اینڈ آف لبرل ازم!

فروری دو ہزار تین کا ایک منظر یاد کریں۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بیٹھے ہیں، ہاتھ میں سفید سفوف والی ایک چھوٹی سی شیشی ہے۔ وہ دنیا کو سمجھا رہے ہیں کہ صدام حسین کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔ ادھر لندن میں ٹونی بلیئر کی حکومت ایک ڈوزیئر جاری کر چکی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عراقی ہتھیار پینتالیس منٹ کے نوٹس پر داغے جا سکتے ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ شیشی میں کچھ نہیں تھا اور ڈوزیئر بھی ہوا میں تھا۔ یہاں ایک لمحے کے لیے رک جائیے۔ یہ سارا ڈھونگ اپنی جگہ ایک اعتراف بھی تھا۔ وہ لوگ سمجھتے تھے کہ کسی ملک پر چڑھ دوڑنے کے لیے پہلے دنیا سے اجازت لینی پڑتی ہے، کوئی جواز گھڑنا پڑتا ہے، کوئی فائل بنانی پڑتی ہے۔ اب سب الٹ گیا ہے۔ ایران پر بمباری ہوئی تو کسی نے فائل بنانے کی زحمت ہی نہیں کی۔ شیشی، نہ ڈوزیئر، نہ سلامتی کونسل۔ بس ہوگیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے معروف بھارتی جریدے کاروان میں شائع ہونے والا ایک طویل مضمون شروع ہوتا ہے۔ عنوان ہے، دی اینڈ آف لبرل ازم۔ ذیلی سرخی یہ کہ غزہ اس نظریے کے بارے میں کیا آشکار کرتا ہے جس نے جدید مغرب کو تشکیل دیا۔ مصنف کا نام راگھو کیسون ہے۔ یہ قدرے کم معروف قلم کار ہیں، ہمارے ہاں تو خیر انہیں کوئی جانتا ہی نہیں۔ وہ بھارتی جرائد اور ڈیجیٹل ویب سائٹس کاروان، سکرول، دی وائر اور نیوز کلک میں لکھتے ہیں۔ سیاست، ثقافت اور کھیل ان کے موضوعات ہیں۔ یہ مضمون یکم جولائی 2026ء کو کاروان میں چھپا اور خاکسار کے خیال میں پچھلے کئی مہینوں میں لبرل ازم پر لکھی جانے والی سب سے صاف ستھری اور بے رحم تحریر ہے۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ اپنے قارئین تک اس کا نچوڑ پہنچاؤں۔

راگھو کیسون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کبھی مغرب سے تقاضا کرتا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کو انسانی حقوق، جمہوریت اور بین الاقوامی قانون کی زبان میں جائز ثابت کرے۔ کیسون کہتے ہیں کہ غزہ کی جنگ نے اس پورے منصوبے کا مذاق اڑا دیا۔ پھر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مادورو کے اغوا اور ایران کی بمباری کے ساتھ لبرل ازم کی اس بوسیدہ عمارت پر ہتھوڑا چلا دیا ہے۔ بیان بازی کی جگہ اب سیدھی سیدھی طاقت کی دھمکی نے لے لی ہے۔ اسی لیے وہ اسے اینڈ آف لبرل ازم کہہ رہے ہیں۔ مورخ الیگزینڈر زیوِن کے حوالے سے کیسون بتاتے ہیں کہ لبرل ازم کا مکمل اظہار انیسویں صدی کے وسط کے برطانیہ میں ہوا۔ گھر کے اندر اس نے حق رائے دہی وسیع کیا، سماجی اصلاحات کیں، اچھا کام کیا۔ اس کے برعکس باہر نوآبادیات میں یہی لبرل ازم آمریت کے ساتھ بغل گیر ہو گیا۔ تھامس بیبنگٹن، میکالے اور جان اسٹورٹ مِل جیسے بانیوں کا اصل نظریاتی کارنامہ یہی تھا کہ انہوں نے نوآبادیاتی مطلق العنانیت کو لبرل ڈھانچے میں فٹ کر دیا۔ مِل نے (تو کمال بے شرمی سے) صاف لکھا کہ وحشیوں کے پاس بحیثیت قوم کوئی حق نہیں سوائے اس سلوک کے حق کے جو انہیں جلد از جلد قوم بننے کے قابل بنا دے۔ یہ ہے وہ تضاد جو آج تک حل نہیں ہوا۔ لبرل ازم ایک ہی سانس میں دو باتیں کہتا ہے۔ ایک یہ کہ سب انسان برابر ہیں، دوسری یہ کہ کچھ لوگ ابھی وہ آزادیاں برتنے کے قابل نہیں جن کا برابری تقاضا کرتی ہے۔

