اسلام آباد:وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی بنا لی۔ وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اپوزیشن سے مذاکرات کا گرین سگنل دے دیا۔
ذرئع کے مطابق حکومتی وفد بھی اسپیکر کی درخواست پر مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم حکومت کا غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ ہے، مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہی ہوں گے۔
دوسری جانب اسپیکر کی پیشکش کے باوجود ابھی تک اپوزیشن کی صفوں میں خاموشی برقرار ہے، اپوزیشن محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف بنانے پر بضد ہے، اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے قبل تحریک انصاف کسی بھی مذاکرات کی مخالف ہے۔
تحریک انصاف کی اسپیکر سے آخری ملاقات محموداچکزئی کو اپوزیشن لیڈربنانے کیلئے کی گئی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں آنے کی بھی دعوت دی، اپوزیشن کی جانب سے کسی رہنمانے تاحال ا سپیکر چیمبر سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا، اپوزیشن کی رضا مندی پر اسپیکر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی بلا لیں گے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف سے مذاکرات پر کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، ہمارے اتحادی واضح طور پر مذاکرات کے حق میں ہیں، ملک کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے مذاکرات ضروری ہیں، پی ٹی آئی اسپیکر کے چیمبر میں آئے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا معاملہ اسپیکر نے حل کرنا ہے، کوئی معاملہ ایسا نہیں جو مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہو، مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کو سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف خود کنفیوژن کا شکار ہے، پی ٹی آئی کے دو دھڑے الگ الگ باتیں کر رہے ہیں۔
دریں اثناء نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس کااعلامیہ جاری کردیاگیاجس میں کہاگیا ہے کہ دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم، صدر اور نواز شریف تشکیل دیں، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے، سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں، میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے۔
نجی ٹی وی کے مطابق نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قومی ڈائیلاگ کانفرنس سابق قائد ایوان شہزاد وسیم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دانشوروں کی پہلی نشست ہوئی۔
کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور درجہ حرارت میں کمی کی تجاویز پیش کی گئیں۔ فواد چودھری نے استقالیہ کلمات میں قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ایجنڈے اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔
کانفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر عمران اسماعیل، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، بیرسٹر سیف، محمود مولوی، سابق اپوزیشن لیڈر سینیٹ ڈاکٹر وسیم شہزاد،حفیظ اللہ نیازی،جنرل (ر) نعیم لودھی، فیصل چودھری،شیر افضل مروت اور دیگر نے شرکت کی۔
سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا جو مقام ہے ایسا کبھی نہیں دیکھا، ہم نے بھارت کو شکست دی، ملک میں سیاسی استحکام بات چیت کے ذریعے ہی آسکتا ہے، ہماری دفاعی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو غداری کا لیبل لگانے کے بجائے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کا ایک ماہ پہلے آغاز ہوا اب یہ ڈائیلاگ ایک کمیٹی کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، پاکستان میں اس وقت سیاسی صورت حال نارمل نہیں ہے، ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے لیے سب کو مل کر چلنا ہوگا، جب سے ہوش سنبھالا ملک میں دہشت گردی کی لہر دیکھی ہے، ملک میں دہشت گردی کے خلاف سب کو متحد ہونا پڑے گا۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کس حد تک تعاون کر سکتے ہیں یہ اہم ہوگا دعا ہے اس کا کوئی حل نکل آئے۔
صحافی عامر الیاس رانا نے کہا کہ ہم نے میڈیا کے طور پر خود کو بکاؤ کے طور پر پیش کیا، والیم 10 پر بہت پروگرامز ہوئے، آر اوز کے الیکشن کی بات ہوتی رہی، آر ٹی ایس سسٹم پر بات کی جاتی رہی جب کہ اصل فریق پاکستان کے عوام ہیں۔،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا، محمود خان اچکزئی کو اس مکالمے میں شرکت کرنی چاہیے، پی ٹی آئی کے لوگ آپس میں بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں شکایت نہ ہو جائے۔
جنرل (ر) زاہد نے اظہار خیال کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس یا فوج میں جو شہادتیں ہوئیں وہ سب پاکستان کے لیے ہیں، شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
صحافی علینہ شگری نے کہا کہ مکالمے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کو بھی شرکت کرنی چاہیے تھی۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ سیاسی طور پر ملک میں تقسیم ہے اعتماد کی فضاء قائم کرنے کی ضرورت ہے، ایک بداعتمادی یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نکل کر سیاسی عدم استحکام پیدا کریں گے اس لیے رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں، سازگار ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون رشید نے کہا کہ ہمارے ملک میں عدلیہ نے فوجی آمروں کو خوش آمدید کہا، جب جب مارشل لاء لگا سیاسی جماعتوں کا بھی کردار رہا، سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا پڑے گا سیاست دانوں کو خود مضبوط ہونا چاہیے، اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے کبھی قومی سلامتی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، صلح حدیبیہ میں بھی ایسی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں، نیلسن منڈیلا نے کتنا عرصہ جیل میں گزارا لیکن ڈائیلاگ کا عمل ہمیشہ سے ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے ایک ہم ہیں کہ سیاسی مخالفت کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا،اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو اپنی حالت بدلنے کی فکرنہ ہو۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ فوج کو پاکستان کی طاقت بننا ہے پاکستان کو فوج کی طاقت نہیں بننا، بانی چیئرمین عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ڈائیلاگ صرف بانی چیئرمین کی رہائی کا نہیں ہے، 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اپنی آزادی کھو چکی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ مذاکرات پر عمل درآمد کون کروائے گا؟۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا حلقہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ حلقہ ہے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ڈائیلاگ بنیادی نظام پر ہونا چاہیے صرف بانی چیئرمین اور کوٹ لکھپت کے قیدیوں کی رہائی کے لیے نہ ہو۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ میں پی ٹی آئی سے منتخب ہوا ہوں، میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا، آپ ن لیگ کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے، آپ کو اے این پی، پیپلز پارٹی اور فواد چودھری سے کیا مسئلہ ہے؟۔
رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا کہ جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے وہ نہیں ہیں وہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ بینیفشری ہیں، سیاسی جماعتوں کے بجائے عوام مشکلات سہ رہی ہیں، جو 1988ء میں وزیراعظم بننا چاہتا تھا وہ آج بھی وزیر اعظم بننا چاہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن میں سیاست دانوں سمیت سب ملوث ہیں، میں چاہتا ہوں ملک میں کنال بنیں، ملک میں صوبے بنیں یہ تاثر نہیں جانا چاہیے ہم بھی کسی چکر میں ہیں، سندھ میں کرپشن ہو رہی ہے عوام پہلے ووٹ ڈالنے کے کام آتی تھی اب تو عوام ووٹ ڈالنے کے کام بھی نہیں آتی، اصل میں تو یہ سب کچھ عوام سہ رہی ہے۔
رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ جب کوئی حکومت میں ہوتا ہے اس کا بیانیہ ہوتا ہے سب ٹھیک ہے، جب کوئی اپوزیشن میں ہوتا ہے تو کہتا ہے سب کچھ تباہ ہو گیا، ہمیں اخلاص کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبوں کے مابین ہم آہنگی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہیے۔
بعدازاں جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اپوزیشن کمیٹی سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو آگے بڑھائے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، سیاسی کارکنان کی رہائی کے بعد حکومت پر مذاکرات کا اعتماد بڑھے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ میڈیا کی سینسر شپ کو ختم کیا جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات کا خاتمہ کیا جائے، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔کانفرنس میں شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، نیشنل ڈائیلاگ میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہوگا۔

