امریکی ذرائع اور ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی تنصیب پر بیلسٹک میزائل داغا گیا۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کے گرداب میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی، میزائل حملوں کے دعوے، جوابی کارروائیاں اور ایک دوسرے پر الزامات نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔تازہ پیشرفت کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں موجود ایک امریکی فوجی تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات صرف دو ممالک کے درمیان اختلافات تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ماضی کا تجربہ شاہد ہے کہ بڑی طاقتوں کی پالیسیاں، کہہ مکرنیاں اور معاہدوں پر عمل درآمد میں تاخیر اکثر ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے جہاں مذاکرات کی جگہ طاقت کا استعمال لے لیتا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکا نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، امریکی صدر اپنے دستخط کو کوئی وقعت نہیں دیتے، امریکا نے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی اور خطے میں دباؤ کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے بعد وہ مزید مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتے۔ دوسری جانب امریکا ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور علاقائی عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے اور ایران کی طرح ہی امریکی صدر بھی مسلسل ایران پر نا قابل اعتبار ہونے اور وعدوں سے پھرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ یہی باہمی بداعتمادی آج اس خطرناک مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر ایران نے امریکی اہداف کے نام پر خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے کی پالیسی دوبارہ اختیار کی تو اس کے نتائج دور دور تک اپنے اثرات مرتب کریں گے۔ خاص طور پر سعودی عرب پر حملے پاکستان کو بھی شریک جنگ ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ فوجی معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت سعودیہ کا دفاع پاکستان کا دفاع ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی، برادرانہ اور روحانی کے ساتھ دفاعی و فوجی معاہدے میں بھی بندھ چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی و فاعی تعاون کا معاہدہ عمل میں آچکا ہے، جس کے تحت کسی بھی بیرونی حملے اور جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع ناگریز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی کہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جائے اور کسی ایسے تصادم سے بچا جائے جس میں مسلم ممالک ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو جائیں اور پاکستان کو بھی ثالث بالخیر کی بجائے فریق کے طور پر منظر میں شامل ہونا پڑے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ وہ مسلم دنیا میں تنازعات کو بات چیت، سفارت کاری اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے، اس کے برعکس کچھ مسلم ممالک اپنے مفاد کیلئے آپس میں کھنڈٹ اور پھوٹ کو ہوا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ مشرق وسطیٰ کی کوئی جنگ ایک ایسے مرحلے تک پہنچے جہاں اسے اپنے دوست ممالک کے دفاع اور علاقائی ذمہ داریوں کے درمیان مشکل فیصلے کرنا پڑیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی حملے کے اثرات صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج کے امن اور استحکام کا براہ راست تعلق پاکستان سمیت کئی ممالک کے معاشی اور سفارتی مفادات سے ہے۔ تیل کی ترسیل، سمندری راستے، بیرون ملک پاکستانیوں کا روزگار اور علاقائی تجارت سب اسی امن سے وابستہ ہیں، ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خطے کے مسلم ممالک کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت دانش مندانہ حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔
ایران اگر خود کو ایک مضبوط علاقائی طاقت سمجھتا ہے تو اسے اسلحے کی طاقت کے ساتھ ساتھ اعصاب کی مضبوطی، سیاسی بصیرت، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ جذباتی فیصلے وقتی اطمینان تو دے سکتے ہیں مگر طویل مدت میں مزید تنہائی اور مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح امریکا پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں اپنے کردار کا جائزہ لے۔ وہ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف دباؤ اور پابندیوں کا راستہ اختیار کرتا ہے، بلکہ اب تو اس نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ بمباریاں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں، جو نہایت غیر دانشمندانہ طرز عمل اور کھلی غنڈا گردی ہے۔ پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کی جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو کشیدگی میں اضافہ کریں۔ مزید محاذ کھولنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ ایران نے شام پر بھی حملے کیے ہیں، حالانکہ شام کے النتف اڈے سے امریکی فوج انخلا کرچکی ہے، اس کے باوجود شام پر حملے ثابت کرتے ہیں کہ ایران کے سخت گیر عناصر کا مقصد کچھ اور ہے۔ وہ اگر واقعی امریکی اہداف کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو نشانہ بنانے سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے؟ اسرائیل تو خطے میں امریکا کا سب سے بڑا اڈا اور ایک ناجائز قابض گروہ ہے۔
شام اور سعودی عرب پر حملے مسلم دنیا کے اندر تقسیم پیدا کر سکتے ہیں اور ایسا ہوا تو یہ امریکی سامراج اور اسرائیلی قابض گروہ کی سب سے بڑی خدمت ہوگی اور انہیں کا کام اس سے آسان ہوگا اور مسلم امہ کیلئے یہ نہایت بھیانک صورتحال ہوگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب اس طرح کی کشمکش میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جذبات شامل ہو جائیں تو نقصان نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران، امریکا، سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک اشتعال انگیزی کی بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کی ماں ہے۔ طاقت کا مظاہرہ صرف تباہی لاتے ہیں، جبکہ مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ایران کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے فیصلوں میں تحمل کا مظاہرہ کرے اور مسلم ممالک کے ساتھ تصادم سے حتی الامکان گریز کرے۔ اگر عقل، حکمت اور تدبر سے کام نہ لیا گیا تو یہ آگ صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