سوویت یونین ختم ہوا، فوکویاما نے ”تاریخ کے خاتمے” کا اعلان کیا اور اس اعتماد نے جنگ کے نئے جواز پیدا کر دیے۔ کویت کی آزادی، کوسوو، بوسنیا۔ لبرل مداخلت کا نظریہ تحفظ کی ذمہ داری کے نام سے باقاعدہ بنا اور 2005ء میں اقوام متحدہ نے اسے اپنا لیا۔ عراق پر حملے کا ایک اعلان کردہ مقصد وہاں جمہوریت لانا تھا۔ نام ہی آپریشن عراقی فریڈم رکھا گیا۔ کیسون ایک ایسا حوالہ لائے ہیں جو میرے لیے بھی نیا تھا۔ 1986ء میں بنجمن نیتن یاہو، جو اس وقت اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر تھے، نے دہشت گردی کے موضوع پر ایک کتاب مرتب کی۔ عنوان تھا، دہشت گردی، مغرب کیسے جیت سکتا ہے؟ اس میں یہ بنیاد رکھی گئی کہ دہشت گردی کی جڑ کسی شکایت میں نہیں بلکہ بے لگام تشدد کے رجحان میں ہے۔ نامور مورخ دانشور ایڈورڈ سعیدتب زندہ تھے، انہوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جو بات کہی، وہ آج بھی نشتر کی طرح لگتی ہے۔ سعید نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ تصور دشمن کو وقت اور ماضی کے عمل سے کاٹ دیتا ہے تاکہ اسے ایک ایسی مخلوق دکھایا جا سکے جسے فطرتاً تباہی پھیلانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ نو اکتوبر 2023ء کے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ حماس سے لڑ کر اسرائیل ہر اس ملک کے لیے لڑ رہا ہے جو” بربریت” کے خلاف کھڑا ہے اور یہ کہ حماس داعش ہے۔ بائیڈن اور بلنکن نے اس موازنے کی توثیق کی۔ دی اکانومسٹ جیسے لبرل جریدے نے دلیل دی کہ خوفناک شہری ہلاکتوں کے باوجود غزہ میں جنگ بندی ”امن دشمنی” ہوگی۔ ‘اسرائیل مشرق وسطی کی واحد جمہوریت ہے’، یہ فقرہ خبروں پر ایسے دہرایا گیا جیسے تسبیح پڑھی جا رہی ہو۔ دوسری چال یہ تھی کہ شہریوں کی اموات المناک تو ہیں مگر” غیر ارادی” ہیں۔ اسرائیل شہریوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، حماس انہیں نقصان کی راہ میں رکھ رہی ہے۔ یعنی نیک ارادہ بمقابلہ بدنیت ”بربریت”۔ پھر 2025ء کا موسم گرما آیا اور بند ٹوٹ گیا۔ جولائی میں بھوک سے سوکھے بچوں کی تصاویر چھپنے لگیں۔ اگلے مہینے آئی پی سی کی فیمن ریویو کمیٹی نے، جو غذائی تحفظ کے آزاد ماہرین پر مشتمل ہے، اعلان کیا کہ غزہ قحط کا شکار ہے اور یہ قحط مکمل طور پر انسان ساختہ ہے، اسے روکا اور پلٹایا جا سکتا تھا۔ راگھو کیسون کہتے ہیں کہ غزہ کوئی حادثہ یا استثنا نہیں، اس کے پیچھے تین فکری روایتیں کھڑی ہیں۔ پہلی روایت، نیت کا نظریہ۔ اٹھارہ سو چھہتر سے انیس سو کے درمیان بھارت میں برطانوی اقتدار کے دور میں انگریز حکمرانوں کی غفلت کے نتیجے میں قحط سے ایک کروڑ بیس لاکھ سے دو کروڑ نوے لاکھ لوگ مرے۔ اب اس کے مقابل جلیانوالہ باغ رکھیے۔ انیس سو انیس میں جنرل ڈائر نے گولی چلوائی، کم از کم تین سو اناسی لوگ مارے گئے۔ انیس سو بیس میں چرچل نے اس کی مذمت کی اور اسے برطانوی سلطنت کی جدید تاریخ میں بے مثال اور منفرد کیس قرار دیا۔ راگھو کیسون چرچل کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہیں کہ اصل حیرت کی بات ڈائر نہیں، چرچل ہے۔ نیت کے نظریے نے سامراجی ضمیر پر اتنی طاقت سے کام کیا کہ چند سو کا قتل منفرد اور شریر ٹھہرا اور لاکھوں کی بھوک سے موت پالیسی کا معمول۔ لاکھوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھنا، چند سو کو دوسرے میں اور پھر ترازو کو چند سو کی طرف جھکا دینا، یہ اپنی جگہ ایک” نظریاتی کارنامہ” ہے۔ یہی روایت ویت نام میں مائی لائی اور عراق میں ابوغریب جیل تک چلتی رہی۔ دوسری روایت، نسل کشی کی محدود وضاحت۔ انیس سو اڑتالیس کے کنونشن کے مطابق نسل کشی وہ اعمال ہیں جو کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو تباہ کرنے کی نیت سے کیے جائیں۔ دنیا نے مگر کیا کیا؟ آج حال یہ ہے کہ نسل کشی ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ تیسری روایت، فضائی بمباری کو حاصل چھوٹ۔ یہ چھوٹ آئی کہاں سے؟ دوسری جنگ عظیم کے بعد شہروں پر بمباری کے جرم میں کسی پر مقدمہ نہیں چلا۔ چنانچہ فضائی بمباری کے خلاف کوئی عمومی ممانعت کبھی وجود میں ہی نہیں آئی۔ ویت نام اور کمبوڈیا نے اس کی قیمت چکائی۔

