ایران کا امریکی تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

ایران نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور جارحانہ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے جبکہ دارالحکومت کے قریب پاکدشت اور پارچین میں بھی دفاعی سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق مشرقی ایران کے شہر سمنان میں حملوں کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا جبکہ خرم آباد میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مرکزی صوبے مارکزی کے شہر خنداب میں بھی نئے حملوں کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ایران پر امریکی حملوں میں اب تک 35 شہری جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
جنوب مغربی ایران کے صوبے خوزستان کے شہر اندیمشک میں اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی MQ-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔
اس سے قبل ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں بھی مبینہ امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں جزیرہ قشم، بندر عباس، آبنائے ہرمز کے قریب واقع شہر سیریک اور جنوب مشرقی شہر کنارک شامل ہیں۔
دوسری جانب آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی کارروائیوں کا موجودہ مرحلہ خطے میں امریکی جارحانہ انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے اور آئندہ مزید مراحل بھی شروع کیے جا سکتے ہیں۔
آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