ایرانی قیادت ہوشمندی کا مظاہرہ کرے

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا تو اسے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایران کے دیگر اعلیٰ حکا م کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی تنبیہات جاری کی گئی ہیں جن میں امریکا کو بطورِ خاص خبردار کیا گیاہے لیکن ساتھ ہی علاقائی ممالک کے لیے بھی بین السطور دھمکیاں دی گئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے ایران کو باور کروایا گیاہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ایران کو بہت مہنگی پڑیں گی۔ مزید ہلاکتوں کی صورت میں ایران کے جوہری پروگرام کو تہس نہس کردیا جائے گا جبکہ بنیادی ڈھانچے بالخصوص توانائی کے مراکز اور پُلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع اور اپنے عوام کی سلامتی کا تحفظ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وضاحت جاری کی گئی ہے کہ باب المندب کی بندش، سعودی شہروں یا پاکستانی اور سعودی تجارتی جہازوں پر حملہ ناقابلِ قبول ہوگا اور اگر کسی پراکسی، شدت پسند گروہ یا ملیشیانے ایسی حرکت کی تو اسے پاکستان کے جوابی اقدام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان نے یہ اعلان ایسے وقت کیاہے کہ ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہوچکاہے جبکہ اس کے بالمقابل امریکی صدر ٹرمپ نے غیر مبہم الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کا موقع نہیں دے گا۔

خطے کی صورت حال پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس وقت طاقت کے ذریعے سیاسی، تجارتی، معاشی اور اقتصادی مفادات کے حصول، تزویراتی اہدف پر دسترس اور سیاسی تبدیلیوں کی کشمکش کا عمل عروج پر پہنچ چکاہے۔ پاکستان جوکہ چند دن پہلے تک ایران، امریکا جنگ بندی معاہدے کے لیے نہایت سرگرم تھا، یکایک اس معاملے سے قدرے پہلو تہی کرتا دکھائی دیتاہے۔ پاکستان کے سفارتی بیانات سے اجاگر ہوتاہے کہ اس کا جھکاؤمکمل طورپر سعودی عرب کی جانب ہوچکا ہے اورایرانی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے تحفظ اور سلامتی کے لیے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروہ کو سنگین نتائج سے خبردار کیا گیاہے۔ فی الواقع ایران کے انقلابی گروہ نے امن کی خاطر کی جانے والی کاشوں کو خاک میں ملا کر دراصل ایران کے کروڑوں عوام ہی پر ظلم کیا ہے۔ یہ امر یقینی ہے کہ ایران بزعم ِ خود خطے میں اجارہ داری کے لاکھ دعوے کرے لیکن وہ نہ تو علاقائی ممالک کے ساتھ تصادم کا متحمل ہے اور نہ ہی وہ امریکا کو شکست سے دوچار کرنے اور علاقے سے زبردستی نکالنے کی طاقت رکھتاہے۔ اس کے باوجود ایران کی جانب اپنے ہی مطالبات پر اصرار، مذاکرات سے انحراف، بار بارقوت آزمائی کی کوششیں اور طاقت کا اظہار دراصل جنگ کو اپنے حق میں دکھانے کے بہانے اور بیانیے کی جنگ جیتنے کے حربے ہیں، اس کے سوا ایران کو اس کھیل سے کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ ایک بڑی جنگ کا سامنا کرنے کے باوجود علاقائی ممالک کو دبے اور کھلے لفظوں میں دھمکیاں دینا کسی طور قرینِ دانش نہیں ہے۔ پاکستان کی کوششوں کو غیر مؤثر کرنے کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو معطل کرنے کے عزائم علاقائی ممالک کوچیلنج دینے کے مترادف ہیں۔

باقر قالیباف امریکا کویہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ایران کو اس جنگ میں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی تو بھی وہ ایسے حالات پیدا کردے گا کہ جو کہ امریکا اور علاقائی ممالک کے مفادات کے خلاف ہوں گے۔ پٹرولیم کی قلت کی دھمکی اسی جانب اشارہ ہے۔ اس بیان میں بین السطور تیل کے ذخائر رکھنے والے تمام علاقائی ممالک کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی جارہی ہے جیسا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بحری گھیراؤ کے اعلانات سامنے آئے ہیں۔ یہ امر یقینی ہے کہ اگر ایرانی پشت پناہی کی وجہ سے حوثیوں نے سعود ی مفادات یا پاکستان کے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی غلطی کی تو جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوجائے گی۔پاکستان نے اب اتک اس جنگ میں غیر جانب دار رہ کر ثالثی کی کوششیں کی ہیں اور ایران کو ایک بڑی جنگ اور تباہی سے بچانے کے لیے مسلسل تگ و دو کی ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے کچھ مخصوص طبقات کو ناقابل تسخیر ہونے کی خوش فہمی ہے اور وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مخلصانہ مشوروں اور مصالحتی کوششوں کوناکام بناکر وہ پوری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔خدشہ یہ ہے کہ یہ خوش فہمی اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کہیں ایران کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار نہ کردے۔ اس وقت زمین، فضا اور سمندروں میںامریکی افواج کی نقل و حرکت جاری ہے۔ جاری جھڑپیں اور حملے کسی بھی وقت ایک خوف ناک تصام میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ بظاہر امریکی افواج کا ہدف ایران کے تیل اور گیس کے کنوؤں یا تیل پیدا کرنے والے کارخانوں پر دسترس اور آبی گزرگا ہوں پر تسلط حاصل کرنا ہے۔ اسرائیل کو نظر انداز اور عرب ریاستوں کو ہدف بنا کر اور پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن کر ایران اپنی عالمی حمایت کھوتا جارہاہے۔ آنے والے عرصے میں یہ جنگ سمندری راستوں بالخصوص آبنائے ہرمز اور باب المندب سے آگے بڑھ کر خلیج فارس تا بحرِ احمرپھیلتی نظر آرہی ہے۔ ان حالات میں عالمی سفارت کاری اور پروپیگنڈے کی جنگ میں بھی شدت پیدا ہوگی اور ہر فریق اس بات کے لیے کوشاں ہوگا کہ اس کا بیانیہ عالمی سطح پر زیادہ قبولیت حاصل کرسکے۔

اس وسیع تر جنگ کا دائرہ پھیل جانے اور سعودی عرب جیسے دوست ملک کے حملوں کی زد میں آنے کے بعد وطنِ عزیز پاکستان کو معاہدے کے مطابق ناگزیر طور پرسعودی عرب کی حمایت میں میدان میں آنا پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایرانی انتہا پسندوں کابیانیہ ہی غالب رہا اورایران کی جانب سے امریکا کا غصہ اسرائیل کی بجائے عرب ممالک پر اتارنے کا سلسلہ جاری رہا تو اب تک صبر و ضبط سے کام لینے والے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کو بھی اپنے دفاع کے لیے جوابی کاررائی کرنے سے نہیں روکا جاسکے گا اور ایسی صورت میں پاکستان بھی سعودی عرب کی مدد کرنے کا پابند ہوگا۔اس موقع پر ایرانی کی سیاسی قیادت کو ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر غور وفکر سے کام لینا چاہیے اور انتہا پسند سخت گیر عناصر کو پوری دنیا سے مخاصمت مول لینے اور جنگ کی آگ پر تیل ڈالنے سے باز رکھنا چاہیے۔