یہی غزہ میں ہوا۔ اسرائیلی اور فلسطینی صحافیوں کے مشترکہ جریدے پلس نائن سیون ٹو کی تحقیق کے مطابق اسرائیلی فوجی کمان نے ایک اعلیٰ حماس کمانڈروں کو مارنے کی کوشش میں سینکڑوں فلسطینی شہریوں کے قتل کی جان بوجھ کر منظوری دی۔ یہاں کیسون ایک اور موازنہ لاتے ہیں جو ہمیں خاص طور پر سمجھنا چاہیے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے عراق کو فضا سے کنٹرول کرنے کے لیے نئی نئی بنی رائل ایئر فورس کو استعمال کیا۔ مورخین کے مطابق یہ نظام مہلک تھا اور کام بھی نہیں کرتا تھا۔ غلط اہداف پر بم گرتے رہے اور ہلاکتوں کی گنتی بطور پالیسی نہیں کی جاتی تھی، کیونکہ طے تھا کہ اس خطے سے آنے والا ہر ڈیٹا ناقابل اعتبار ہے۔ اب اس کا موازنہ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار سے کریں، جن کے ساتھ ”حماس کی زیر انتظام” کا سابقہ برسوں رسمی طور پر لگایا جاتا رہا، یہاں تک کہ سب نے خاموشی سے مان لیا کہ اعداد درست تھے۔ کیسون اسے ہتھیار بند لاعلمی کہتے ہیں۔ اسی اجازت کے ڈھانچے نے دسیوں ہزار اموات ممکن بنائیں اور غزہ کو چھ کروڑ اسی لاکھ ٹن ملبے تلے دفن کر دیا۔ مضمون کا اختتام سب سے تلخ ہے۔ دی اکانومسٹ کی مدیر زینی مِنٹن بیڈوز نے ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں غزہ کی جنگ کو ایک آفت قرار دیا۔ کیسون اس پر یہ لکھتے ہیں کہ غم کی طرح ضمیر کے انتظام کے بھی مراحل ہوتے ہیں، آخری مرحلے کا نام غالباً شدید افسوس ہے۔ سنجیدہ لوگ سب کچھ ہو چکنے کے بعد یہ ماننے پر خوش ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی حمایت کردہ جنگوں پر گہرا افسوس ہے۔

آخر میں دو باتیں خاکسار کی طرف سے۔ مضمون شاندار ہے مگر ایک بات کہنا ضروری ہے۔ کیسون بھارتی لکھاری ہیں اور مغربی لبرل کے تضادات پر بڑی مہارت سے چھری چلاتے ہیں، البتہ بھارتی لبرلز کا ذکر مضمون میں کہیں نہیں حالانکہ ضمیر کے انتظام کا سب سے تازہ اور مقامی نمونہ ہمارے پڑوس میں موجود ہے۔ وہی حلقہ جو غزہ پر آنسو بہاتا ہے، اگست دو ہزار انیس میں کشمیریوں پر ظلم پر خاموش رہا۔ ماڈل ایک ہی ہے، صرف زبان بدل جاتی ہے۔ لبرل ازم ایک طرح سے اپنے اختتام پر پہنچ رہا ہے، مگر صرف مغربی لبرل ازم ہی نہیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے لبرلز بھی اسی فطری انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہے۔