غزہ،اقوام متحدہ دفتر پرصہیونی دھاوا،حملوں میں9شہید،120گرفتار

غزہ/تل ابیب/ابوظہبی/برلن/واشنگٹن:مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کا اقوام متحدہ دفتر پر دھاوا،عملے کو حراست میں لے لیا،صہیونی حملوں میں9شہید،36زخمی،کریک ڈائون تیز،120 افرادکوگرفتارکرلیا گیا۔آبادکاروں کی مزید2مساجد کو نذرآتش کرنے کی کوشش ناکام۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے دفتر پر دھاوابول دیا،اس دوران صہیونی فورسز نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور دستی بموں سے بھی حملہ کیا،کارروائی کے دوران عملے کو بھی حراست میں لے لیا۔

ادھرقابض اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے، جارحانہ جنگ کے خاتمے اور نسل کشی کے مکروہ جرم کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ وسیع پیمانے پر میدانی کشیدگی کے ساتھ مسلسل 291 ویں روز بھی جاری رہا۔

قابض فوج نے متعدد علاقوں میں توپ خانے سے بمباری اور فائرنگ کی کارروائیاں انجام دیں۔اسرائیلی جنگی بحری جہازوں نے غزہ شہر کے ساحل کی سمت اندھا دھند گولیاں برسائیں جبکہ اسی دوران شہر کے مشرقی علاقوں کو توپ خانے کی شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

جنوبی غزہ پٹی میں خان یونس شہر کے جنوب میں توپ خانے سے گولے برسائے گئے اور ساتھ ہی رفح شہر کے شمال مغربی علاقے کی سمت قابض اسرائیلی ٹینکوں کی طرف سے شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

قابض فوج کے جنگی طیاروں نے صلاح الدین روڈ پر شجاعیہ چوک کے قریب واقع ایک رہائشی عمارت پر کم از کم دو میزائل داغے جس کے نتیجے میں وہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے اعلان کیاہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں 9 فلسطینی شہداء کی لاشیں اور 36 زخمی لائے گئے۔

دریں اثناء مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی باشندوں کے خلاف کریک ڈان بھی تیزکردیا اور120 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ، دوسری طرف یہودی آباد کاروں نے بھی مقامی مسلمانوں پر حملے تیز کر دیے ۔

عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جارحانہ کریک ڈائون شروع کرتے ہوئے کئی قصبوں اور دیہاتوں پر دھاوا بولا۔اسرائیلی فوج نے یہ اقدام یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث نابلس کے قریب ایک گائوں میں فائرنگ کے تبادلے کے جواب میں کیا جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔

یہودی آباد کاروں نے مزید دو مساجد کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی جن میں سے ایک نابلس کے جنوب مشرق میں واقع قصبہ قصرہ میں نئی تعمیر کردہ الرحمہ مسجد تھی۔

علاوہ ازیںدرجنوں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے ایک بار پھر پیر کی صبح مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی پولیس اور اس کے اسپیشل فورسز کے دستوں کی طرف سے فراہم کردہ سخت سیکورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بول کر ان کی بے حرمتی کی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق134یہودی آباد کاروں نے قابض فوج کے سخت پہرے میں باب المغاربہ کے راستے صبح کے اوقات میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا۔یہودی آباد کاروں نے گروہوں کی شکل میں مسجد میں گھس کر اس کے صحنوں میں گشت کیا اور قبہ صخرہ کے بالمقابل مسجد کے مشرقی حصے میں نام نہاد ”ہیکل” کے بارے میں بریفنگ لی اور تلمودی رسومات بھی ادا کیں۔

دوسری جانب اسرائیلی سیکورٹی کابینہ نے غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کو داخلے کی اجازت دے دی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سیکورٹی کابینہ نے قانونی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بین الاقوامی فورس کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

عہدیدار کے مطابق اس مشن کو ”انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس” کا نام دیا گیا ہے جس میں تقریباً 200 اہلکار شامل ہوں گے جو یوگنڈا اور مراکش جیسے دوست ممالک سے آئیں گے۔ یہ اہلکار ان علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے جو اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں جبکہ ہر دستے کے داخلے کے لیے اسرائیل کی علیحدہ منظوری درکار ہوگی تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ فورس کب تعینات کی جائے گی۔

