(وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے شعبہ عربی کے زیر اہتمام 12 و 13جون 2011ء کو قومی سیرت النبی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کا موضوع ”مکالمہ بین المذاہب کی مذہبی بنیادیں، امکانات، فوائد اور تجاویز” تھا۔ 12 جون کو ظہر کے بعد نشست کی صدارت کراچی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر الدین خان نے کی جبکہ اس نشست کے مہمان خصوصی مولانا زاہد الراشدی تھے، ان کے خطاب کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ ادارہ نصرة العلوم)
بعد الحمد والصلوٰة۔ سب سے پہلے قومی سیرت کانفرنس کے انعقاد اور ایک اہم موضوع پر اصحابِ فکر و نظر کو جمع کرنے پر وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ عربی کا شکریہ ادا کروں گا کہ اس سے بہت سے ارباب دانش کو مل بیٹھنے اور ایک اہم دینی اور قومی مسئلہ پر ایک دوسرے کے خیالات سننے کا موقع فراہم ہوا۔ آج صبح جب میں ملتان سے کراچی آرہا تھا تو جہاز میں روزنامہ نوائے وقت کے سنڈے ایڈیشن پر نظر پڑی جس میں ملک کے ایک معروف دانشور کے طویل انٹرویو کی سرخی یہ ہے کہ ”ملک کے نظام تعلیم سے عربی اور فارسی تو رخصت ہو ہی چکی ہیں اب اردو بھی رخصت ہونے جا رہی ہے۔ ” یہ بات عربی اور فارسی کے ساتھ عام حکومتی رویہ کی صحیح عکاسی کرتی ہے لیکن اس فضا میں یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ اس قومی سیرت کانفرنس کا اہتمام وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ عربی نے ”انجمن اساتذہ علوم اسلامیہ کالجز کراچی” کے اشتراک و تعاون سے کیا ہے، اور مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ ”ہائر ایجوکیشن کمیشن” بھی ان کے ساتھ اس کار خیر میں شریک ہے اور ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ میں اس پر ہائر ایجوکیشن کمیشن، انجمن اساتذہ علوم اسلامیہ، اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ عربی، تینوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس میں فعال کردار ادا کرنے پر انجمن اساتذہ کے صدر ڈاکٹر صلاح الدین ثانی اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے سربراہ ڈاکٹر قاری بدر الدین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
میرے لیے خوشی اور تسلی کا پہلو یہ ہے کہ عربی اور اردو ابھی مکمل طور پر لاوارث نہیں ہوئیں اور ان کی بات کرنے والے لوگ اعلیٰ تعلیمی حلقوں میں موجود ہیں، اس کے بعد میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ ”مکالمہ بین المذاہب” پر اس وقت دنیا میں مختلف سطحوں پر ہونے والی گفتگو کا پس منظر کیا ہے؟ اور اس میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ میں اسے تین حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک یہ کہ مکالمہ بین المذاہب کا دائرہ کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں اس کے اہداف و مقاصد کیا ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ اسلامی نقطہ نظر سے اس کے معروضی تقاضے کیا ہیں؟
مکالمہ بین المذاہب کا ایک دائرہ یہ ہے کہ سرے سے مذہب کی کوئی ضرورت انسان کو فرد یا معاشرے کی سطح پر ہے بھی یا نہیں؟ دنیا میں ایسے لوگ اور طبقات کثیر تعداد میں موجود ہیں جو مذہب کو سرے سے انسان کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کی نفی کرتے ہیں، اسے انسان کے لیے نقصان دہ تصور کرتے ہیں اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے ساتھ مختلف دائروں میں مکالمہ جاری ہے مگر یہ مکالمہ مذاہب کے درمیان نہیں بلکہ مذہبیت اور لا مذہبیت کے درمیان ہے، لیکن کچھ مخصوص مقاصد کے لیے اسے مکالمہ بین المذاہب کے عنوان کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
دوسرا دائرہ یہ ہے کہ مذہب اگر انسان کے لیے ضروری اور فائدہ مند ہے تو کیا یہ صرف فرد کے فائدہ یا ضرورت کی چیز ہے یا انسانی سوسائٹی اور معاشرہ کے لیے بھی اس کی افادیت و ضرورت موجود ہے؟ موجودہ انسانی سوسائٹی میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو فرد کے لیے تو مذہب کی ضرورت و افادیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن سوسائٹی اور معاشرے سے اس کو لا تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرد کے لیے مذہب فائدے اور ضرورت کی چیز ہو سکتی ہے لیکن مذہب کو سوسائٹی اور معاشرے کے اجتماعی معاملات میں دخیل نہیں ہونا چاہیے۔ آج کے تمام تر مغربی فلسفے کی بنیاد اسی تصور پر ہے۔ انقلاب فرانس کے ساتھ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی کی گئی تھی اور مغرب نہ صرف خود مذہب کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے بے دخل کیے ہوئے ہے، بلکہ ہم سے بھی تقاضا کر رہا ہے کہ ہم مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبردار ہو جائیں۔ چند سال قبل واشنگٹن میں میرے قیام کے دوران کچھ دوست مجھے ملے جنہوں نے اپنا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کسی شعبہ سے بتایا اور کہا کہ دنیا بھر کے انسانی معاشروں میں مذہب کی واپسی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور ہم بعض حلقوں کی اس تشویش پر کام کر رہے ہیں کہ سوسائٹی میں واپس آ کر مذہب کہیں پھر سے اجتماعی معاملات میں دخیل تو نہیں ہو جائے گا؟ اس سلسلہ میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر وہ واقعتًا مذہب ہوا تو دخیل ہو گا، اس لیے کہ مذہب صرف فرد کی راہنمائی نہیں کرتا بلکہ سوسائٹی کی راہنمائی بھی اس کے کردار کا حصہ ہے۔ یہ مکالمہ بھی اصلاً مذاہب کے درمیان نہیں بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کے حوالہ سے دو بڑے طبقوں کے درمیان ہے اور رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہا ہے۔
مکالمہ بین المذاہب کا تیسرا دائرہ یہ ہے کہ موجودہ معروضی حالات میں انسانی سوسائٹی کی راہنمائی کے لیے کون سا مذہب زیادہ صلاحیت اور قوت رکھتا ہے اور اس وقت انسانی سوسائٹی میں موجود مذاہب میں سے کس کے بارے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں انسانی سوسائٹی کی قیادت کرے گا؟ میں اس سلسلہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ صرف نظری بات نہیں بلکہ عملی مسئلہ بھی ہے۔ مذاہب کو انسانی سوسائٹی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی آزادی دی جائے، ان کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے، اور کھلے مقابلہ کا ماحول بحال کر دیا جائے۔ جس مذہب کے پاس وحی آسمانی کی اوریجنل تعلیمات موجود ہوں گی اور جو انسانی فطرت کے زیادہ قریب ہو گا وہ اس مقابلہ میں آگے بڑھے گا اور انسانی سوسائٹی کی قیادت سنبھال لے گا۔ بہرحال مکالمہ بین المذاہب کا ایک دائرہ یہ بھی ہے کہ مروجہ مذاہب میں سے کون سا مذہب انسانی سوسائٹی میں مؤثر قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ تو وہ چند دائرے ہیں جن میں ”مکالمہ بین المذاہب” کے عنوان سے اس وقت گفتگو جاری ہے۔ اب اس بات پر ایک نظر ڈال لی جائے کہ اس مکالمہ کے اہداف و مقاصد کیا ہیں؟ اسے بھی مختلف حصوں میں تقسیم کرنا ہو گا۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ تمام مذاہب کی مشترکہ باتوں کو جمع کر کے ایک متحدہ مذہب تشکیل دیا جائے، اسے بعض حلقوں میں ”اتحاد بین المذاہب” کا عنوان دیا جاتا ہے اور اس پر مختلف سطحوں پر کام ہو رہا ہے۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ ہم یہ تجربہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں کر چکے ہیں۔ اکبر بادشاہ نے ”دین الٰہی” کے عنوان سے اسی قسم کا ملغوبہ بنایا تھا جسے امت مسلمہ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور آج بھی اس نوعیت کی کوئی ”کھچڑی” مسلم امہ کے ہاضمہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ سب مذاہب کو اپنی اپنی جگہ حق مذہب تسلیم کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کا وجود تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جائے، ایک دوسرے کی نفی کرنے سے روکا جائے اور مشترکہ طور پر کام کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے۔ اس کا عملی مظاہرہ میں نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ شکاگو میں دیکھا تھا کہ بہائی مذہب کے ایک بڑے سنٹر کے وسیع ہال میں ایک چھت کے نیچے مسجد، مندر، چرچ، گوردوارہ، یہودیوں کا معبد سینی گاگ، اور بدھوں کا عبادت خانہ بنائے گئے ہیں اور ہر مذہب کے پیروکاروں کو اجازت ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں آ کر اپنے طریقہ سے عبادت کریں۔ اسے تمام مذاہب کو سچا تسلیم کرنے اور مذاہب کے درمیان اشتراک و اتحاد سے تعبیر کیا گیا ہے، مگر میرے ذہن میں اسی وقت یہ سوال کھڑا ہو گیا تھا کہ توحید اور شرک کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنے کی کوشش کس حد تک خود فریبی کی بات ہے۔
آج ہم سے بھی اس حوالہ سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ ہم اسلام پر ضرور قائم رہیں، اس پر عمل بھی کریں اور اسے سچا مذہب قرار دیں لیکن دوسرے مذاہب کو غلط نہ کہیں، ان کی نفی نہ کریں اور انہیں باطل سے تعبیر نہ کریں۔ یہ بات قرآنی تعلیمات کے حوالہ سے کس حد تک قابل قبول ہے، آپ حضرات اہل دانش ہیں اس کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔ (جاری ہے)

