افغان سوشل میڈیا میں پاکستان مخالف مہم

پاکستان اور افغانستان کے مابین نفرتوں کا وہ بازار گرم ہے کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، کیااس کی وجہ سادہ ہے ؟ اس کی وجہ میڈیا اور سوشل میڈیا نظر آتی ہے، دونوں جانب افراد کو استعمال کیا گیا، لیکن جس طرح افغان میڈیا پر شور ہے، وہ افغان عوام کی اکثریت کی آواز نہیں تھی، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ذہین سازی کا عمل مکمل ہوگیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان ہی افغانستان میں ہر برائی کا ذمہ دار ہے جیساکہ افغان سوشل میڈیا میں بتایا جاتا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بیس برسوں تک افغان میڈیا کو ہندوستانی اور مغربی فنڈنگ نے وہ بنیادی کردار ادا کیا ہے، جس کے اثرات اب عوام میں ظاہر ہورہے ہیں، ان دو عشروں کے دوران جنم لینے والی نسل میں پاکستا ن کو ایک افغان دشمن ملک کی شکل میں پوٹریٹ کیا گیا ہے۔ یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے افغانستان کی نوجوان نسل پر کام نہیں کیا، دوسری جانب ہندوستان نے انہیں ویزے جاری کئے، یونیورسٹیز میں فری تعلیم فراہم کی، جس دوران انہیں بتایا گیا کہ یہ پاکستان ہی ہے کہ جس کی وجہ سے افغانستان تباہی سے دو چار ہے، یہ پاکستان ہی ہے کہ جو طالبان کو سپورٹ کررہا ہے، یہ پاکستان ہی ہے کہ جو افغانستان میں جمہوریت کو فروغ دینے میں رکاٹ ہے، وغیرہ ووغیرہ۔

افغان سوشل میڈیا ایکٹویسٹ جن میں اکثریت یورپ اور امریکا میں پناہ گزین ہیں، چند ایک روس اور وسطی ایشیائی ممالک میں بھی ہیں، ان میں سے اکثر وہ ہیں جو دین بیزار اور افغان طالبان کے خلاف حامد کرزئی اور اشرف غنی حکومتوں میں شامل یا ان کے حامی تھے، یا اس وقت میڈیا میں فعال تھے۔ افغان طالبان کے دوبارہ اقتدر میں آنے سے یہ ملک سے فرار ہوگئے، اور اب افغان طالبان کو اتنا دباؤ میں لاچکے ہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ یہ ان کے اچانک اتنے حمایتی کیسے ہوگئے۔ چند سوشل میڈیا ایکٹویسٹ افغانستان میں بھی ہیں، جن کا روزگار سوشل میڈیا سے جوڑا ہوا ہے، جو افغان عوام کے جذبات کو پیسہ کمانے کے لیے استعمال کررہے ہیں، اس دور میں کچھ بھی مفت اور بغیر ایجنڈے کے نہیں ہے، جس طرح پاکستان میں سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیامیں ایجنڈا سیٹنگ ہوتی ہے، جس طرح پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کو ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، اسی طرح افغانستان کی صورت حال ہے۔

