امریکا ایران انا کی جنگ میں دنیا کا امن داؤ پر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا اور ایران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوئے تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ہم ان کے تمام بجلی گھر اور تمام پل تباہ کر دیں گے۔ایران کو بری طرح نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ابھی کچھ جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے، لیکن یہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے امریکا اور ایران پر فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی صورتحال کی وجہ سے خطے میں انسانی حقوق داؤ پر لگ گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی دینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو اگلے مرحلے میں ایرانی بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہ کریں۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی برادری پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکا اور ایران فوری طور پر جنگ بندی کریں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے لیکن بدقسمتی سے دونوں ممالک کی قیادتیں اپنی اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار دکھائی نہیں دیتیں۔ ایران پر مسلسل حملوں سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا کسی بھی قیمت پر اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں خطے کا امن و استحکام متاثر ہو یا عالمی معیشت کو نقصان پہنچے۔ امریکا کا موقف ہے کہ وہ ایران کو اپنے اقدامات پر مجبور کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری اور سلامتی پر حملہ قرار دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا طرز سیاست ہمیشہ سے غیر سنجیدہ اور جارحانہ انداز کا حامل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ وائٹ ہاوس کے اوول آفس سے زیادہ وقت کسی آتش مزاج کھلنڈرے کی طرح اپنے ٹرتھ سوشل پر گزارتے ہیں، جہاں سے دن میں کئی کئی بار دنیا میں آگ لگانے والے بیانات داغتے رہتے ہیں اور ان کا یہی غیر معیاری طرز عمل زیادہ تر مسائل کی جڑ ہے۔

دنیا کے امن کیلئے ضروری ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے جذبات اور ذاتی ترجیحات کی بجائے سفارت کاری، تحمل اور دور اندیشی پر مبنی ہوں۔ جنگیں صرف میدان جنگ میں موجود فوجیوں کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ عام شہری، معیشت، توانائی کے ذرائع اور پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔دوسری جانب ایران کا ردعمل بھی خطے کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی مفادات یا خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اقدامات کے نتیجے میں صرف امریکا کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ ان ممالک کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں یہ تنصیبات موجود ہیں۔ اس ضمن میں اب بجا طور پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر عرب ممالک پر حملے اس لیے جائز ہیں کہ وہاں امریکی اڈے موجود ہیں تو ایران اسرائیل پر حملوں سے کیوں گریز کر رہا ہے، جو سراسر امریکی اڈا ہے۔ ایران کے عرب ملکوں پر حملے صورتحال کو یکسر اس کے مخالف رخ پر بدلتے جا رہے ہیں، جس کا انجام نہ صرف ایران کے اپنے حق میں بہتر نہیں ہوگا، بلکہ پورا خطہ ہی ایرانی طرز عمل کے باعث ناقابل تصور ہولناک آزمائش سے دوچار ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف سیاسی یا فوجی معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ انا، بالادستی اور اثر و رسوخ کی جنگ بنتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک اپنی طاقت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، مگر اس تصادم کی قیمت عام انسان ادا کر رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا اور ایران دونوں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں۔ طاقت کے ذریعے وقتی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن مستقل امن صرف مذاکرات، باہمی احترام اور سفارتی حل سے ہی ممکن ہے۔ اگر دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایسی آگ کا شکار ہوسکتا ہے جس کے شعلے پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔آج دنیا کو ایک اور جنگ نہیں بلکہ امن، استحکام اور تعاون کی ضرورت ہے۔ جنگیں مسائل کو ختم نہیں کرتیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ امریکا اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی باہمی کشمکش کا نقصان صرف ان کے مخالفین کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اٹھانا پڑے گا۔

پیٹرولیم قیمتوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ معیشت کیلئے خطرہ

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں تبدیلی اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کی تجویز نے عوام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ اگرچہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق قیمتوں کا تعین کرنے کی منطق پیش کی جا سکتی ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں معیشت پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اس قسم کا تجربہ مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہونے سے سب سے بڑا مسئلہ معاشی بے یقینی کا پیدا ہوگا۔ کاروباری افراد، صنعت کار، ٹرانسپورٹرز اور عام صارفین کسی بھی منصوبہ بندی کے قابل نہیں رہیں گے، کیونکہ انہیں ہر روز نئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معیشت استحکام اور پیش گوئی کے ماحول میں ترقی کرتی ہے، جبکہ روزانہ بدلتی قیمتیں مارکیٹ میں اضطراب اور بے چینی کو جنم دیں گی۔ملکی معیشت پہلے ہی چیلنجز سے دوچار ہے۔ معیشت میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں ،بڑی مشکل سے حالات بتدریج بہتر ی کی طرف جا رہے ہیں۔ ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کا فیصلہ اس معمولی استحکام کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشی نظام کی بنیاد ہیں۔ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ایندھن کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر پیٹرول قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں گی تو اس کے اثرات پورے بازار پر مرتب ہوں گے اور عام آدمی کیلئے مہنگائی کا اندازہ لگانا مزید مشکل ہوجائے گا۔