مشرقِ وسطی میں حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے ابھرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کو بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے خلیجی ممالک کو معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے نمایاں نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے باعث خلیجی ریاستوں کی برآمدات، تجارتی سرگرمیاں اور علاقائی سلامتی کا احساس متاثر ہوا، جس کے بعد نئے سکیورٹی اور سیاسی تعاون کی ضرورت محسوس کی گئی۔رپورٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے روایتی دائرہ کار سے باہر ایک نیا علاقائی بلاک تشکیل پا رہا ہے، جس میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ اور مصر شامل ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد خطے میں باہمی تعاون، سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی بعض رپورٹس میں اس ممکنہ اتحاد کو توسیع پذیر اسلامک نیٹو کا نام دیا گیا ہے ۔یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف ترکیے کے سرکاری دورے پر ہیں اور پاکستان اور ترکیے نے دفاع سمیت متعدد اہم شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے رواں سال فروری میں ایران پر حملہ جہاں پوری دنیا کے لیے بالعموم اور عالم اسلام کے لیے بالخصوص بہت سی مشکلات اور چیلنجوں کا باعث بنا اور متعدد اسلامی ممالک اس بلاجواز جنگ سے براہ راست متاثر ہوئے،وہیں وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس شر کی تہ سے اسلامی دنیا کے لیے خیر کے کچھ پہلو بھی برآمد ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو اس امر کا ادراک ہونے لگا ہے کہ اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے امریکا یا کسی بھی دوسری عالمی قوت پر انحصار کرنے کی بجائے ہمیں اپنی مستحکم دفاعی قوت تشکیل دینا ہوگی اور اپنے وسائل کو درست طریقے سے بروئے کار لاکر اپنی قوت بازو کو مضبوط کرنا ہوگا۔اس جنگ نے مشرق وسطی کے ممالک بالخصوص خلیج کی عرب ریاستوں کو یہ بھی احساس دلایا کہ خلیجی خطے میں قائم امریکی اڈے خطے کے ممالک کے تحفظ کی ضمانت نہیں بلکہ اس کی سلامتی اور علاقائی سا لمیت کے لیے خطرات کو دعوت دینے کا سبب ہیں۔یہ شاید اسی احساس کا نتیجہ تھا کہ سب سے پہلے سعودی عرب نے اپنے دفاع سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تاریخی دفاعی معاہدے کو آگے بڑھایا اور پاکستان نے بھی آگے بڑھ کر سعودی عرب کو یہ پیغام دیا کہ وہ کسی بھی مشکل وقت میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے آگے آنے کو تیار ہے۔اس کے ساتھ ہی اس طرح کی خبریں بھی تواتر کے ساتھ آنے لگیں کہ ترکیے، مصر اور قطر جیسے ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اتحاد عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پورے مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی اور دفاعی تعاون پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگر چہ اسلامی ممالک کے کسی مضبوط اور مستحکم دفاعی اتحاد کی تشکیل کا خواب ہنوز تشنہ تعبیر ہے اور پاکستان،سعودی عرب،ترکیے اور قطر کے درمیان دفاعی تعاون کے امکانات سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا قبل ازوقت ہوگا تاہم یہ امکانات ایک مثبت رخ پر پیش رفت کی بنیاد ضرور بن سکتے ہیں۔ مجوزہ دفاعی اتحاد میں شامل پانچوں ممالک پاکستان،سعودی عرب،ترکیے ،مصر اور قطر عالمی سطح پر ممتاز حیثیت کے مالک ہیں۔پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت اور دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت ہے،سعودی عرب عالم اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے،ترکیے کا دفاع اور معیشت کے شعبے میں پوری دنیا میں سکہ چلتا ہے،قطر نے اپنے چھوٹے سے رقبے کے ساتھ عالمی سفارتی محاذ میں ممتاز مقام حاصل کررکھا ہے، مصر تاریخی لحاظ سے تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ ان ممالک کے قدرتی اور افرادی وسائل اگر اکھٹے ہوجائیں تو بلاشبہ دنیا کی ایک بڑی دفاعی طاقت وجود میں آسکتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے اس مجوزہ اتحاد کو ابھی سے” اسلامک نیٹو” کا نام دینا درحقیقت اپنے اندر کے اس خوف کا اظہار ہے جواسلامی ممالک کے ممکنہ دفاعی اتحاد سے صہیونی لابی کو لاحق ہوچکی ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے سزا یافتہ جنگی مجرم وزیر اعظم نیتن یاھو کھل کر یہ خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ ترکیے کی قیادت میں ایک نیا” اسلامی محور” وجود پذیر ہے جو اسرائیل کے لیے ایران سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اللہ کرے کہ اسلامی ممالک کے حکمران امت مسلمہ کی توقعات پر پورا اترنے کا عزم کرلیں اور عالم اسلام کا ایک ایسا مضبوط دفاعی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کریں جو وقت کے تقاضوں کے مطابق اسلامی ممالک کے دفاع و سلامتی کو یقینی بناسکے ۔
مسافر بسوں کے ذریعے اسمگلنگ!
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر کوچ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع دانہ سر کے مقام پر گہری کھائی میں گرنے سے خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک زخمی نے بتایا کہ مسافر بس میں ایرانی ڈیزل کے ڈرمز رکھنے کے معاملے پر مسافروں اور بس ڈرائیور میں تلخ کلامی کے دوران بس گہری کھائی میں جاگری۔ بلوچستان میں مسافر بسوں اورکوچوں کے ذریعے ایرانی ڈیزل اور دیگر اسمگلنگ کے سامان کی نقل و حمل ایک معمول ہے اور عام طور پر یہ ناجائز کاروبار پولیس اور بارڈر فورس کے کرپٹ افسران اور اہلکاروں کی سرپرستی میں چلتا ہے،اس کی قیمت سفر کی مشکلات، وقت کے ضیاع اور سیٹوں کی کمی کی صورت میں ان مسافروں کو ادا کرنا پرتی ہے جو ان شاہراہوں پر بامر مجبوری سفر کرتے ہیں۔تازہ حادثے میں چالیس قیمتی جانیں بظاہر اسی بدعنوانی کی بھینٹ چڑھی ہیں جو بلوچستان کی شاہراہوں پر چل رہی ہے۔کیا ہمارے ارباب اختیار اس حادثے سے کوئی سبق حاصل کریں گے اور بلوچستان میں مسافر بسوں کے ذریعے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھائیں گے؟