گزشتہ تین عشروں میں افغانستان کے ساتھ ساتھ سابقہ فاٹا میںغیر ملکی ریڈیو چینلز اور بیرونی امداد پر چلنے والی این جی اوز کو ان قبائلی علاقوں میں پروپیگنڈاکرنے کی آزادی حاصل رہی، یہ غیر سرکاری تنظیمیں بیرونی ایجنڈے کے فروغ کے لیے سرگرم رہیں، کسی کو کینیڈا سے ڈیل کیا جاتا رہا، تو کوئی جرمنی سے منیج کیا جارہاہے۔ محرومی کا شکار قبائلی نوجوان اس مہم کا براہ راست ٹارگٹ تھے اور ہیں، جن کی مصنوعی چکا چوند چمک کے ذریعے برین واشنگ کی جاتی ہے۔ افغانستان سمیت پاکستانی سابقہ فاٹا کے اکثر علاقے دور جدید کے الیکٹرانک میڈیا سے محروم ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ وہ آج بھی صرف مقامی اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے بیرونی دنیا سے رابطے میں ہیں، ان علاقوں میں ریڈیو کی اہمیت آج بھی ہے، اسی وجہ سے مغربی میڈیا اور بیرونی ممالک کے ریڈیو چینلز نے اس خطے میں اسی پر فوکس کیا ہوا ہے اور وہاں مغربی ریڈیو چینلز انتہائی فعال ہیں، اور ان کی نشریات پورے دن جاری رہتی ہیں۔ ان پروگراموں میں اکثر کا ٹارگٹ آڈینس افغان اورقبائلی نوجوان ہیں، ان چینلز کے ذریعے غیر محسوس طریقے سے ملک دشمنی، بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیا جارہا ہے، فاٹا میں جیسے ہی فجر کی نماز کا وقت ختم ہوتا ہے یہ ریڈیو جاگ اٹھتے ہیں اور گانے بجانے اور گفتگو کے نام پر قبائلی معاشرے میں رائج جوائنٹ فیملی سٹسم پر ضرب لگانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ عجیب بات سامنے آئی یہ مغربی ریڈیو جمعے کے دن ایک بجے سے دو بجے تک خصوصی فرمائشی پروگرامات نشر کرتے ہیںاور ان پروگرامات میںنوجوانوں کے پسندیدہ گانے نشرکئے جاتے ہیںاور وہ اپنا نام ریڈیو پر سننے کے لیے انتظار کرتے ہیں، اس طرح ہزاروں نوجوانوں کی جمعے کی نماز رہ جاتی ہے۔ ایک اور اہم بات چند برس قبل اس سرحدی خطے میں میں سولر توانائی سے چلنے والے لاکھوں ریڈیو سیٹ تقسیم کئے گئے، وہ بھی بالکل مفت، تاکہ شمسی توانائی والے یہ ریڈیو سیٹ ہر وقت آسانی سے ان کے ایجنڈا سیٹنگ کے فروغ میں معاون ثابت ہوں، اس کے بعد قبائلی علاقوں میں آگاہی اور امداد کے نام پر غیر سرکاری تنظیمیں سرگرم کی گئیں، ان اداروں کے آڑ میں کئی غیر ملکی ادارے پختونستان کی تحریک کو فعال کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر چند افغان سوشل میڈیا ایکٹویسٹ فعال ہیں۔ اس وقت افغانستان کے صوبہ جلال آباد میں گریٹر پشتونستان کے منصوبے پر نہایت ہی سرگرمی کیساتھ کام ہورہا ہے۔ خیبر پختونخوا سے تقریباً 2500 پڑھے لکھے بیروزگار پختون نوجوان اس مہم میں شامل ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان اور پشاور کے نوجوان لڑکے جلال آباد میں مقیم ہیں، جبکہ کئی پڑھے لکھے نوجوان کابل میں میڈیا سے منسلک ہوچکے ہیں اور ان کے اندر پاکستان کے خلاف زہر بھرا جارہا ہے۔ سابقہ دور میں افغانستان میں مختلف ممالک کے ایجنسیاں کھل کر کھیل رہی تھیں، وہ اب ایک بار پھرفعال ہورہی ہیں، گریٹر پشتونستان سازش پر زور وشور سے کام شرو ع ہے، اوراس کے لیے فنڈنگ ہندوستانی ایجنسی را سمیت دیگر پاکستان مخالف قوتیںمہیا کررہی ہیں۔ یہ نوجوان پاکستان میں بڑی دہشت گرد کارروائیوں کے لیے بھی تیارکئے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت اور ادارے اس سنگین سازش کو کیوں محسوس نہیں کر رہے؟ کیا وہ بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں؟