ساتویں صدی میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کا ظہور ہوا تو عیسائیت نے اس نئے ابھرنے والے دینِ کو اپنا حریف تصور کرلیا اور کھل کر اس کے مدِمقابل آگئی۔ حالانکہ اگر وہ اس دین پر غور وتدبر کرتی تو اسے اپنے عقیدے سے بہت قریب پاتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یوں بھی کسی خاص قوم یا خطے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے تھے بلکہ تمام بنی نوع انسان ہی کے لئے رحمت للعالمین تھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نزول شدہ کتاب قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو بہت اچھے ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کے نام پر پوری ایک سورہ بھی نازل کی گئی ہے۔ عیسائی حضرات جس طرح بی بی مریم کو کنواری اور پاک مانتے ہیں، قرآن پاک نے اس سے بھی زیادہ انہیں پاکیزہ اور طاہرہ قرار دے کر یہودیوں کے غلط عقیدے پر بری طرح ضرب لگائی۔ اس لحاظ سے عیسائیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گونہ محبت ہونی چاہیے تھی لیکن اس نے ایک بالکل ہی دوسرا راستہ اختیار کیا۔ جنگ کا راستہ، مقابلے کا را ستہ، اور مٹا دینے کا راستہ۔
عیسائیت کا حال تب یہ تھا کہ اس بات پر وہ حیران تھی کہ جس مذہب نے رومن ایمپائر کی شکل میں دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکمرانی کی تھی، اسلام کی زد میں وہ خود کیسے آگئی؟ دنیا اس وقت دو بڑے کیمپوں میں بٹی ہوئی تھی۔ رومی سلطنت تھی یا پھر ایرانی بادشاہت۔ ہرقل روم نے ایرانی بادشاہت کو بھی میں آخرکار زیر کرلیا تھا لیکن عیسائیت کو اس بات کا بہرحال جواب نہیں مل پا رہا تھا کہ یہ مسلمان کیسے نئے فاتح تھے کہ بجائے زیر ہونے کے خود ابدی آقا (مسیحیت) کو بھی انہوں نے زیر کرنا شروع کر دیا تھا؟ یہودیوں کی تعداد چونکہ سدا سے کم رہی ہے، دنیا میں تب کوئی ایک ملک بھی انہیں حکمرانی کے لئے میسر نہ تھا، اس لئے عیسائیوں نے انہیں آسانی سے دبا لیا تھا لیکن مسلمان چونکہ ایک سیل رواں بنتے جا رہے تھے، اس لئے تلوار کے ذریعے انہیں زیر کرنا عیسائیوںکے لئے ممکن نہ رہا تھا۔
صلیبی جنگوں میں صلیبیوں نے اپنے سامنے ہمیشہ ہی سے دو مقاصد رکھے ہیں۔ اول مسلمانوں سے مفتوحہ علاقے واپس لے لیں اور نمبر دو پوری دنیا کو عیسائی بنا لیں۔ ان دونوں مقاصد کے لیے انہیں پروپیگنڈے، اشتعال انگیز تحریروں، تقریروں، اور خوفناک جنگوں کی ضرورت تھی جس کا انہوں نے بھرپور استعمال کیا۔ اسلحے کے بل پر مسلمانوں کو زیر کرنے کے لئے انہوں نے کئی بار صلیبی جنگوں کا سلسلہ چھیڑا جن میں انہیں جزوی کامیابی، مگر بالآخر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے تمام روم اور پھر فلسطین کو ارضِ مقدس قرار دیا اور ان کے حصول کی خاطر روا رکھی جانے والی جنگوں کو جنگ ِمقدس کا نام دیا۔ ان جنگوں میں عیسائیوں پر ہمیشہ مذہبی جنون طاری رہا۔ دور ونزدیک کے ہر ملک سے عیسائی، مسلمانوں کے خلاف کھنچے چلے آتے تھے۔ ان کے پادری اشتعال انگیز تقریریںکر کے اور حضرت عیسی و مریم کا حوالہ دے کے عوام کو اندھے مذہبی جنون میں مبتلا کرتے تھے۔ حالت یہ ہوگئی تھی کہ لوگ اپنے سینوں پرگرم لوہے سے صلیب کا نشا ن داغنے لگے اور جنگوں میں شرکت کے لیے جائیدادیں معمولی قیمتوں پر فروخت کرنے لگے۔ عورتیں، بچے، اور بوڑھے آگے آگے رواں دواں رہتے تاکہ جنگی افراد کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔
اس مقصد کے لئے انہوںنے اپنا گھر بار، وطن، خاندان، کھیت، کھلیان، اور زندگی کی ہر آسائش سے منہ موڑ لیا۔ ایک رومی پادریاربن ووم نے میں پورے زورِ خطابت کے ساتھ تقریریں شروع کیں جن میں عیسائیوں کو اسلامی خطرے کے خلا ف متحد ہو جانے اور ظالم صحرا نشینوں (عربوں اور مسلمانوں) کے مقابلے میں یروشلم کی حفاظت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دور میں عیسائیوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کے لئے جس قسم کی تقریریں کی جاتی تھیں، ان کے بعض نمونے ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
٭افسوس اے عالمِ مسیحیت، صد افسوس۔ دشمن یروشلم پر قابض ہوگیا ہے، مقدس صلیب کھوگئی ہے، اور ہماری فوج برباد ہوئی ہے۔ افسوس سمندر پار دجالی قوتیں برسراقتدار آ گئی ہیں، مشرق میں شیطان کے جھنڈے بلند ہو گئے ہیں اور مسلمانوں نے یروشلم کو پاما ل کر دیا ہے۔ (انجیل کی ایک عبارت۔ کتاب سلطان صلاح الدین ایوبی۔ از ہیرالڈلئیم، مترجم محمد یوسف عباسی۔ مشتاق بک کارنر۔ اردو بازار لاہور)
٭عیسائیوںکی شکست محض ان کے گناہوں اور بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر خلوص، دل سے دوبارہ جدوجہد کی جائے تو خدا کے فضل سے عیسائی کامیاب ہوں گے اور اس مقدس شہر پر صلیب کے پھریرے لہرائیں گے۔ جو سنگ وخشت کا مجموعہ نہیں بلکہ نجات، آخرت کو ذریعہ اور فلاح کا زینہ ہیں۔
٭ہم نے حلف اٹھایا ہے کہ جیتے جی یروشلم سے دستبردار نہ ہوں گے۔ ہم اپنے گھوڑوں اور مویشیوں کو ذبح کر دیں گے۔ سازو سامان کو جمع کرکے آگ لگا دیںگے۔ گرجوں، قربان گاہوں، تبر کات اور پارچہ جات کو نذر آتش اور عورتوں اور بچوں کو تہہ تیغ کر دیںگے۔ پھر ہمارے پادری اور سپاہی موت کو للکارتے ہوئے تم پر ٹوٹ پڑیںگے۔
٭افسوس ہے عیسائیوں پر، گناہ گاروں اور سرکشوں پر، افسوس ہے ان پر جنہوں نے اس عظمتِ جہاں یروشلم کو کھو دیا۔
٭تمہیںکیا پروا کہ دشمنانِ خدا ہماری تذلیل کریں۔ تمہیں ان کے طعنوں سے کیا واسطہ ؟ وہ ہمیں للکارتے ہیں، بلائو اب تمہارا خدا کہاں ہے؟ ہم نے تو تمہارے مقدس مقامات پامال کر دیے ہیں۔ ہم نے تو تمہارے اسلاف کے اکھاڑوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ ہمت ہے تو آئو اب مقابلے میں۔ ہم نے فرانسیسیوں کے نیزے توڑ دیے ہیں، انگریزوں کے دانت کھٹے کر دیے ہیں، جرمن بہادروں کو نیچا دکھا دیا ہے، اور ہسپانوی سورمائوں کو مار بھگا دیا ہے۔ اب بلائو تم کسے بلاتے ہو؟ ہم نے تمہاری عورتوں کو ایسا داغِ بیوگی دیا ہے کہ تمہارے گھروں سے اب سوگ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ہم نے تمہارے بچوں کو یتیم بناکر خوشیاں ہمیشہ کے لئے چھین لی ہیں۔
٭خدارا یروشلم کی مدد کرو۔ خداوند یسوع کے مقدس شہر میں ابدی نجات کی راہیں کھلی ہیں۔ آئو ابدی نجات کے طلبگاروآئو۔ صلیب کی حفاظت کے لئے جانیں لڑا دو۔ عیسائیت کے دشمنوں کو فنا کر دو۔
امریکی مصنف رون ڈیوڈ لکھتا ہے کہ ان تقریروں کے نتیجے میں مذہبی جذبات کے جوش میں اندھے ہوکر دانشور، رئوسا، سرکاری ذمے دار اور عام لوگ سب کے سب مل کر چلا اٹھے، شاید خدا کی مرضی یہی ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنے اسباب باندھنے شرو ع کر دیے۔ پوپ کی ہدایت پر ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ بڑے بڑے امیر خاندانوں کے بیٹے، جنہیں ورثے میں اپنے اپنے باپ کی زمینوں میںسے کچھ بھی نہ مل سکا تھا، صلیبی جنگوںکے نتیجے میں وہ بھی اپنے لئے فلسطین کی نئی جائیدادیں حاصل کرنے کے لئے خصوصی طور پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ یوں درباری امرا اور شہزادوں نے یروشلم کی طرف اپنا پہلا مارچ شروع کیا جس کی خاطر انہوں نے اپنے لمبے لباسوں پر سامنے کی طرف صلیبیں آویزاں کیں۔ آخرکار یہ صلیبی یروشلم پہنچ گئے۔ مقدس شہر پہنچ کر وہ خوشی سے اتنے دیوانے ہوئے کہ ان میں سے بیشتر لوگوںنے گھٹنوں کے بل پر جھک کر زمین کو بوسہ دیا اور بھیگی ہوئی آنکھوںکے ساتھ چیخنے لگے یروشلم، یروشلم۔ (ترجمہ کتاب قومیں جو دھوکا دیتی رہیں) (جاری ہے)

