اطلاعات کے مطابق ایران پر امریکی بمباری تیرھویں شب بھی جاری رہی ۔ امریکا کے بعد اب برطانیہ بھی اس جنگ میں حصہ دار بن چکا ہے۔ یوں امریکی اتحادیوں میں اضافے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے حسبِ سابق کویت، بحرین اور اردن جیسی عرب ریاستوں میں موجود چند امریکی اڈوں پر میزائل برسائے ہیں لیکن حیرت انگیز طورپر نہ ہی اسرائیل کو نشانہ بنایا گیاہے اور نہ ہی سمندروں میں موجود امریکی بحری بیڑوں کو۔ البتہ ایرانی حکام کی جانب سے دھمکیوں کا استعمال جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران پر جاری حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز اور سمندری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ بیان کے مطابق امریکا سمندری تجارت کو بحال رکھنا چاہتا ہے اور اس میں رکاوٹ بننے والی ایرانی قوت کو ختم کردیا جائے گا۔
اس امر میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ سرِ دست امریکا اور ایران کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کا اولین ہدف آبنائے ہرمزیا باالفاظِ دیگر آبی تجارتی گزرگا ہیں ہی ہیں۔ چوں کہ توانائی کی ترسیل انہی آبی گزرگا ہوں سے منسلک ہے اور ڈالر کی قیمت کا تعلق بھی تیل کی تجارت سے وابستہ ہے لہذاامریکا کسی بھی صورت آبی گزرگا ہوں پر کسی ایک علاقائی ریاست کا تسلط قبول نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب ایران خم ٹھوک کر آبنائے ہر مز پر اپنے حق کا دعوے دار ہی نہیں بلکہ وہ یہاں ٹول ٹیکس بھی نافذ کرنا چاہتاہے حالانکہ اصولی طورپر اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کیوں کہ اس آبنائے پر ایران کے علاوہ عمان کا حق بھی ہے اور یہ ایک بین الاقوامی سمندری گزرگا ہ بھی ہے جس پر کوئی ملک ٹول ٹیکس عائد نہیں کرسکتا۔ چوںکہ اسرائیل کے خلاف جنگ اب بند ہوچکی ہے اور سرِ دست یہ جنگ آبنائے ہرمز پر تسلط کے لیے لڑی جاری ہے لہذا اس معاملے کو مطلقاً عالمِ اسلام کے مفادات کے ساتھ وابستہ کرنا درست نہیں ۔عالم ِ اسلام کے مفاد یہاں فقط اتنا ہی ہے کہ مسلم ممالک اس جنگ کی لپیٹ میں نہ آئیں۔ ایران جس انداز میں عرب ریاستوں، ان کے بحری جہازوں اور اقتصادی وسائل کو نشانہ بنانے پر تلا ہوا ہے اور جس انداز میں اس نے سعودی عرب کے خلاف اپنی پراکسی یعنی حوثی ملیشیا کو متحر ک کردیاہے ، وہ اس امر کی دلیل ہے کہ ایرانی نظامِ حکومت میں بالادست انتہاپسند طبقہ بالخصوص پاسدارانِ انقلاب اس جنگ کو بڑھانے، پھیلانے اور اسے عالمِ عرب اور عالم ِ اسلا م کے لیے اذیت ناک بنانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ امریکا کو ایسا نقصان پہنچانے کی سکت نہیں رکھتے جس کے بعد امریکا اپنے اتحادیوں سمیت ایران کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی طلب کرنے لگ جائے۔ خطے میں جنگ کی آگ پھیلے گی تو مسلم ریاستیں ہی اس کی لپیٹ میں آئیں گی جیسا کہ حوثیوں نے سعودی عر ب کی تجارت اور اس کے پر امن شہروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔چوں کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بے شمار مفادات وابستہ ہیں لہذا ایرانی پراکسی کی یہ دھمکی بالواسطہ پاکستان کے لیے بھی ہے۔
