتا ہے تو اس کو کریڈٹ ضرور دینا چاہیے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے، نگراں وزیراعظم کے معاملے میں اختر مینگل کا گلہ اس لحاظ سے جائز ہے کہ وہ انکے سیاسی حریف ہیں، کسی نے بھی وزیراعظم کو نہیں کہا یہ نام ہے اور انکو نگراں وزیراعظم تعینات کیا جائیگا، اتفاق رائے ہوا تھا کہ نگراں وزیراعظم کوئی سیاست دان ہونا چاہیے، نگراں وزیراعظم کا تعلق اگر چھوٹے صوبے سے ہو، بلوچ ہو تو اچھا میسج جائیگا، سب سے زیادہ مناسب شخصیت انوار الحق کاکڑ صاحب بنتے ہیں، گھر میں ایک شخص پاگل ہوجائے تو تھانیدار کو تو بلانا پڑتا ہے اور جب تھایندار آکر اسکو قابو کریگا تو صوررتحال تو کمپومائز تو ہوگی۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان ‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے انحراف نہیں کرسکتا، اس حکومت کو انشور کرنا ہے کہ جو30 ستمبر کے ٹارگٹ ہیں، پاکستان نے ایگری کیا ہے کہ 20 فیصد ترسیلات، 22 فیصد ایکسپورٹ،33فیصد ٹیکس ریونیو بڑھائینگے۔ایک سوال پر سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نگراں وزیراعظم سے متعلق دو تین چیزوں پر اتفاق رائے تھا ایک یہ کہ کوئی سیاستدان ہونا چاہیے سابق جج یا ٹیکونکریٹ کے بجائے دوسرا یہ کہ اگر نگراں وزیراعظم کا تعلق چھوٹے صوبے سے ہو اور خاص طور پر بلوچستان سے ہو تو اچھا میسج جائیگا انہیں چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بات آگے بڑھی تو بہترین چوائس انوارالحق کاکڑ کی تھی اور یقینا باقی نام بھی اچھے تھے۔ تین چار ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق تو باہمی مشاورت سے ہی ہوتا ہے۔ رانا ثناء نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تین ناموں میں سے ایک نام پر پسندیدگی کا اظہار کیا تھا باقی تقریباً سب ہی جماعتوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم پر اعتماد ہے، اختر مینگل کا گلہ جائز اس لحاظ سے ہے کہ اتفاق سے انوارالحق کاکڑ ان کے صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اور انکے مخالف سیاست کرتے ہیں ۔ انوارالحق کاکڑ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمل سے بلوچستان سمیت پورے ملک میں جن لوگوں کو ان سے شکایت ہے وہ انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اگر اختر مینگل کی طرف سے کسی کا انتخاب ہوتا تو یہی شکایت انوارالحق کاکڑ کو ہوتا۔ میزبان نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں چونکہ وہ اختر مینگل انوارالحق کیخلاف سیاست کرتے ہیں اس وجہ سے شکایت ہے لیکن ایمل ولی نے بھی اعتراض کیا ہے اور سخت بیان دیا ہے جبکہ انکا کوئی سیاسی مقابلہ اختر مینگل سے نہیں ہے۔ اس سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مہرے والی بات تو چلی ہوئی ہے سب کرتے ہیں ہماری حکومت سے متعلق بھی کہا بعض لوگوں نے اور جو بھی بات ہو یہی کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی بات ہے نام ادھر سے نہیں آیا اُدھر سے آیا ہوگا۔اس سوال پر کہ فیصل کریم کنڈی کہتے ہیں کہ نئی مردم شماری کے تحت الیکشن نہیں ہونا چاہیے تھا الیکشن میں تاخیر ہوگی اور جو بل پاس کیے گئے ہیں پیپلز پارٹی سمیت سب اس کو بھگتیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جس اتفاق رائے سے منظور ہوا ہے یہ اتفاق رائے کی ایسی بنیاد ہے جسکے اوپر آگے چل کر بہت سے مسائل حل ہوں گے ۔ حلقہ بندی کا آئینی تقاضا ہے ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں جتنے کم عرصے میں ہوسکتا ہے ا سکو ممکن بنائیں تاکہ الیکشن میں تاخیر نہ ہو باقی قانون سازی کا جہاں تک تعلق ہے وہ کسی قانون کا حوالہ تو دیں یہ ایسی ہی پراپیگنڈا چل رہا ہے۔جب سی سی آئی میٹنگ ہوئی اس میں پوری طرح پیپلز پارٹی نہ صرف ساتھ تھی اس نے ووٹ بھی دیا اب اگر وہ اس سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں تو میں نہیں سمجھتا اس سے کوئی فائدہ ہو۔یہ فیصل کریم کی اپنی ذاتی سوچ ہوسکتی ہے لیکن پارٹی کا اسٹانس وہی ہے جو انہوں نے آن ریکارڈ رکھا ہے۔ملک کی ڈیلوپمنٹ میں اسٹیبلشمنٹ کے رول کی بات ہے تو اس میں یقینا اسٹیبلشمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلوچستان میں کروڑوں ملین اراضی بنجر پڑی ہے ان علاقوں میں سیکورٹی کے مسائل جب تک اسٹیبلشمنٹ اور سب ادارے ساتھ نہیں ہونگے تو کیسے کام ہوسکے گا اسٹیبلشمنٹ کا کردار بہت سوچنے سمجھنے اور ڈبیٹ کرنے کے بعد ہوا ہے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہونا چاہے اس کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس سوال پر کہ نوازشریف کی سیاست شہباز شریف سے مختلف رہی ہے اگر آپ کا اگلے وزیراعظم کے امیدوار نوازشریف ہیں تو وہ اس فامولے میں کیسے فٹ ہونگے.