ادھرفلسطینی اتھارٹی نے حالیہ کشیدگی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے تناظر میں عالمی برادری کو ایک ہنگامی میمورنڈم ارسال کیا ہے جس میں اسے فوری روکنے کیلئے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارتِ خارجہ نے صدر محمود عباس کی ہدایت پر دنیا بھر کی حکومتوں، پارلیمانوں اور بین الاقوامی اداروں کو یہ مراسلہ بھیجا۔فلسطینی اتھارٹی نے موقف اختیار کیا کہ مقبوضہ علاقوں خصوصاً مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے فلسطینی شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

مراسلے میں مطالبہ کیا گیا کہ عالمی برادری فوری مداخلت کرے، فلسطینی شہریوں کے لیے بین الاقوامی تحفظ یقینی بنائے اور ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔سینکڑوں سابق اسرائیلی سیکورٹی اہلکاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی دہشت گردی کو روکنے کے لیے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر دبائو ڈالیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق اسرائیلی حکام نے متنبہ کیاکہ آبادکاروں کی طرف سے بڑھتے ہوئے تشدد سے اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں امریکی مفادات دونوں کو خطرہ ہے۔یہ اپیل اسرائیلی فوج، شن بیٹ ڈومیسٹک سیکورٹی ایجنسی، موساد انٹیلی جنس سروس، پولیس اور ڈپلومیٹک کور کے تقریباً 600 ریٹائرڈ اہلکاروں کے ایک گروپ کی طرف سے ایک خط میں سامنے آئی ۔

خط پر گروپ کی جانب سے اسرائیل کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف ماتن ولنائی نے دستخط کیے ہیں۔ادھرمتحدہ عرب امارات نے مغربی کنارے میں مساجد کو نذر آتش کیے جانے اور فلسطینیوں پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کر دی۔

اماراتی حکومت نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت کو مساجد پر حملوں کا ذمے دار قراردے دیا۔متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کہاکہ اسرائیلیوں کی جانب سے مساجد پر حملے مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی کی عکاسی کرتے ہیں۔عرب امارات نے مطالبہ کیا کہ حملوں میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی فوجی فرینڈلی فائر کے واقعے میں ہلاک ہو گیا۔ اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق اسرائیلی فوجی یووال عذر اپنی ہی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر مارا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے بعد سے مغربی کنارے کی صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وسطی غزہ میں حملوں میں حماس کے کمانڈر حمام عید کو شہید کردیا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ وسطی غزہ میں ایک حملے میں حماس کے رہنما کو شہید کیا گیا جن کی شناخت حمام عید کے نام سے ہوئی اور وہ ڈرونز بنانے کے ذمہ دار تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ حماس کے کمانڈر مزاحمتی تحریک کی فضائی صلاحیت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

حماس کے رہنما محمود مرداوی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شمالی مغربی کنارے کے نابلس اور طولکرم کے اضلاع میں یہودی آباد کاروں کے غنڈہ گرد گروہوں کی طرف سے دو مساجد کو نذرِ آتش کیا جانا ایک منظم فاشسٹ جرم اور اسلامی مقدسات کی کھلی پامالی ہے۔

انہوں نے اس بات پر سختی سے انتباہ کیا کہ ان حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔محمود مرداوی نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی نابلس کے قصبہ قصرہ میں مسجد الرحمت اور طولکرم کے جنوب میں واقع گاؤں کور کی مسجد کو جلایا جانا ایک گھناؤنا حملہ اور تمام دینی، اخلاقی اور انسانی اقدار کی کھلی دھجیاں اڑانا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی صورتحال پر تشویش کے باوجود جرمنی نے اسرائیل کو اسلحہ برآمدات میں اضافہ کردیا ہے۔عرب میڈیا نے دعویٰ کیا کہ جرمنی نے اسرائیل کو 80 کروڑ یورو مالیت کے اسلحہ برآمدی لائسنس جاری کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2026ء کے ابتدائی پانچ ماہ میں اسرائیل کو جرمن اسلحہ برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 20 ماہ کے مجموعی حجم سے بھی زیادہ ہے۔عرب میڈیا کے مطابق غزہ جنگ کے تناظر میں جرمنی میں اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے تاہم اس کے باوجود برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

ادھر امریکا کے سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ کی صورتحال کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے امریکا اس میں برابر کا شریک ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ امریکا نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی، اسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات ہونے کے باوجود امریکا نے اس کی مدد کی، جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں اور پیش قدمی جاری رکھی۔

اپنے بیان میں برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل اب غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے، امریکی عوام اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، کانگریس عوامی رائے کا احترام کرے اور اسرائیل کو فوجی امداد فوری طور پر روک دے۔