پچھلے دنوں ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی جو برسوں بعد لاہور آئے تھے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو کئی سال پہلے ان کے ساتھ پیش آیا تھا۔ کسی قریبی عزیز نے انہیں دھوکا دیا، بڑا نقصان کیا، رسوا کیا۔ میں نے پوچھا کہ اب کیسا محسوس ہوتا ہے؟ وہ مسکرائے اور بولے، یہ فائل میں نے بند کر دی ہے۔ میں نے دلچسپی سے پوچھا کیا مطلب؟ کہنے لگے، جو ختم ہوگیا، اسے ذہن کی یادداشت سے نکال دینا چاہیے، ورنہ پرانا غصہ نئی زندگی کھا جاتا ہے۔ بات چھوٹی سی تھی، مگر دل میں اتر گئی۔
صاحبو، ذرا سوچیں کہ جب موبائل کی میموری فل ہوجاتی ہے تو ہم کیا کرتے ہیں؟ فوری صفائی شروع ہوجاتی ہے، پرانی تصویریں ختم، غیر ضروری ویڈیو باہر، فضول ایپ ڈیلیٹ۔ منٹوں میں موبائل ہلکا ہوجاتا ہے، رفتار بہتر ہوجاتی ہے، کام میں آسانی ہوجاتی ہے۔ حیرت ہے کہ آج کی دنیا کے ہم انسان اپنے موبائل کی گیلری تو روز صاف کرتے ہیں، دل کے نہاں خانوں میں سالوں پرانی نفرتوں، رنجشوں اور بغض کا ملبہ جمع کرتے رہتے ہیں اور خود کو اندر سے بھاری اور بیمار کرتے چلے جاتے ہیں۔
ذہن میں چھپی الماری:
ہم میں سے بیشتر لوگ اپنے ذہن میں ایک الماری بنائے رکھتے ہیں جس کے مختلف خانوں میں برسوں پرانے گِلے، شکوے، ناراضی، تکلیفیں، بے عزتیاں، دھوکے، غصے اور کینے ترتیب سے سجائے ہوتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی نیا ناخوشگوار واقعہ ہو تو اسے بھی سنبھال کر وہیں رکھ دیتے ہیں۔ پھر رات کو تنہائی میں، کبھی کبھی بے وجہ، وہ الماری کھول لیتے ہیں اور ایک ایک چیز نکال کر پھر سے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ یہ الماری دراصل ہماری سب سے بڑی دشمن ہے۔
ماہرین نفسیات برسوں سے یہ بات کہتے آئے ہیں، مگر حال ہی میں سائنسی تحقیق نے اسے پوری طرح ثابت کر دیا ہے۔ جب انسان کسی پرانی شکایت یا ناراضی کو دل میں سنبھالے رکھتا ہے تو جسم اسے ایک حقیقی خطرہ سمجھ کر وہی ردعمل دیتا ہے جو کسی جسمانی حملے پر دیتا ہے۔ اسٹریس ہارمون بڑھ جاتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی اور پٹھے کھنچ جاتے ہیں۔ یعنی آپ ماضی کے کسی دشمن کو یاد کر کے اپنے جسم کو آج نقصان پہنچا رہے ہیں۔ غصہ اور انتقام کی خواہش بلڈ پریشر بڑھاتی ہے، نیند متاثر ہوتی ہے اور صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یوں دوسرے کا کچھ نہیں بگڑتا، اپنا ہی بگڑتا ہے۔
ایک پرانی کہاوت کا مفہوم ہے کہ کینہ رکھنا ایسے ہے جیسے آپ خود زہر پی کر دوسرے کے مرنے کا انتظار کریں۔ کتنی بڑی سچائی ہے اس میں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے معاف کرنے والوں کو بار بار سراہا ہے۔ یہ محض اخلاق کی درسگاہ کا سبق نہیں، یہ تو ہماری اپنی فلاح کا نسخہ ہے۔ معاف کرنا دوسرے پر احسان نہیں، خود پر مہربانی ہے۔ پانچ سات چیزیں ایسی ہیں جو ہر حال میں بھلانا سیکھنا ہوں گی۔ ان کے لیے ڈیلیٹ بٹن کا ہونا ضروری ہے، اگر نہیں تو لگوا لیں۔ کہاں سے؟ اس کا جواب آگے چل کر دیتا ہوں۔