اس سنگین صورت ِ حال میں افواجِ پاکستان کے سپہ سالار ،فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان کے لیے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کو تباہ کردیا جائے گا۔ یہ الفاظ واضح پیغام ہے کہ اگر ایران نے اس جنگ کو سعودی عرب تک پھیلانے کی کوشش کی یہاں پاکستان سابقہ رویے میں تبدیلی لانے پر مجبو رہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ایران کا موجودہ نظا مِ حکومت اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے۔ قبل ازیں اسے پاکستان کا غیر مشروط اور بے پایاں تعاون حاصل تھا لہذ ااسرائیل کے ساتھ تصادم کے موقع پر اس کی صفِ اول کی قیادت کے کام آجانے کے باوجود ایرانی نظامِ سیاست قائم رہا جو کہ اسرائیل اور امریکا دونوں کی شکست کے مترادف سمجھا گیا۔ اس دوران پاکستان کی پیہم کوششوں سے جنگ بندی ہوگئی اور مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا۔ یہ مذاکرات کامیابی سے ہم کنار ہوسکتے تھے لیکن اس موقع پر ایرانی قیادت غالبا ً ضرورت سے زیادہ خوش فہمی کا شکار ہوگئی۔ آبنائے ہرمز کو بلاوجہ تصادم کی وجہ بنا لیا گیا جبکہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ایران کو عالمی تجارت میں حصہ لینے سمیت متعدد اقتصادی فوائد ،امن اور تعمیر و ترقی کے مواقع حاصل ہوسکتے تھے۔ خود ایرانی قیادت کو بھی احساس ہے کہ جنگ کی طوالت اگر امریکا کے لیے اقتصادی نقصان کا سبب بن سکتی ہے تو خود ایران کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔ تیرہ دن کی مسلسل بمباری یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا ایران کے بنیادی ڈھانچے کو ملیا میٹ کررہاہے جس کی تعمیرِ نو میں شاید ایک دھائی کا عرصہ لگ جائے گا۔ امریکا کے ساتھ برطانیہ بھی جنگ میں شراکت دار بن گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شراکت برطانیہ کو مہنگی بھی پڑ سکتی ہے لیکن جنگ میں اترنے کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتاہے کہ عالمی سطح پر ایران کے تیل اور توانائی کے ذخائر کی بندر بانٹ پر اتفاق کرلیا گیااور امریکی اتحادیوںکو یقین ہوچکاہے کہ یہ دولت ان کے ہاتھ آنے والی ہے۔ جنگ کو طویل کرنے اور جغرافیائی وسعت دینے کے لیے ایران نے اپنی پراکسی کو حرکت دے دی ہے تاہم دوسری جانب یمن کے قبائل مسلح اور متحد ہو کر حوثیوں کے خلاف میدان میں اترنے کا اعلان کرچکے ہیں۔یہ صورتِ حال ماضی سے مختلف ہے۔ حوثیوں کو سعودی عرب کے ساتھ جنگ شروع کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا ہوگا کہ اب ان کا سامنا یمن کے عوام، قبائل کی مشترکہ لشکر،یمن کی فوج اور پاک،سعودی اتحاد کا سامنا ہوگا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پاکستان نے اپنی سمندری حدود میں بحریہ کو متحرک کردیا ہے۔ اگر ایرانی پراکسی نے پاکستان یا سعودی عرب کے مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو جنگ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا۔
یہ امر محتاجِ بیان نہیں کہ پاکستان گزشتہ پچاس برسوں سے جنگی حالات کا سامنا کررہاہے ۔ اسے جنگو ں کا وسیع تجربہ ہے لہذا ایرانی قیادت کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ پاکستان کو نظر انداز نہ کرے۔ آبنائے ہرمز یا باب المندب پر ایران کا تسلط خود مسلم دنیا کو بھی قبول نہیںہے۔ ایران کو عالم ِ اسلام کے موقف پر توجہ دینا چاہیے ۔ ایرانی قیادت اقوام متحد ہ سے جنگ بندی کی اپیل کررہی ہے لیکن یہ لایعنی عمل ہے۔ امریکا کے مقابلے میں اقوامِ متحدہ کا کارڈ فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اس کے بالمقابل پاکستان کے ذریعے مصالحت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اسی کو از سرِ نو شروع کرنا چاہیے۔ ایرانی قیادت انتہا پسند وں کے ہاتھوں یرغمال بن کر بہت کچھ کھو چکی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بننے کی بجائے ایرانی قیادت اپنے عوام کے تحفظ کو ترجیح دے۔ موجودہ جنگیں میزائل سے لے کر معیشت تک پھیل چکی ہیں اور خلاؤں تک لڑی جارہی ہیں۔ تہذیبی قدامت پسندی ،گروہی انا اور قومی شجاعت ان جنگوں میں کامیابی کا واحد وسیلہ نہیں رہیں۔
