یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے دو تیل بردار جہازوںکو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کیخلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ حوثیوں کا یہ اعلان سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی طرف سے یمن کے صنعا ہوائی اڈے پر بمباری کے ردعمل میں سامنے آیا تھا۔اس واقعے کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی باغیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور یہ علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔
پاکستان اور عالمِ اسلام ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں جذبات، طاقت، سفارت کاری اور عسکری حکمتِ عملی ایک دوسرے سے اس طرح گتھم گتھا ہوچکے ہیں کہ کسی بھی غلط فیصلے کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر میں سعودی اہداف پر حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے اسی خطرناک سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں۔ اگرچہ حملے میں جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس واقعے نے یہ واضح کردیا ہے کہ خطہ ایک مرتبہ پھر ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے عالمِ اسلام کیلئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کیخلاف کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی عرب کو حوثیوں کے میزائل حملوں، ڈرون حملوں، سرحدی دراندازیوں اور بحری خطرات کا سامنا ہے۔ ان تمام برسوں میں حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں، جدید ہتھیاروں، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون نظام اور انٹیلی جنس معاونت کے پیچھے ایرانی مدد موجود رہی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ حوثیوں کی تمام تر فوجی قوت ایرانی تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستیں ایران کو اس بحران کا بنیادی محرک تصور کرتی ہیں۔
دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ حالیہ عرصے میں ایران خود امریکا اور اسرائیل کے ساتھ شدید کشیدگی اور عسکری دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور خود سعودی عرب سمیت تمام عالمِ اسلام نے ایران کے ساتھ ہمدردی جتائی ہے اور اس کی ماضی کی تمام تر جنایت کاریوں کو بھلا کر اخلاقی طور پر اس کا ساتھ دیا ہے اور حمایت دکھائی ہے، تاہم یہ پہلو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ بحران سے پہلے کئی برسوں تک ایران نے خطے میں مختلف مسلح گروہوں اور پراکسی تنظیموں کی سرپرستی کے ذریعے اپنے فرقہ ورانہ سیاسی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی بھرپور سعی کی۔ عراق، شام، لبنان، یمن اور بعض دیگر مقامات پر ایرانی پالیسیوں نے خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کیں، جن کے نتیجے میں سیاسی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ انہی حالات کے تناظر میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے برسوں قبل ”شیعہ ہلال” یا ہلال اسود کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات نئے جغرافیائی اور سیاسی بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایران پر حالیہ بیرونی حملوں کے بعد مسلم دنیا کے ایک بڑے طبقے نے اختلافات اور ایران کی ماضی کی ان مذموم دسیسہ کاریوں کو پسِ پشت ڈال کر اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ یہ ایک فطری ردعمل تھا کیونکہ بیرونی جارحیت کسی بھی ملک کیخلاف ہو، اس کی مخالفت کی جاتی ہے، جس کا تقاضا یہ تھا کہ ایران بھی اس کی لاج رکھتا اور اپنے پراکیسز کے کھیل کا باب بند کردیتا، مگر ایسا نہ ہوسکا اور اس نے ایسا لگتا ہے کہ ہمدردی کی فضا کی آڑ میں ایک بار پھر پرانا کھیل شروع کرنے کی ٹھانی ہے، یہی وجہ ہے کہ حوثی ایک بار پھر سرزمین حرمین کیخلاف اپنی مذموم کارروائیوں کا آغاز کرچکے ہیں۔
مگر حوثیوں اور ان کے پشت پناہ ایرانی سخت گیر عناصر کو سمجھنا ہوگا کہ خطے میں دوبارہ پراکسی تصادم کو ہوا دی گئی، تو اس سے سب سے زیادہ نقصان خود مسلم دنیا کو ہوگا۔ یمن میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف نئی کارروائیاں اسی خدشے کو تقویت دیتی ہیں کہ کہیں خطہ دوبارہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی طرف نہ دھکیل دیا جائے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی، مذہبی، سیاسی اور دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا میں اتحاد، مفاہمت اور تنازعات کے پرامن حل کا داعی رہا ہے، چنانچہ پاکستان حوثیوں کی بدترین اشتعال انگیزیوں کے باوجود کوشش کر رہا ہے کہ ایسے باقاعدہ فوجی تصادم کی نوبت نہ آئے، جس میں اسے بھی شریک ہونے پر مجبور ہونا پڑے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ترکیہ نے بھی حوثیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں حملے جاری رہے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ اگر خطے کی بڑی مسلم ریاستیں اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے پر مجبور ہوئیں تو اس کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایسی صورت میں جنگ کا دائرہ یمن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خلیج، عراق، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصے بھی لپیٹ میں آسکتے ہیں، جس سے امتِ مسلمہ کی مجموعی قوت کمزور ہوگی جبکہ اس کا فائدہ صرف ان قوتوں کو پہنچے گا جو پہلے ہی خطے میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اپنی علاقائی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہر ایسے اقدام سے گریز کرے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے۔ اگر اس کے اثر و رسوخ میں موجود گروہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لے جا سکتے ہیں تو دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں تحمل، صبر اور سیاسی حل کی طرف راغب کیا جائے۔ اسی طرح حوثیوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سعودی عرب کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ ان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی طرزِ عمل مستقبل میں بھی خطے کے مفاد میں ہوگا۔ جنگ کا آغاز آسان، لیکن اس کا اختتام ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام متعلقہ فریق جذبات کی بجائے تدبر سے کام لیں، اشتعال کی بجائے تحمل کو اختیار کریں۔ سرزمین حرمین شریفین کا امن، خطے کا استحکام اور امتِ مسلمہ کا اتحاد ہر سیاسی یا عسکری مہم جوئی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