کیا ڈیلیٹ کرنا چاہیے؟ وہ غصہ جو راتوں کو سونے نہیں دیتا۔ وہ کینہ جو آپ کی خوشی چراتا رہتا ہے۔ پرانی یادیں جو بار بار زخم کو تازہ کرتی ہیں۔ زہریلے لوگ جن کی یاد صرف زہر بن کر رہ گئی ہے۔ ناکامیوں پر خود کو بار بار کوستا رہنا۔ دوسروں سے غیر ضروری موازنہ اور حسد۔ یہ سب چیزیں ڈیلیٹ کرنا ہوں گی ہمیشہ کیلئے۔ تاریخ میں اس کی سب سے روشن مثال حضرت یوسف کی ہے۔ سیرت مبارکہ میں تو ایسی کئی جگمگاتی مثالیں موجود ہیں۔ بات لمبی ہوجائے گی ورنہ اسلامی تاریخ میں بہت سے واقعات موجود ہیں۔ دور جدید میں نیلسن منڈیا ایک شاندار مثال ہے۔ ستائیس سال قید کاٹی، رہا ہوا تو سوچا کہ اگر میں نے اپنی تلخی اور نفرت یہیں جیل میں نہ چھوڑی تو میں پھر بھی قید میں ہی رہوں گا۔ سوچیں ذرا، یہ کتنے بڑے دل کی بات ہے۔
دل کی ری سائیکل بِن:
ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم بظاہر معاف کر دیتے ہیں مگر بات دل کی ری سائیکل بِن میں رکھ چھوڑتے ہیں اور موقع ملتے ہی پھر سے نکال کر دل کے ڈرائنگ روم میں سجا لیتے ہیں۔ یاد ہے تم نے فلاں سال کیا کیا تھا؟ یہ معافی نہیں، یہ تو ہتھیار جمع کرنا ہے۔ سچی معافی وہ ہے جہاں سے فائل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، ری سائیکل بن یا ٹریش کین میں بھی نہ رہے۔
میں خود اپنی زندگی میں یہ کوشش کرتا ہوں کہ جو تکلیف دہ لمحہ تھا، جو ناخوشگوار واقعہ تھا، اسے دل کی اسکرین پر زیادہ دیر نہ ٹکنے دوں۔ کہاں تک کامیاب ہوا ہوں، یہ نہیں پتہ، مگر کوشش جاری ہے۔ بعض اوقات کوئی پرانی بات یاد دلا دیتا ہے یا کوئی چہرہ کہیں نظر آ جاتا ہے، تو وہ پرانا درد لمحے بھر کو تازہ ہو جاتا ہے۔ تب اپنے آپ سے کہتا ہوں، یہ فائل بند ہو چکی ہے۔
ایک فولڈر جو محفوظ رہنا چاہیے:
اس سب کے ساتھ یہ کہنا ضروری ہے کہ ہر چیز ڈیلیٹ نہیں کرنی چاہیے۔ زندگی میں ایک ایسا فولڈر بھی ہونا چاہیے، جہاں ہر چیز ہمیشہ کے لیے محفوظ اور تازہ رہے۔ وہاں اپنے ساتھ کئی گئی اچھائیاں، نیکیاں، بھلائیوں کو محفوظ کر دیں۔ یاد رکھیں احسان کو یاد رکھنا شرافت ہے اور تلخیوں کو مٹا دینا ظرف ہے۔ ظرف اور شرافت کا یہی توازن زندگی کو خوبصورت بناتا ہے۔ کسی کا وہ احسان جو مشکل گھڑی میں کام آیا، اپنے استاد کی وہ بات جس نے سوچ کا رخ بدل دیا، وہ دوست جس نے برے وقت میں ساتھ نہیں چھوڑا، وہ انجان جس نے ایک بار بے غرض مدد کی۔ یہ سب محفوظ رہنے چاہئیں۔ غلطیوں سے ملنے والے سبق بھی، کیونکہ تجربہ مٹانا نہیں، تکلیف مٹانی ہے۔ واقعہ جانے دینا ہے، سبق یاد رکھنا ہے۔
اپنی ذاتی جدوجہد اور ترقی کی کہانی بھی یاد رکھنا ہے۔ کیسے آپ نے اپنی قابلیت بڑھائی، نئی چیزیں سیکھیں، نئی مہارتیں حاصل کیں اور اپنے آپ کو قابل کیا۔ یہ سب یاد رکھنے و الی باتیں۔ اسی طرح مشکلات کے دوران جہاں آپ نے ہمت کا مظاہرہ کیا، یہ بھی یاد رکھیں، آئندہ کسی دوسری مشکل میں یہ تجربہ کام آئے گا۔
زہریلی یادوں سے بھری الماری کیسے صاف کی جائے؟
سچی بات یہ ہے کہ اس پہلو پر چند ایک باتیں تو میرے ذہن میں تھیں، باقیوں کے لییخاکسار کو ریسرچ کرنا پڑی۔ دو چار ریسرچ پیپرز بھی پڑھنے پڑے۔ ماہرین چند ایک مشورے دیتے ہیں، انہیں اپنے الفاظ میں آپ تک پہنچا رہا ہوں۔ مجھے تو یہ کام کی باتیں لگی ہیں، آپ ٹرائی کریں، ان شاء اللہ فائدہ ہوگا۔
معافی کا عمل: معافی سب سے طاقتور ذہنی ڈیلیٹ بٹن ہے۔ یہ نہ صرف دوسروں کو معاف کرنا ہے بلکہ خود کو بھی معاف کرنا ہے۔ (جاری ہے)

